ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم کے باہر دہلی فساد کے خلاف مظاہرہ مودی کے بنگلہ دیش آمد کے موقع پر احتجاج کرنے کا اعلان

کلکتہ/ڈھاکہ 27فروری (یواین آئی)دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آج بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے بیت المکرم مسجد کے باہرمختلف اسلامی تنظیموں کے حامیوں نے مظاہرہ کیا۔اس موقع پر ہندوستانی سفارت خانے کے باہر سیکور ٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بیت المکرم مسجد بنگلہ دیش کی قومی مسجد ہے۔کل ہی مختلف تنظیموں نے جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔حفاظت الاسلام نامی تنظیم اس احتجاج کی قیادت کررہے تھے۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی بنگلہ دیش شیخ مجیب الرحمن کے یو م پیدائش پر منعقد تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کیو ں مدعو کیا ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ نریندر مودی کو بنگلہ دیش کو داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔دوسری جانب بنگلہ دیش کی مختلف تنظیمو ں نے شیخ حسینہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مودی کو دی گئی دعوت واپس لیں۔بنگلہ دیش کی مختلف تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے الزام عاید کیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت ہند اقلیتوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔وزیر اعظم مودی 17-18مارچ کو بنگلہ دیش میں ہوں گے۔بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کے صدسالہ یوم پیدائش کے موقع پر منعقد 17مارچ کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی شریک ہوں گے۔جمعرات کے موقع پر منعقد شیخ مجیب الرحمن کے یوم پیدائش کے موقع پر منعقد تقریب وزیر اعظم نریندر مود ی کو مدعوکرنا ہے شیخ مجیب کی توہین ہے۔ڈھاکہ پریس کلب میں دیش بچاؤ مانش بچاؤ آندولن آرگنائزیشن نے وزیرا عظم مودی کے ممکنہ دورہ کے خلاف ہیومن چین کا انعقاد کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھی دہلی میں فرقہ وارانہ تشددکی مذمت کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ حکومت ہند حالات کو پرامن کرنے کی کوشش کریں گے۔لیفٹ ڈیموکریٹک الائنس نے 15اور 16مارچ کو نریندر مودی کی آمد کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔سوشلسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش کے جنرل سیکریٹری خلیق الزماں نے بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت کے اقدامات کی ہم مذمت کرتے ہیں اور ان کی آمد کے موقع پر ہم احتجاج کریں گے۔
بنگلہ دیش کے سیاسی تجزیہ نگار دیلارا چودھری نے کہا کہ مودی کے ممکنہ بنگلہ دیش کا دورہ شیخ حسینہ کیلئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر ایک کو ملک کا دورہ کرنے والی شخصیت کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے۔بنگلہ دیش انٹر پرائز انسی ٹیوٹ کے صدر ہمایوں کبیر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حکومت ہند کے خلاف چل رہی مہم پر قابو پانا ناممکن ہے۔جوکچھ دہلی میں ہورہا ہے ہم اسے نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔
حفاظت الاسلام شاہ احمد شفی نے کہاکہ شیخ حسینہ حکومت کو مودی کے دورے کو رد کردینا چاہیے۔ہم بنگلہ دیش میں اسلام اور مسلم مخالف شخص کا استقبال نہیں کرسکتے ہیں۔مودی نے کشمیر،گجرات اور اب دہلی میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل بل واسطہ یا پھر بلواسطہ قتل کرایا ہے۔دائیں بازو کے لیڈر نور خان نے کہا کہ بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ تشد د کے واقعات رونما نہیں ہوئے ہیں۔شیخ مجیب الرحمن نے غیر فرقہ واریت کا ماحول قائم کیا تھا اس لئے ہم شیخ مجیب کی آمد پر مودی جیسے شخصیت کا استقبال نہیں کرسکتے ہیں۔دوسری جانب بنگلہ دیش کے وزیر عبیدقادر نے کہا کہ لبریش جنگ کے دوران حکومت ہند ہمارے ساتھ کھڑی تھی اورہماری مدد بھی کی ہے۔اسی وجہ سے ہم نے وزیر اعظم ہند کو مدعو کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ شہریت ترمیمی ایکٹ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سے بنگلہ دیش کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
شیخ مجیب الرحمن کے صدسالہ یوم پیدائش کی ایک سالہ تقریب کا آغاز17مارچ سے شروع ہورہا ہے۔عبد القادر نے کہا کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں حکومت ہند نے ہمارا ساتھ دیاتھا۔ہمارے فوجیوں کی تربیت کی تھی۔بنگلہ دیش کے عوام کے خون کے ساتھ ہندوستانی عوام کا خون بھی اس میں شامل ہے۔اس لئے کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم کا دورہ رد کردیا جائے۔بنگلہ دیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ سابق صدر جمہوریہ پرب مکھرجی، مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور کانگریس کے صدر سونیا گاندھی کو بھی ان تقریبات کو مدعو کیاگیا ہے۔