چین میں کورونا وائرس کی سونامی

0 12

چین میں کورونا کا قہر جاری ہے اور اس نے چین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ جمعہ کو چین میں 20,000 سے زیادہ کورونا کے معاملے پائے گئے۔ چین کا سب سے بڑا شہر شنگھائی 3 ہفتوں سے زائد عرصے سے لاک ڈاؤن کی زد میں ہے اور اس کے بعد بھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں ہے۔

چینی حکومت کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق اس وقت چین کو اومیکرون کی سونامی کا سامنا ہے۔ کل یعنی جمعہ کو ملک میں 20,000 سے زیادہ کووڈ- 19 کے کیس رپورٹ ہوئے۔ چین کا سب سے بڑا شہر شنگھائی تین ہفتوں سے زائد عرصے سے لاک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ دوسری جانب بیجنگ میں 21 ملین سے زیادہ افراد نے تیسرا نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کروایا۔

بیجنگ میں تمام رہائشیوں کے لیے 48 گھنٹوں کے اندر کووِڈ- 19 کی منفی جانچ کی رپورٹ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے تحت بیجنگ میں زیادہ خطرہ والے علاقوں کی کل تعداد 6 اور درمیانے خطرے والے علاقوں کی تعداد 19 ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کل مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس وقت ہمیں اومیکرون سونامی کا سامنا ہے۔ یہ وائرس اتنی تیزی سے پھیلتا ہے جتنا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جب دنیا اس وائرس سے بڑی حد تک باہر آچکی ہے تو چین ایک بار پھر اس کی لپیٹ میں ہے۔

جمعہ کو چین کے نیشنل ہیلتھ مشن کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 20,000 کورونا متاثر پائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی شنگھائی میں جمعرات کو 15000 سے زائد افراد کی رپورٹ مثبت آئی، گزشتہ 1 ماہ کے دوران 337 افراد کی کورونا سے موت بھی ہوئی ہے۔

شنگھائی میں طویل لاک ڈاؤن کے بعد بھی حالات قابو میں ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ دوسری جانب اب بیجنگ میں بھی حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر وہاں کی انتظامیہ نے گائیڈ لائنز کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اس کے تحت بیجنگ میں تمام اسکول بند کرکے شادی اور تدفین پر بھی کچھ پابندیاں عائد کردی ہیں۔