• 425
    Shares

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جوہری پروگرام کے بانی سمجھے جانے والے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد میں وفات پا گئے ہیں۔ان کی عمر 85 برس تھی اور وہ خاصے عرصے سے علیل تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان 26 اگست 2021 کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جس کے بعد حالت اچانک بگڑ گئی تھی اور انھیں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم کچھ روز بعد ان کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی اور انھیں واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔

11 ستمبر کو میڈیا کو جاری کردہ ویڈیو میں انھوں نے بتایا تھا کہ وہ صحت یاب ہو چکے ہیں تاہم انھیں اتوار کو دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔

اشتہار

انھیں 2004 میں جوہری ٹیکنالوجی کی مبینہ منتقلی کے بارے میں ‘اعترافِ جرم’ کے بعد نظربند کیا گیا تھا اور وہ پانچ برس نظربند رہے تھے۔ تاہم 2008 میں نظربندی کے خاتمے کے بعد بھی وہ عوامی تقریبات میں دکھائی نہیں دیتے تھے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر بہت افسردہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم ملک کو جوہری طاقت بنانے کے عمل میں ان کے کردار کی وجہ سے ان سے محبت کرتی تھی اور وہ پاکستانی عوام کے لیے ایک قومی آئیکون تھے۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈاکٹر خان کو ان کی خواہش کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ عبدالقدیر خان کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ ‘

عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انھوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیون سے تعلیم حاصل کی۔

1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981کو فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے تبدیل کر کے ان کے نام پر ‘ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز’ رکھ دیا تھا۔

یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـ

پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے ایک کتابچے میں خود لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـ

مئی 1998 میں جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب جوہری تجربہ کیا تو بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـ

ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیںـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کر دیا تھاـچودہ اگست 1996 کو صدر فاروق لغاری نے انھیں پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ اس سے قبل 1989 میں انھیں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر خان کو پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا تھا۔ تاہم جنرل مشرف کے دور میں ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹی وی پر دیگر ممالک کو جوہری راز کی فروخت کے الزامات تسلیم کیے تھے جس کے بعد سنہ 2004 میں انھیں معافی دینے کے بعد ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا اور یہ نظربندی پانچ برس جاری رہی تھی۔

نظربندی کے خاتمے پر 2008 میں بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انھوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا۔

انھوں نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک آدمی کے اعتراف سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو رہا تھا۔

جب ڈاکٹر قدیر خان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ان پر جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ‘الزامات’ کیوں لگائے گئے تو ڈاکٹر قدیر کا جواب تھا: ‘ایک آدمی پر ڈال دیں تو ملک بچ جاتا ہے۔ بات ملک پر سے ہٹ جاتی ہے۔’

نظربندی کے خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئِے انھوں نے کہا تھا کہ ‘بات کرنے اور آزادی میں بہت فرق ہے۔ آزادی کے معانی ہیں کہ میں گھر سے باہر جاسکوں، لوگوں سے ملوں لیکن ایسا نہیں ہے۔ اور یہ (بات کرنے کی آزادی) کوئی بڑی آزادی نہیں۔ کیا ہم کوئی سرکاری راز کھول رہے ہیں کہ ہمیں باہر نہیں جانے دیا جا رہے۔ ہمیں تو دعا سلام ہی کرنا ہے۔’

ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جن سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدید خان کی وفات پر پاکستان میں ردِعمل:
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کی خبر پر پاکستانی سوشل میڈیا پر حکومتی وزرا، سیاستدانوں سے لے کر عوام تک سبھی غمگین ہیں اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیے جوہری پروگرام کے ‘بانی’ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

عبدالقدیر خان کی وفات پر وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ ان کی خدمات کو یاد رکھے گا اور پوری قوم ان کی جانب سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی مقروض ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ اورغم کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ اپنی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ محسن پاکستان کو جنت الفردوس میں اعلی ترین مقام اور ڈاکٹر خان کے سوگواران اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔‘
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹویٹ کیا ’پاکستان کو نا قابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کو ملک اور قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ’ڈاکٹر اے کیو خان نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار اداکیا۔ ملک کا دفاع ناقابل تسخیربنایا, قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ قوم ہمیشہ اپنے اس محسن کی احسان مند رہے گی۔ خدا تعالی محسن پاکستان کی مغفرت فرمائے۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ٹویٹ کیا کہ آج قوم ایک سچے محسن سے محروم ہو گئی ہے جس نے دل و جان سے مادر وطن کی خدمت کی۔‘انھوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کو ملک کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے لکھا ’پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ان کا کردار مرکزی ہے۔ اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔