چین نے بتایا ہے کہ اس نے دنیا میں ایچ 10 این 3 نامی برڈ فلو کی نئی قسم کے پہلے کیس کو دریافت کیا ہے چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن (این ایچ سی) نے بتایا گیا کہ 28 اپریل کو زینجیانگ شہر میں ایک 41 سالہ شخص بخار کی علامات کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوا تھا۔بعد ازاں ایک ماہ بعد اس شخص میں ایچ 10 این 3 برڈ فلو کی تشخیص ہوئی۔تاہم حکام کا کہنا تھا کہ انسانوں میں اس کے بڑے پیمانے میں پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔

این ایچ سی کے مطابق ‘بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ مریض کی حالت اب مستحکم ہے اور اس کے رشتے داروں میں بھی کوئی علامات نظر نہیں آئیں’۔ایچ ایچ سی نے بتایا کہ ایچ 10 این 3 زیادہ خطرناک نہیں اور اس سے پرندوں میں موت یا شدید بیمار ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس سے قبل دنیا میں ایچ 10 این 3 کا کوئی انسانی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔چین میں جانوروں میں برڈ فلو کی متعدد اقسام کو دریافت کیا گیا ہے مگر انسانوں میں ان کا پھیلاؤ بہت کم ہوتا ہے۔
چین میں آخری بار برڈ فلو کی انسانوں میں وبا 2016 کے آخر میں سامنے آئی تھی جس میں ایچ 7 این 9 وائرس نے کردار ادا کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق 2013 سے این 7 این 9 وائرس سے 1668 افراد متاثر اور 616 ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل برڈ فلو کی ایچ 5 این 1 قسم سامنے آئی تھی اور اس کے نتیجے میں 2003 سے اب تک انسانوں میں 862 کیسز کی لیبارٹری میں تشخیص ہوئی جن میں سے 455 افراد ہلاک ہوگئے۔

عالمی ادارہ صحت کی نومبر 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایچ 5 این 6 ایوین فلو کے 14 کیسز انسانوں میں دیکھے گئے جن میں سے 6 ہلاک ہوگئے۔