بنگلور پولیس کی طرف سے کنڑ اداکار اور کارکن چیتن کمار سے جمعے کو دوبارہ پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ برہمن ذات سے متعلق چیتن کمار کے متازع بیان کے بعد ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی گئی تھی۔

چیتن کمار کو دیگر کم تر سمجھی جانے والی برادریوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم فلم انڈسٹری سے وابستہ مشہور شخصیات اس معاملے پر خاموش ہیں۔

چیتن کمار، جو چیتن آہنسہ کے نام سے مشہور ہیں، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پچھلے دو ہفتوں سے زیر بحث ہیں۔

اس ویڈیو کے بعد برہمن ترقیاتی بورڈ کے چیئرمین سمیت دو مذہبی تنظیموں نے ان کے خلاف شکایت درج کی تھی۔

ایک سماجی کارکن نے غیر ملکی علاقائی رجسٹریشن آفس میں بھی شکایت درج کروائی ہے جس میں یہ کہا ہے کہ ’اداکار کو واپس امریکہ بھیج دیا جائے کیونکہ انھوں نے ہندوستان کے بیرون ملک شہری ہونے کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہم نے ان سے پوچھنے کے لیے کچھ سوالات تیار کیے تھے، جس کے جواب میں انھوں نے بہت طویل جوابات دیے۔ ان کو ریکارڈ کرنا بھی ضروری ہے۔ لہذا، ہم نے ان سے بقیہ سوالات کے جوابات دینے کو کہا ہے۔’

پولیس تحقیقات کررہی ہے کہ آیا چیتن کمار نے آئی پی سی کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کی خلاف ورزی کی ہے۔
مذہب یا نسل کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے مابین دشمنی پیدا کرنے اور مذہبی جذبات بھڑکانے کے لیے جان بوجھ کر اور مذموم ارادے کے ساتھ کوئی فعل کر رہے ہے۔

چیتن کمار نے کیا کہا؟
چیتن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اپنی ویڈیو میں کہا تھا، ‘ہزاروں برسوں سے برہمن ازم نے باسووا اور بدھ کے افکار کو مار ڈالا ہے۔ 2500 سال قبل بدھا نے برہمن ازم کے خلاف جنگ کی تھی۔ بدھا وشنو کا اوتار نہیں ہیں اور ایسا کہنا جھوٹ اور جنون ہے۔’

اس کے بعد انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ‘برہمن مذہبی آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کے جذبے کو مسترد کرتا ہے۔ ہمیں برہمن ازم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ سب یکساں طور پر پیدا ہوئے ہیں، لہذا یہ کہنا کہ صرف برہمن ہی اعلیٰ ہیں اور باقی سب اچھوت بالکل بکواس ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا فریب ہے۔’

انھوں نے یہ ردعمل کنڑ فلم اداکار اوپیندر کے پروگرام پر دیا، جو کورونا میں معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کی مدد کے لیے منظم کیا گیا تھا۔

اسی کے ساتھ، اوپیندر کا کہنا ہے کہ ذاتوں کے بارے میں بات کرنے سے ہی ذات پات باقی رہے گا۔ جبکہ چیتن کا کہنا ہے کہ برہمن ازم عدم مساوات کی اصل وجہ ہے۔

دونوں اداکاروں کی بحث کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی اور دونوں کے حامی بھی آپس میں لڑنے لگے۔

چیتن نے کہا کہ وہ برہمنوں پر نہیں بلکہ برہمن ذہنیت پر تنقید کرتے ہیں۔ جیسا کہ کنڑ کی دنیا میں، بہت سے برہمن خود برہمن مذہب کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

اس بیان کے بعد برہمن ترقیاتی بورڈ اور ایک تنظیم نے پولیس کے پاس ان کے خلاف شکایت درج کروائی۔

سماجی کارکن گیریش بھاردواج نے بی بی سی ہندی کو بتایا ، ‘ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ امریکی شہری ہیں اور او سی آئی کارڈ ہولڈر ہے۔ کارڈ ہولڈر اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوسکتے ہیں۔
چیتن کمار کون ہیں؟
37 سالہ چیتن کمار امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والدین ڈاکٹر ہیں۔

‘آ دنگالو’ فلم کے ہدایت کار کے ایم چیتنیا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ‘جب چیتن انڈیا واپس آئے تو وہ اپنی فلم کے لیے ایک نیا چہرہ تھے۔’
یہ فلم 2007 میں ریلیز ہوئی۔ اس کے ساتھ چیتن نے کچھ دوسری فلموں میں بھی کام کیا لیکن وہ خاص کامیاب نہیں ہوسکیں۔ لیکن ان کی فلم ‘مینا’، کو جو 2013 میں آئی تھی بہت سراہا گیا۔

مہیش بابو کی ہدایت کاری میں بننے والی ان کی اگلی فلم ‘اتھیرٹھ’ تمام مصالحے کے باوجود باکس آفس پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ اس کی وجہ چیتن کمار کے سیاسی خیالات کو قرار دیا جاتا ہے۔

ایک طرف بطور کارکن چیتن کی شبیہہ کو تقویت ملی ہے، دوسری طرف فلموں میں ان کا کام کم ہو گیا۔

ہدایتکار اور کہانی نویس منجوناتھ ریڈی عرف منصور کہتے ہیں ‘وہ ایک سرشار اداکار ہیں لیکن کامیاب نہیں۔ اب وہ ‘آ دنگالو’ چیتن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن اب وہ ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے اداکار کے طور پر سامنے ہیں جن کے لیے معاشرتی معاملات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔’

فلم انڈسٹری اور معاشرتی مسائل
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کنڑ فلم انڈسٹری میں مشہور شخصیات سماجی امور پر اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں اداکار ایک سماجی کارکن کی شکل میں ڈھلنے والے چیتن کمار قبائلیوں کو جنگل سے ہٹانے کے معاملے پر کوڈاگو ضلع میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ انھوں نے بے گھر لوگوں کو متبادل رہائشی مقامات کی فراہمی کے مطالبے کی حمایت کی۔

دوسرے معاملات کی طرح فلم انڈسٹری کے معروف چہرے بھی چیتن کے معاملے پر کچھ کہنا نہیں چاہتے ہیں۔

ایک نے کہا کہ ‘میں اس مسئلے کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔’ دوسرے نے کہا ، ‘میرے پاس اس لڑکے کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں ہے۔’ تیسرے نے کہا ‘ایسے تنازعات میں گِھر کر وہ اپنی موجودگی دکھانا چاہتا ہے۔’

منصور کہتے ہیں کہ ‘ہماری صنعت میں لوگ تنازعات میں پڑنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ کوئی اداکار قبائلیوں کو بے دخل کرنے یا ان جیسے می ٹو مہم میں حصہ نہیں لے گا۔

منصور کو کوڈاگو میں دھرنے کے دوران چیتن کے ایک سماجی کارکن ہونے کے بارے میں معلوم ہوا۔

چیتن نے ایک پلیٹ فارم بھی بنایا تھا جس کا نام ‘فلم انڈسٹری فار رائٹس اینڈ ایکویلیٹی’ (فائر) تھا، جو فلموں میں کام کرنے والے لوگوں کی معاشی اور جسمانی ہراسانی جیسے معاملات پر کام کرتا ہے۔

لیکن منصور کہتے ہیں کہ ‘تب سے فلمی صنعت میں لوگوں نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔’

شروتی ہریہارن کا کہنا ہے کہ ‘چیتن ایک ایسا شخص ہے جو اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ اپنے کاموں سے کتنا نام یا شہرت پائے گا۔

’فلمی صنعت میں، جو لوگ اپنے حقوق سے محروم ہیں وہ ان کی مدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف کہتے ہیں ، بلکہ کرتے ہوئے بھی دکھاتے ہیں۔’
چیتن کا دفاع
منصور اور شروتی دونوں ہی برہمن پرستی کے چیتن کے بیان کا دفاع کرتے ہیں۔

منصور کہتے ہیں ‘اس نے برہمنوں کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے برہمن ثقافت کے بارے میں بات کی ہے، جس نے فلمی دنیا میں اپنی جڑیں قائم کیں۔ اس نے صرف برہمن ذہنیت کی بات کی ہے۔‘

شروتی نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ ایک برہمن گھرانے سے ہے ، لیکن کچھ مذہبی رواج تھے جن کی انھوں نے پیروی نہیں کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘میں چیتن سے اتفاق کرتی ہوں کہ برہمن مذہبی مساوات کو قبول نہیں کرتے۔ ماہواری جیسے معاملات پر یہ بہت ہی پدر شاہی رویہ رکھتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس نے کسی کو تکلیف دی ہے۔‘

نیشنل ایوارڈ یافتہ کویتا لنکیش کا کہنا ہے کہ ‘وہ محض ایک پرجوش ذہن رکھنے والے نوجوان ہیں جس میں سفارتی صلاحیت بہت کم ہے۔’