ڈپریشن محبت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے

153

ڈپریشن جیون ساتھیوں کو نفسیاتی طور پر توڑ سکتا ہے۔ اس عارضے کے شکار جیون ساتھی کیساتھ زندگی گزارنا نہایت کٹھن ہوتا ہے۔ ایسی پارٹنرشپ کو ٹوٹنے یا بکھرنے سے بچانے کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے؟

اشٹیفانی کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے شکار افراد کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اُن کے پیٹ میں ایک ایسا بلیک ہول یا سیاہ سوراخ ہے جو اُن کی تمام تر توانائی کو چوس لیتا ہے اور کبھی کھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے جیسے کہ معدے کے اندر سیسے جیسی کوئی دھات موجود ہو۔ اشٹیفانی بچپن ہی سے ڈپرشن کا شکار رہی ہیں۔ اُن کا منگیتر فلوریان پوری توجہ سے اُن کی بات سنتا ہے ، جب وہ اپنے اس نفسیاتی عارضے کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اشٹیفانی کی ڈپریشن کی بیماری نے فلوریان کو بھی بہت متاثر کیا ہے اور وہ خود بھی کسی حد تک اس عارضے کا شکار ہو گئے اور اُنہیں پہلے تو خُود اپنی اس بیماری سے نمٹنے کے طریقے سیکھنا پڑے۔

اشٹیفانی کو اپنے اس عارضے کا کافی عرصے سے علم ہے۔ فلوریان سے تعلق قائم کرتے ہی اشٹیفانی نے انہیں اپنے اس مسئلے سے آگاہ کیا۔ یہ دونوں جرمن شہر ڈارمشٹڈ میں اپنے اپارٹمنٹ کی بالکونی مں بیٹھ کر پُر سکون انداز میں ایک دوسرے سے اس بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ اشٹیفانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس عارضے کو چھپانے کی بجائے اس پر ہمیشہ کھُل کر بات کرتی ہیں۔ یہی وجہ وہے کہ ان کےساتھی فلوریان بہت جلدی ان حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہوگئے۔

رشتہ داروں کے لیے ایک چیلنج
ڈپریشن کے شکار مریضوں کے رشتے داروں، خاندان والوں، دوست احباب اور شریک حیات کے لیے اس صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے اپنے تعلق کو قائم رکھنا اور اپنے رشتے کو خوش اسلوبی سے برقرار رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ خاص طور سے اس امر کا اندازہ لگانا کہ ان کا ساتھی ڈپریشن کے کس مرحلے میں ہے، ایک پہیلی سے کم نہیں۔ فلوریان کا کہنا ہے،” یہ صورتحال مجھے شدید دباؤ کا شکار کر دیتی ہے۔‘‘ جب فلوریان دیکھتے ہیں کہ ان کی پارٹنر ڈپریشن کا شکار ہے تو وہ خاص طور سے اُنہیں اپنے آپ سے قریب کرتےہیں، گلے لگاتے ہیں، اُن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اشٹیفانی فلوریان کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہیں،”یہ واقعی میری بہت بڑی مدد ہوتی ہے۔‘‘ اُدھر فلوریان کا کہنا ہے کہ ڈپریشن کے شکار ساتھی کیساتھ ز ندگی گزارنے کے لیے بہت حوصلہ اور طاقت درکار ہوتی ہے۔ فلوریان کے بقول صحت مند ساتھی کو خود کو بھی اس سیاہ گڑھے میں گرنے سے بچانا ہوتا ہے ساتھ ہی اپنے ساتھی کی نفسیاتی کیفیت کا خیال کرتے ہوئے اُس کی مدد کرنے کی قوت پیدا کرنا ہوتی ہے۔

ذہنی تکلیف مرض ہے، پاگل پن نہیں

نا اُمید، پژمردہ اور ڈپریشن کے شکار ساتھی کیساتھ وقت گزارنا آسان نہیں ہوتا۔ انہیں ڈپریشن سے نکالنے کی کوششوں میں زیادہ تر افراد کی توانائی ختم اور ہمت جواب دے دیتی ہے۔ 2018 ء میں ڈپریشن کے شکار افراد کی نجی زندگی کے بارے میں کروائے گئے ایک سروے میں حصہ لینے والے افراد میں 73 فیصد اپنے جیون ساتھی کی اس بیماری کے تئیں خود کو مجرم یا اس کا قصور وار سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی مطالعے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ 84 فیصد مریض اپنے ڈپریشن کے مرض کے دوران سماجی زندگی ترک کر دیتے ہیں۔ لوگوں سے گھلنا ملنا، ان کیساتھ وقت گزارنا نہیں چاہتے۔

ڈپریشن کی علامات
افسردگی یا پژ مُردگی کے عالم میں زیادہ تر افراد کا موڈ بہت خراب رہتا ہے، یہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے اور سماجی تعلقات سے دستبرادار ہو جاتے ہیں اور یہ سب کچھ ان کی بیماری کی وجہ سے ہوتاہے۔ اس بیماری کی ایک علامت کا تعلق فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہونے سے بھی ہے۔ اشٹیفانی کے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ یہ اُن کی بیماری کی ایک علامت ہے یا کردار کی کمزوری۔

کیا ڈپریشن کی بیماری خود کُشی کی وجہ ہو سکتی ہے؟

ڈپریشن کی علامات رشتے یا پارٹنرشپ پر زبردست طریقے سے اثرا انداز ہوتی ہیں۔ اس کا سامنا کرنا اور اس سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ طاقت اور صبر و استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہر نفسیات کرسٹینے رومل کلوگے لائپزگ یونیورسٹی میں نفسیاتی کلینک کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں،”ڈپریشن کے مریضوں کے ساتھی یا رشتے داروں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنا ہر طریقے سے خیال رکھیں اور اپنی برداشت کی حدوں کو پہنچنے کے مرحلے سے پہلے ہی یہ دیکھیں اور سوچیں کہ وہ کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ ایسے رشتے یا تعلقات اکثر و بیشتر علیحدگی کی صورت میں انجام کو پہنچتے ہیں۔ کرسٹینے رومل کلوگے کے بقول،” علیحدگی کوئی معمولی بات نہیں۔ ڈپریشن یا افسردگی کے مرحلے میں بہتر ہے کہ کوئی دور رس فیصلہ نہ کریں کیونکہ ڈپریشن کے دوران انسان کو ہر چیز مختلف نظر آتی ہے وہ چیزوں کو بالکل الگ انداز سے دیکھتا ہے بہت ہی منفی سوچ کے ساتھ ۔‘‘

ماہر نفسیات کلوگے تاہم کہتی ہیں کہ ڈپریشن کی کیفیت ختم ہونے کے بعد ہر چیز مختلف نظر آنے اور محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس لیے کوئی بھی اہم فیصلہ ڈپریشن کے اثر میں آکر نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایک نئی زندگی دو زندگیوں کو بچانے کا سب بن سکتی ہے
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ڈپریشن کے شکار افراد کے باہمی تعلقات پر بہت مثبت اثرات ایک نئی زندگی کی نوید کیساتھ رونما ہوتے ہیں۔ ایسے جوڑے جن میں سے کسی ایک ساتھی یا دونوں کو ڈپریشن کا سامنا ہو جب انہیں اپنی اولاد کی آمد کی خبر ملتی ہے تو یہ ان کی زندگیوں میں بہت ہی مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے۔ بچے کی توقع ایک عورت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح مرد کے لیے بھی ناامیدی اور پژمردگی یا اداسی کو دور کرنے کا ایک بڑا ذریعہ اولاد کے دنیا میں آنے کی خبر بنتی ہے۔ اشٹیفانی حاملہ ہیں۔ اب ان کی اور ان کے پارٹنر کی زندگی یکسر بدلتی نظر آ رہی ہے۔ ”جرمن ڈپریشن ایڈ‘‘ کے ایک سروے سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈپریشن کی صورتحال سے اگر صحیح طریقے سے نمٹا جائے تو یہ مرد اور عورت کو قریب لانے اور ان کے تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اشٹیفانی کہتی ہے،” مجھے فلوریان سے بہت تقویت ملی ہے کیونکہ ہم متفقہ طور پر اس بیماری سے نمٹنے کے طریقوں پر چلتے رہے۔ افسردگی یا ڈپریشن نے جہاں مجھے بہت نقصان پہنچایا وہیں مجھے اس سے بہت طاقت بھی ملی۔ اس نے مجھے مضبوط بھی بنایا۔‘‘ اب اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی زندگی میں آنے والی اتنی بڑی خوشی بھی ہے۔ اب اشٹیفانی اور فلوریان ایک دوسرے کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کا سانجھا کیا ہے۔ وہ کون سی نعمت ہے جو ان دونوں کی سانجھی ہے۔