بیجنگ: چین کے سنکیانگ کے  شمال مغربی علاقے  میں حکومت کے مظالم کے خلاف لکھنے والے ایک اویغور مصنف کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ واشنگٹن میں واقع ریڈیو فری ایشیا(آر ایف اے) نے اطلاع دی ہے کہ  عالم عمر نے چائلڈ آف دی ایگلز کے عنوان سے ایک مختصر کہانی کا مجموعہ لکھا تھا جو 2017 کی شروعات سے لاپتہ تھا۔ کاآر ایف اے نے بتایا کہ کا گرہ صوبے میں  عمر نے اپنے بڑے بھائی کے بیٹے کے  ایک مہینے بعدن عمر کو   2017 میں حراست میں  لیا گیا تھا تب  حراست میں لینے  کی وجہ بتاتے ہوئے عہدیداروں نے بتایا تھا   کہ عمر نے  اپنے بڑے بھائی کے بیٹے  کو مصر میں تعلیم کے لئے بھیجا تھا اور اسے رقم بھیجی تھی۔

ذرائع کے مطابق ، عمر کو 12 مارچ ، 2017 کو  اپنے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ عمر پر علیحدگی پسندی کا الزام عائد کیا گیا تھا اور 2018 کے آخر میں سنکیانگ کے دارالحکومت ارومکی میں ایک خفیہ مقدمے میں انہیں  جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔اسی دوران ، حکام نے عمر کے چائلڈ آف دی ایگلز کی کتابیں  جلا دی گئیں تھیں۔ یہ فیصلہ اویغور معاشرے پر کتاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر کیا گیا تھا کیونکہ یہ آزادی کے موضوعات اور جدوجہد کی روح پرمبنی تھی ۔

 

عمر کی یہ کتاب ابتدا میںچین کے نسلی لٹریچر   قومی سطح کے میگزین ، میں شائع ہوئی تھی اور طویل عرصے تک کسی بھی سرکاری تنقید سے دور رہی۔ تاہم 2017 تک  ، سنکیانگ میں انقلاب کی لہر شروع ہوگئی تھی۔بتادیںکہ چین   کواویغور مسلمانوںکو بڑے پیما نے  پر کئی بار اجتماعی نظربند کیمپوں میں بھیجنے ، ان کی مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت کرنے اور ان پر غیر انسانی مظالم کے لئے  کئی بارسرزنش کی ہے۔تاہم بیجنگ  تمام الزامات کی تردید کر تا آیاہے۔