چینی صدر کو دیکھتے ہی مودی جی نے اپنی کرسی چھوڑ دی اور خود ملنے چلے گئے ٗویڈیو بھی دیکھیں

1,495

بالی: (ایجنسیز)انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کی انڈونیشیا کے شہر بالی میں جاری جی-20 کے سربراہی اجلاس کے دوران ملاقات ہوئی ہے۔بہر حال ان دونوں کے درمیان کوئی رسمی بات چیت پہلے سے طے نہیں تھی۔انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کے لیے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔

اسی دوران پی ایم نریندر مودی اور شی جن پنگ آمنے سامنے آگئے۔سنہ 2020 میں گلوان میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان تشدد ہوا تھا جس کے بعد دونوں پہلی بار آمنے سامنے آئے اور دونوں نے کچھ دیر بات چیت بھی کی۔حزب اختلاف کی پارٹی کانگریس پارٹی نے مسٹر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ چین گلوان اور کئی دوسرے سرحدی علاقوں میں ہندوستانی علاقے میں داخل ہوا ہے۔

کانگریس پارٹی سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے بھی گلوان میں چین کے مبینہ تجاوزات کے سلسلے میں مودی حکومت پر ہمیشہ تنقید کی ہے۔مسٹر مودی اور شی جن پنگ کا ویڈیو کانگریس پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیا گیا ہے۔انڈونیشیا کے صدارتی سیکرٹریئٹ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اپنی نشست سے اٹھے اور چینی صدر شی جن پنگ سے مصافحہ کیا اور کچھ دیر بات کی۔

جیسے ہی دونوں کی ملاقات ہوئی وہاں لوگون کا مجمع لگ گیا اور بہت سے لوگ اس لمحے کی ویڈیو بناتے بھی نظر آئے۔حال ہی میں نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے ازبکستان کے شہر سمرقند میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔لیکن دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے سامنے آنے سے گریز کیا تھا۔

انڈیا میں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھی جانے والی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بھی مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اس ‘اتفاقیہ’ ملاقات کو طنز کا نشانہ بنایا۔اویسی نے ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ‘صاحب نے لال آنکھ نہیں دکھائی۔صاحب سے ان کی مراد بظاہر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی ہے۔انھوں نے متواتر کئی ٹویٹس کرکے مزید سوالات کیے۔ ایک میں انھوں نے لکھا: ‘دنیا نے آفیشل ویڈیو دیکھ لی ہے اور اب تک جان گئی ہے کہ شی (جن پنگ) سے ملنے کون گئے۔ مودی نے اس بارے میں ٹویٹ کیوں نہیں کیا، جیسا کہ انھوں نے دوسرے لیڈروں کے لیے کیا؟ کس بات کی پردہ داری ہے؟

انھوں نے مزید لکھا: ‘ملک کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ مودی اور شی کے درمیان کیا ہوا؟ یہ انڈیا اور ہندوستانیوں کے متعلق معاملے ہیں، مودی یا ان کے خاندان کا ذاتی معاملہ نہیں۔ شی کو مودی کیا پیشکش کر رہے ہیں؟’کانگریس لیڈر ونیت پونیا نے بھی ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘لال آنکھ کا وعدہ تھا۔ چین دو سال سے ہماری سرحدوں میں گھسا بیٹھا ہے، لیکن یہاں کھڑے ہو کر استقبال کیوں کیا جا رہا ہے۔یوتھ کانگریس کے صدر این سرینواس نے ٹویٹر پر لکھا کہ ‘اٹھانی آواز تھی، خود اٹھے چلے آئے۔ دکھانی لال آنکھ تھی، کرتہ دکھا آئے۔ 19 سیکنڈ میں مودی جی کے قول و فعل۔

جی 20 کا اگلا اجلاس انڈیا میں:بدھ کو جی-20 کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے باضابطہ طور پر جی-20 کی سربراہی انڈیا کو سونپی۔ اگلے سال جی 20 کا سربراہی اجلاس انڈیا میں منعقد ہوگا۔سربراہی اجلاس کی اختتامی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انڈیا کی جی-20 صدارت جامع، حوصلہ مندانہ، فیصلہ کن اور کارروائی پر مبنی ہوگی۔جی 20 کے اختتام پر پی ایم مودی نے کہا کہ ‘اگلے ایک سال میں، ہماری کوشش ہوگی کہ جی 20 کی اجتماعی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے ہم ایک عالمی اہل کار کے طور پر کام کریں۔

‘ہمیں جی 20 کے ایجنڈے میں خواتین کی قیادت کی ترقی کو ترجیح دینی ہوگی۔یہ ہر ہندوستانی کے لیے فخر کی بات ہے کہ انڈیا جی 20 کی صدارت کر رہا ہے۔ ہم اجلاس انڈیا کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں G20 اجلاس منعقد کریں گے۔ ہم مل کر کریں اور اسے عالمی تبدیلی کا ایک محرک بنائیں گے۔’

گلوان میں کیا ہوا؟:سنہ 2020 میں انڈیا اور چین کے درمیان سنگین صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ یکم مئی سنہ 2020 کو مشرقی لداخ میں پینگونگ تسو جھیل کے شمالی کنارے پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔اس میں دونوں طرف کے درجنوں فوجی زخمی ہوئے۔ اس کے بعد 15 جون کو ایک بار پھر وادی گلوان میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔اس پرتشدد جھڑپ میں انڈیا کے 20 فوجی مارے گئے۔ چین نے اس بارے میں طویل عرصے تک کچھ نہیں کہا کہ اس کے کتنے فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔

نریندر مودی سنہ 2014 میں پہلی بار انڈیا کے وزیر اعظم بنے۔اس کے بعد انھوں نے کئی مواقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔جب شی جن پنگ سنہ 2014 میں انڈیا کے دورے پر آئے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔لیکن پہلے ڈوکلام اور پھر گلوان کے بعد حالات خراب ہونے لگے۔گلوان میں تشدد کے بعد پی ایم نریندر مودی نے کہا تھا کہ فوجیوں کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔ لیکن اس وقت بھی انھوں نے چین کا نام نہیں لیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی۔بہر حال اس کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے فون پر بات کی۔وزیر اعظم نریندر مودی اس کے بعد لیہہ پہنچے اور وہاں موجود انڈین فوجیوں سے خطاب بھی کیا۔کئی مواقع پر پی ایم مودی نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ انڈیا اپنی سرزمین میں کسی کو گھسنے یا تجاوزات کی اجازت نہیں دے گا۔
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے فوجی افسران سرحدی تنازع کے حوالے سے متعدد بار ملاقاتیں کر چکے ہیں۔دریں اثنا، شی جن پنگ چین میں مزید مضبوط بن کر ابھرے ہیں۔گذشتہ ماہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے کنونشن میں تیسری بار پارٹی جنرل سیکرٹری شی جن پنگ کو اقتدار سونپنے کو منظوری دی گئی ہے۔شی جن پنگ سنہ 2012 سے چین کے سپریم لیڈر ہیں۔ جنرل سیکرٹری کے ساتھ شی جن پنگ چین کے صدر اور چینی فوج کے سربراہ بھی ہیں۔