کائنات میں حضورﷺسے بڑی نعمتِ اِلٰہیہ کا تصور بھی محال :عالمہ الفت جہاں امجدی

0 31

لکھن¶۔17نومبر (پرےس رلےز)آل انڈیا علماءومشائخ بورڈ(لکھنو¿)کے زیر اہتمام خواتین اسلام کی بیداری کے لئے کوشاں تحریکی، تنظیمی اور تبلیغی اجتماع برائے اسلامی خواتین کے ذریعہ جشن عیدمیلادالنبی کے موقع پر ایک جلسہ کاانعقاد بورڈ (نظرباغ)کے صوبائی دفتر میں عالمہ الفت جہاں امجدی کی صدارت میں ہوا۔ پروگرام کے دوران نشاط ادریسی (حضرت گنج)نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و کمالات کی معرفت ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت میں اِضافہ کا محرک بنتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر ایمان کا پہلا بنیادی تقاضا ہے۔ بی بی نازیہ خاتون(قیصر باغ) نے کہا میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا، محافلِ ذکر و نعت کا انعقاد کرنا اور کھانے کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری کے سب سے نمایاں مظاہر میں سے ہے۔ صدارتی خطاب میں عالمہ الفت جہاں (صدروومن ونگس AIUMBلکھنو¿)نے کہا اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لیے مبعوث فرما کر ہمیں اپنے بے پایاں احسانات و عنایات اور نوازشات کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس احسانِ عظیم کو جتلایا ہے۔جس طرح ماہِ رمضان المبارک کو اللہ رب العزت نے قرآن حکیم کی عظمت و شان کے طفیل دیگر تمام مہینوں پر امتیاز عطا فرمایا ہے اُسی طرح ماہ ربیع الاول کے اِمتیاز اور اِنفرادیت کی وجہ بھی اس میں صاحبِ قرآن کی تشریف آوری ہے۔ یہ ماہ مبارک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے صدقے جملہ مہینوں پر نمایاں فضیلت اور امتیاز کا حامل ہے۔ مزید انہوںنے کہا کہ اس کائناتِ اَرضی میں ایک مومن کے لیے سب سے بڑی خوشی اِس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہِ ولادت آئے تو اسے یوں محسوس ہونے لگے کہ کائنات کی ساری خوشیاں ہیچ ہیں اور اس لیے میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی ہی حقیقی خوشی ہے۔