ییجنگ: چین میں کورونا وائرس کا انفیکشن ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ 2020 میں کورونا وبا کے ابتدائی دنوں کے بعد رواں ہفتے پہلی بار چین میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی۔ جبکہ اتوار کے روز ملک بھر سے کورونا کے 3393 نئے کیسز درج کئے گئے۔

چین کے قومی کمیشن برائے صحت کا کہنا ہے کہ فروری 2020 کے بعد یہ کورونا معاملوں کی زیادہ سے زیادہ یومیہ تعداد ہے۔ کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر حکام نے احتیاطاً شنگھائی میں اسکولوں کو بند کر دیا ہے اور کئی شمال مشرقی شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔

دریں اثنا، 90 لاکھ سے زائد آبادی کے شہر چینگ چُن میں بھی کورونا وبا کے پھیلاؤ کے سبب حکام نے لاک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے اور اسکولز بند کر دیے ہیں۔ خبررساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی صوبے جیلن کے دارالحکومت اور ایک اہم صنعتی اڈے چینگ چن میں شہری حکام نے شہریوں کو گھر پر رہنے کا حکم دیا اور روز مرہ ضروری اشیا کے لیے ہر 2 دن میں ایک شخص کو خریداری کی اجازت دی ہے۔

حکام نے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند کردی ہے، اسکولوں اور کاروباروں کو بند رکھنے کا حکم دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر کوونا ٹیسٹنگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صرف 3 ہفتے قبل شہر میں کورونا کے یومیہ کیسز کی تعداد محض 100 تھی لیکن انتہائی تیزی سے پھیلنے والا ویرینٹ اومیکرون وبا سے نمٹنے کے لیے چین کی ’زیرو کووِڈ اپروچ‘ کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

2019 کے آخر میں کورونا وبا پہلی بار چین میں سامنے آئی لیکن چینی حکومت نے اسنیپ لاک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور بڑی حد تک سرحدوں کی بندش کے ذریعے کورونا کیسز کی شرح کو انتہائی کم رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 44.66 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مرنے والوں کی تعداد 60 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دنیا بھر میں کورونا کے 5.22 کروڑ سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ اس خطرناک وائرس سے 2 لاکھ سے زائد افراد کی جان چلی گئی ہے۔

دریں اثنا، فرانس نے 80 سال سے زائد عمر کے افراد کو کورونا وائرس کی چوتھی خوراک دینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ فرانسیسی وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے کہا کہ فرانس 80 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو کووڈ ویکسین کی چوتھی خوراک دینے جا رہا ہے۔ یہ خوراک ان لوگوں کو دی جائے گی جو 3 ماہ سے زیادہ عرصے سے بوسٹر خوراک لے رہے ہیں۔