لکھنئو 18 جولائی ۔(راست)

کون تھے ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی؟:1967 میں پہلی غیر کانگریس حکومت بنانے میں چودھری چرن سنگھ کی بی کے ڈی،راج نارائن کی پی ایس پی،کے ساتھ مجلس کی مدد سے کانگریس نے اترپردیش کو کھو دیا تھا جس میں بہت بڑی اعانت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کی رہی ہے۔ مجلس کی مدد سے مسلمانوں نے پہلے غیر کانگریسی مورچہ کے حق میں ووٹ کیا اور چودھری چرن سنگھ وزیراعلی منتخب ہوئے تھے۔

ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی ٹی بی کے مشہور ڈاکٹر تھے جو غریبوں کے معاون و مددگار ہونے کے ساتھ ساتھ سماج وادی فکر کے انسان تھے اور سماجی انصاف کے پیروکار تھے جلد ہی وہ کمیونسٹ اور سینیئر ممبر پارلیمینٹ مولانا اسحاق سنبھلی اور زیڈ احمد کی پیس کونسل سے وابستہ ہو گئے۔

کانگریس کے قد آور وزیر اعلیٰ سی بی گپتا کو انتخابات میں لکھنؤ سے ہرانے کے بعد فریدی پی ایس پی میں شامل ہو گئے اور راج نارائن اور چودھری چرن سنگھ کے قریب تر ہوئے اور قانون ساز کونسل کے ممبر منتخب کئے گئے اور کونسل میں ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے۔

کیا ہیں ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی کی خدمات؟

ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے ہندی پٹی میں پیریار کو سماجی انصاف کے میدان میں زمین دی اور انہیں لکھنؤ آنے کی دعوت دی جس سے پسماندہ طبقات کے احتجاج میں روانی ملی فریدی کی قیادت میں اس میٹنگ کو جو لکھنؤ کے بارہ دری میں منعقد ہوئی تھی اس میں بی پی منڈل اور کرپوری ٹھاکر اہم طور پر شامل ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے دوسرے پسماندہ طبقات اور پسماندہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا کام کیا جسکی وجہ سے بہوجن احتجاج کا ہندی پٹی میں سورج طلوع ہوا۔

ڈاکٹر فریدی کے تعلق سے کیا کہتے ہیں ماہرین؟

ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈاکٹر فریدی کی شخصیت کے ساتھ تاریخ نے انصاف نہیں کیا ہے آخر جس رہنما نے ملک میں ایک مشہور لیڈر شپ پیدا کی آخر اسے کانگریس کے ذریعہ مسلم لیگ کو اتر پردیش میں لاکر مجلس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

کیوں منتخب کیا گیا عمیق جامعی کو کنوینر؟

مسلمانوں پر ظلم اور دوئم درجہ کا شہری بنانے والی کانگریس کی پالیسی کے خلاف فریدی نے سیاسی جواب دینے کی ٹھانی اور فریدی مسلم مجلس کے صدر بنے اور اسوقت کے وزیر اعلیٰ چندر بھانو گپتا کو سماج وادی امیدوار بابو تریلوکی سنگھ کو آگے کرکے انتخاب میں شکست دی مسلمانوں کے اس امبیڈکر کو جس نے کانگریس کے اقتدار کی ہنک کو زمین پر لادیا تھا، انکے سماجی انصاف کے تجربہ کو حاشیہ پر پڑے سماج کیلئے لڑائی اور تیز کرنے کیلئے ڈاکٹر فریدی کی ایماندار شخصیت کو آج کی نوجوان نسل کے درمیان لانے کی اشد ضرورت ہے اسلئے فریدی کے سیاسی صلاح کار اور ساتھی رہے توفیق جعفری کے حکم پر مسلم نوجوانوں میں سماجی انصاف، سیاسی دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی بے باک آواز،سماجوادی پارٹی کے قومی ترجمان عمیق جامعی کو ڈاکٹر فریدی وچار منچ کا کو کنوینر منتخب کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں منچ کے کو کنوینر ڈاکٹر افسر نے بتایا کہ نو منتخب کو کنوینر عمیق جامعی کی ذمہ داری ہوگی کی وہ منچ کیلئے جلد از جلد ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی کے حامیوں و دانشوروں و انکے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ ایک ایڈوائزری بورڈ کا قیام کر صوبہ اترپردیش میں ریاستی کارکنان، زون انچارج، اسمبلی حلقہ سے لیکر پارلیمانی حلقہ تک تنظیمی ڈھانچہ کو تیار کریں۔

کیا کہا نو منتخب کو کنوینر عمیق جامعی نے؟

عمیق جامعی نے بتایا کہ میرا مقصد ہوگا کہ مسلمانوں میں سیکولر سماج وادی ذہن کے لیڈران کو آگے لایا جائے مسلمان آج کے دور میں سیاست ہو یا سماج ہر حصہّ میں پچھڑے ہیں، انکی کوئی ضرورت سماج نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں خود اعتمادی پیدا کرنا میرا اولیں مقصد ہوگا ہم چاہیں گے کہ مسلمانوں کو انکی آبادی کے حساب سے سماج کے ہر حصہّ میں انہیں ان کا حق ملے جس کیلئے آج انکے پاس ان کا ایک امبیڈکر ہے جنہیں ہم ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی کے نام سے جانتے ہیں۔

مزید کہا کہ فریدی کے خواب پر اس طویل لڑائی کی شروعات ہوگی ہم صوبہ کے باوقار جنگجو نوجوانوں سے کہیں گے کہ وہ منچ کی طاقت بنیں اور گھر گھر تک ڈاکٹر فریدی کے نام کو پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔