مشہور و معروف معالج ڈاکٹر کفیل خان نے علی گڑھ میں درج ہوئی ایف آئی آر کو رد کرنے کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں جو عرضی داخل کی تھی، اس پر عدالت نے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ دراصل علی گڑھ میں ڈاکٹر کفیل نے ایک تقریر کے دوران سی اے اے/این پی آر/این آر سی کی مخالفت کی تھی جسے اشتعال انگیز بتا کر اتر پردیش کی یوگی حکومت نے ان پر این ایس اے لگا دیا تھا۔ ڈاکٹر کفیل خان کو 7 ماہ جیل میں رکھا گیا تھا جہاں انھیں استحصال کا شکار بنایا گیا تھا۔

 

 یہاں قابل غور ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کی تقریر کو سن کر الٰہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے مانا تھا کہ اس میں کسی بھی طرح سے ملک کو توڑنے کی نہیں بلکہ ملک کو جوڑنے کی بات کہی گئی ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی ثبوت نہ ملنے کے بعد عدالت کے ذریعہ ڈاکٹر کفیل خان کے اوپر لگائے گئے این ایس اے کو غلط قرار دے کر باعزت بری کر دیا تھا۔ اسی ایف آئی آر کو مکمل طور سے ختم کرنے کے لیے ڈاکٹر کفیل خان نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کی جس پر آج اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اب اس معاملے میں آئندہ سماعت 6 اپریل کو ہوگی۔

 

واضح رہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو اتر پردیش کی اسپیشل ٹاسک فورس نے 29 جنوری کو ممبئی سے گرفتار کیا تھا۔ یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ لگا کر 7 مہینے تک جیل میں رکھا تھا۔ یکم ستمبر 2020 کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ان پر سے این ایس اے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے کفیل خان کو ضمانت دے دی تھی اور فوری رِہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کہا تھا ’’ہمیں یہ نتیجہ نکالنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ این ایس اے ایکٹ، 1980 کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کو حراست میں لینا اور حراست کو بڑھانا قانون کی نظر میں درست نہیں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو اتر پردیش کی اسپیشل ٹاسک فورس نے 29 جنوری کو ممبئی سے گرفتار کیا تھا۔ یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ لگا کر 7 مہینے تک جیل میں رکھا تھا۔ یکم ستمبر 2020 کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ان پر سے این ایس اے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت نے کفیل خان کو ضمانت دے دی تھی اور فوری رِہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کہا تھا ’’ہمیں یہ نتیجہ نکالنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ این ایس اے ایکٹ، 1980 کے تحت ڈاکٹر کفیل خان کو حراست میں لینا اور حراست کو بڑھانا قانون کی نظر میں درست نہیں ہے۔‘‘