• 425
    Shares

دوحہ : افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ پاکستان کا طالبان پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔چہارشنبہ کو اردو نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے سوال پر سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ ماضی کا جھوٹا الزام ہے جس کو ہم نے گذشتہ 20 سالوں میں بار بار مسترد کیا ہے۔‘’ہم اپنے فیصلے اپنے قومی مفادات اور اقدار کی روشنی میں کرتے ہیں۔‘طالبان کا افغانستان کے صوبوں پر تیزی سے قبضے کے بعد افغانوں کی جانب سے مظاہروں میں پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام لگایا گیا تھا اور پاکستان پر پابندیوں کا ہیش ٹیگ بھی چلایا گیا۔اشرف غنی اور امراللہ صالح کی جانب سے پاکستان پر وقتاً فوقتاً طالبان کی مدد کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جن کو پاکستان مسترد کرتا رہا ہے۔تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی اور ان کے رہنماؤں کی پاکستان حوالگی سے متعلق سوال پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی افغانستان سے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔’افغانستان سے کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی پر ہماری پالیسی واضح ہے۔ اگر کوئی کارروائی کرتا ہے تو یہ ہماری پالیسی کے خلاف ہوگا۔‘کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان نے مرکزی بینک سمیت اہم وزارتیں اپنے کمانڈروں کو دے دی ہیں۔ اس سوال پر کیا طالبان کے علاوہ افغان سیاستدانوں کو بھی اہم عہدے دیے جائیں گے تو سہیل شاہین نے بتایا کہ ’حکومت میں شمولیت کے لیے اسلامی امارت کے رہنماؤں کے ساتھ دیگر افغان بھی ہوں گے۔‘کیا آنے والی حکومت بھی طالبان کی گذشتہ حکومت جیسی ہوگی یا اس میں صدر یا وزیراعظم کی ماتحت حکومت ہوگی؟۔ خواتین کے پردہ سے متعلق چہرہ چھپانا یا نہ چھپانا اب خواتین کی مرضی پر منحصر ہوگا ۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں