• 425
    Shares

لیتھوینیا کی وزارت دفاع نے چینی فون استعمال کرنے والے اپنے شہریوں سے اپنے فون پھینک دینے اور نئے چینی فون خریدنے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

لیتھوینیا کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کی ایک رپورٹ میں چینی مینوفیکچررز کے فائیو جی موبائلز کو ٹیسٹ کیا گیا ہے۔

محققین نے نشاندہی کی ہے کہ شیاومی فون میں سینسر شپ کے آلات موجود تھے جبکہ ہواوے کا ایک ماڈل سائبر حملوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

جبکہ ہواوے نے کہا ہے کہ کسی بھی صارف کا ڈیٹا باہر نہیں بھیجا جاتا۔

لیتھوینیا کے نائب وزیر دفاع مارگریس ابوکیویکس نے کہا ہے کہ ’ہماری تجویز ہے کہ نئے چینی فون نہ خریدے جائیں اور پہلے سے خریدے ہوئے فونز سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کیا جائے۔‘

سینسر شپ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیاومی کے ایم آئی 10T فائیو جی فون میں ایک ایسا سافٹ ویئر ملا ہے جو ’آزاد تبت‘، ’تائیوان کی آزادی زندہ باد‘ اور ’جمہوریت کی تحریک‘ جیسے الفاظ کا پتہ لگا کر انھیں سینسر کر سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں 449 ایسی اصلاحات کے بارے میں بتایا گیا ہے جنھیں شیاومی فون سینسر کر سکتا ہے۔

یورپ میں فون کے ان ماڈلز پر ان صلاحیتوں کو بند کر دیا گیا تھا لیکن رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انھیں کسی بھی وقت دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی نے شیاومی کمپنی سے رابطہ کیا ہے تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ شیاومی کے فون کا انکرپٹڈ (خفیہ) ڈیٹا بھی سنگاپور میں ایک سرور کو بھیجا جا رہا تھا۔

لیتھوینیا کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے کہا ہے کہ یہ صرف لیتھوینیا کے لیے ہی نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے لیے اہم ہے جہاں شیاومی کے فون استعمال ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سمارٹ فون بنانے والی اس کمپنی کی مقبولیت میں سستے فون بنانے کی وجہ سے خاصا اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ سال کے مقابلے میں اپنی دوسری سہ ماہی میں اس کی آمدن میں 64 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ہواوے پی 40
رپورٹ میں ہواوے کے P40 فائیو جی فون میں بھی ایک نقص کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیتھوینیا کی وزارت دفاع اور نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’ہواوے کا ایپلی کیشن سٹور ’ایپ گیلری‘ صارفین کو تیسری پارٹی کے ای سٹورز کی ہدایت جاری کرتا ہے، جہاں اینٹی وائرس پروگرامز کچھ ایپلی کیشنز کو وائرس سے متاثرہ قرار دیتے ہیں۔‘

ہواوے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی سائبر سکیورٹی اور پرائیویسی کو ترجیح دیتی ہے اور ممالک کے قوانین اور قواعد و ضوابط کی پابندی کی جاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’کبھی بھی ہواوے کی ڈیوائس سے باہر ڈیٹا پراسس نہیں کیا جاتا۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ایپ گیلری تیسری پارٹی کی ایپس تلاش اور انسٹال کرنے کے لیے صرف ضروری ڈیٹا کو اکٹھا اور پروسیس کرتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے دوسرے ایپ سٹورز کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہواوے کمپنی سکیورٹی چیک بھی کرتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صارفین کی جانب سے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس محفوظ ہیں۔‘

یہ تحقیق کرنے والی ٹیم نے ون پلس کمپنی کے ایک فائیو جی فون کا بھی جائزہ لیا ہے تاہم اس میں کوئی مسائل سامنے نہیں آئے۔

یاد رہے کہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لیتھونیا اور چین کے درمیان حالات کیشدہ ہیں۔

گذشتہ ماہ چین نے مطالبہ کیا تھا کہ لیتھوینیا بیجنگ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لے اور کہا تھا کہ وہ بھی اپنے سفیر کو ولنس سے واپس بلا لے گا۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب تائیوان نے لیتھونیا میں اپنے سفارتی مشن کو ’تائیوان کا نمائندہ دفتر‘ کا نام دینے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ یورپ اور امریکہ میں تائیوان کے سفارتخانے تائیوان کے دارالحکومتی شہر تائی پے کے نام سے جانے جاتے ہیں تاکہ اس سفارتی معملات میں تائیوان کا براہ راست نام نہ لیا جائے جس پر چین اپنا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔