چینی چاند گاڑی یوٹو 2 نے ایک تصویر بھیجی ہے جس میں چاند کے افق پر ایک مربع نما شکل دیکھی جا سکتی ہے۔’پاپولر سائنس‘ نامی جریدے کے مطابق چاند گاڑی ابھی اس شکل سے 260 فٹ دور ہے اور چینی سائنس دانوں کا ارادہ ہے کہ گاڑی کو اس کی طرف لے جا کر دیکھا جائے کہ اس کی ساخت کیا ہے۔تاہم یہ سفر طے کرنے میں اس گاڑی کو دو سے تین ماہ کے لگ بھگ لگیں گے۔یہ چینی گاڑی جنوری 2019 میں چاند پر اتاری گئی تھی۔

’سپیس ڈاٹ کام‘ نے لکھا ہے کہ ’پراسرار جھونپڑی‘ عارضی نام ہے کیوں کہ یہ شکل بظاہر جھونپڑی کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ کوئی چوکور چٹان ہے۔اس شکل کے بارے میں آن لائن خاصی دلچسپی دکھائی جا رہی ہے۔ ’اور سپیس‘ نے لکھا: ’کیا یہ کسی ایلیئن کا بنایا ہوا گھر ہے جس کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا تھا؟‘اور سپیس کے مطابق یہ ’جھونپڑی‘ ممکنہ طور پر کوئی بڑی چٹان ہو سکتی ہے جسے شہابِ ثاقب کی ٹکر نے سطح سے بلند کر دیا ہے۔ چونکہ تصویر دھندلی ہے اس لیے شکل واضح نہیں ہو رہی۔

یہ وضاحت اسی وقت ہو سکے گی جب چاند گاڑی اس شکل کے قریب پہنچ کر زیادہ صاف تصاویر کھینچے۔یہ ’جھونپڑی‘ چاند کی اس طرف واقع ہے جس کا رخ زمین کی دوسری طرف ہے۔ یہ ایک شہابِ ثاقب سے بننے والے بہت بڑے گڑھے کے اندر موجود ہے۔یوٹو 2 چاند گاڑی ہے جس چینی خلائی مشن ’چانگ ای 4‘ نے چاند پر چھوڑا تھا۔ چینی زبان میں یوٹو کا مطلب قیمتی پتھر ’جیڈ سے بنا خرگوش‘ ہے۔

اب تک یہ 140 کلو وزنی اور ایک فریج کے سائز کی گاڑی چاند کی سطح پر 840 میٹر (2760 فٹ) کا فاصلہ طے کر چکی ہے۔

اس گاڑی پر کیمرے، انفرا ریڈ سینسر اور ریڈار نصب ہیں جو مختلف قسم کی سائنسی تحقیقات میں مصروف ہیں۔

ویب سائٹ ecns.cn کے مطابق اس مشن پر 17 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے۔