۔ نقاش نائطی۔ +966504960485
کچھ سال قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک پر بھی تو یہی الزام دعوت کفار الی الاسلام لگا کر انہیں زیر حراست لینے کی سازش رچی گئی تھی یہ تو اچھا ہوا ڈاکٹر ذاکر نائیک عمرہ پر گئے اور چونکہ انکا دعوت کفار الی الاسلام کا کام عالمی سطح کرنے کا پروگرام تھا اسلئے جدہ سے بھارت واپس آ، ان سنگھیوں کے ہتھے چڑھنے کے بجائے انڈونیشیا چلے گئے اور وہیں کی نیشنیلٹی لیکر اب وہ پوری عزت وشان سے دعوت کفار الی الاسلام کا کام کررہے ہیں

اس وقت بریلوی حنفی علماء ڈاکٹر ذاکر نائیک پر حکومتی گاز گرنےپرنہ صرف شادیانے بجا رہے تھے حتی بلکہ ان مقلد علماء کرام کی اندرون خانہ سازش کے شکار ہونے کی وجہ ہی سے مودی حکومت کو ڈاکٹر ڈاکٹر نائیک کے خلاف اتنے بڑے اقدام کی ہمت ملی تھی۔ خود تو دعوت دین الی الکفار کی ذمہ داری نبھا نہیں سکتے تھے اور کفار کو دعوت دینے والے کو سکون سے دعوت دینے بھی نہیں دے رہے تھے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہمارے آپسی اختلافات ہی کی وجہ ہی سے سنگھی مودی حکومت کے عزائم اب اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ اب عین یوپی انتخاب سے قبل ھندو مسلم منافرتی ماحول پیدا کر، اپنے آپ کو ہندوؤں کے مسیحا کے طور پیش کرنے ہی کے لئے، لکھنو یوپی کے دو علماء کرام کو ہندوؤں کو پیسہ کا لالچ دے انہیں مسلمان کرنے کا الزام لگا، انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

دراصل اس کورونا فیس 2 میں سنگھی مودی یوگی کی نااہلی کی وجہ ہی سے، بنگال کیرالہ و ٹمل ناڈو فتح کرنے کے چکر میں عوامی ریلیوں میں دیہی عوام کو لاکھوں کی تعداد میں لالاکر اور اپنے آپ کو ھندوؤں کا مسیحا ثابت کرنے کے چکر میں، کمبھ میلوں کا انعقاد سرکاری سطح پر کرتے ہوئے، کروڑوں کی تعداد میں دیش بھر سے ھندوؤں کو یوپی اتراکھنڈ میں جمع کراتے ہوئے، دیش بھر کویڈ وبا پھیلائی گئی اور ہاسپٹل میں کویڈ دوائیوں اور آکسیجن کی عدم دستیابی سے 50 لاکھ ھندوؤں کی ہوئی کورونا اموات اور ان مرنے والوں کے انتم سنسکار کے لئے سہولیات مہیا کرانے میں ناکام یوپی سنگھی یوگی حکومت کی وجہ ہی سے،اپنوں کے ہزاروں پارتو شریر کو کنگا میا کی چھاتی پر تیرتے چھوڑتے،اور اپنوں کے ہزاروں پارتو شریر کو گدھ کوئے کتے نوچ کھانے مناظر سائبر میڈیا و عالمی میڈیا پر دیکھ کر، کہیں نہ کہیں آسمانی سناتن دھرم کے ماننے والے عام ھندوؤں میں،اپنے ھندو سناتن دھرم کے مقابلے اسلام دھرم کی حقانیت واضح ہونے لگی ہے اور اس کورونا کال فیس ٹو 50 لاکھ اموات بعد ھندو بھائیوں کی اچھی خاصی تعداد خود سے آگے بڑھ چڑھ کر اسلام دھرم قبول کرنے لگی ہے۔ اس پس منظرمیں کویڈ وبا قابو پانے میں ناکام یہ سنگھی مودی یوگی حکومت، اپنی ناکامیوں کا کھیکھڑا مسلم علماء کرام کےسر پھوڑتےہوئے، انہیں حراست میں لئے، ھندوؤں کے ویر سمراٹ 56″چوڑے سینے والے مہان مودی کے فرمان "اپدھا میں اوسر تلاش کرنا چاہئیے” اسے بھی ھندو مسلم منافرت میں بدلتے ہوئے یوپی کے ھندوؤں کو بے وقوف بنا 2022 یوپی انتخاب میں، اپنی سنگھی حکومت بچاتے ہوئے، 2024 اپنی مرکزی حکومت بچانے کی سازش رچی جارہی ہے.

اب بھی ہم 25 کروڑ مسلمان اپنے مسلکی اختلافات کی وجہ سے، حنفی سلفی مقلد غیر مقلد بریلوی دیوبندی اختلافات کے چلتے خاموش بیٹھے رہیں گے تو بازار کےمرغی دربے میں بند، آج مالک کے ہاتھوں کٹنے اور بکنے سے بچنے والی مرغیوں کی وقتی خوشی کی طرح، یکے بعد دیگرے ہم تمام مسلمان ان سنگھیوں کے نشانے پر آج نہیں تو کل آہی جائینگے۔ اس لئے ایک طرف جمیعت العماء ھند، جماعت اسلامی ھند، جمیعت اہل حدیث، جمیعت اہل سنہ و الجماعہ ودیگر مرکزی مسلم اداروں کی طرف سے مشترکہ طور دیش کے بڑے وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہوئے، عین یوپی انتخاب سے قبل اس اقسام کے ھندو مسلم منافرتی ایجنڈوں پر عمل درآمد روکنے کی دیش کی عدالت عالیہ میں، گوہاڑ لگائی جانی چاہئیے تو دوسری طرف عدالت عالیہ وسنگھی مودی یوگی حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے، اپنے مذہبی اختلافات کو وقتی طور پرے رکھ کر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلیں گے اور جیل بھرو اندولن خود سے چلائیں گے تو آئیندہ کسی مسلمان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ان فرقہ پرستوں کو سو مرتبہ سوچنا پڑیگا.

ابتک ایسے بہت سارے علماء کرام پر ایسے بے بیہودہ الزام لگاکر ھندو مسلم منافرت کو بھڑکا انتخابات جیتے اور بعد کے دنوں میں کچھ سالوں بعد ان علماء کرام کے بے قصور آزاد ہونے والے متعدد واقعات کو تاریخی حوالوں سے عدلیہ کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں امید ہے یہ علماء کرام بھی آج نہیں تو کل کچھ سالوں بعد بے قصور آزاد ہوجائیں گے لیکن اس ھندو مسلم منافرتی بازار گرم کر یوپی انتخاب جیتنے کے بعد ان عکماءکےبےقصور آزاد ہونے پر بھی، یوپی الیکشن رد کر دوبارہ انتخاب تو کرائے نہیں جاسکتے؟ اس لئے اس بات کو کانگریسی و سماج وادی لیڈران پر اچھی طرح سے واضح کر تے ہوئے،عدالت عالیہ پر دباؤ ڈالنے، انکا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ اب جو کچھ بھی کرنا ابھی ہی ہمیں اقدام اٹھانا پڑیگا۔ ہمارے اس احتجاج سے یوپی الیکشن ایک مرتبہ پھر بھاجپا جیت جائیگی یہ سوچ کر خاموش رہنے سے کوئی فائیدہ نہیں ہوگا۔ اگر بھاجپا ایک مرتبہ اور یوپی انتخاب جیتی ہے تو جیتنے دیں وہ کیا توڑ لیں گے ہم 25 کروڑ مسلمانوں کا؟ شرط صرف ہمارے متحد ہونے کی ہے ۔باقی ہماری حفاظت ، نہ کانگریس نہ سماج وادی ہماری حفاظت کرسکتے ہیں ہمارا اللہ ہماری حفاظت کے لئے کافی ہے۔ واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ۔