• 425
    Shares

اسرائیلی حکام نے ان چھ فلسطینی قیدیوں کو پکڑنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں جو اسرائیل کی سخت سکیورٹی والی جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہو گئے تھے۔خیال ہے کہ ان افراد نے کئی مہینے اپنے سیل میں ایک سرنگ کھودی جس کا دوسرا سرا گلبوا جیل کی دیوار کے دوسری طرف سڑک پر نکلتا ہے۔جیل کے باہر کسانوں نے جیل حکام کو خبردار کیا کہ انھوں نے اپنے کھیتوں میں مشتبہ افراد کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔

فرار ہونے والوں میں عسکریت پسند گروپ الاقصیٰ مارٹیئرز بریگیڈ کے ایک سابق رہنما اور اسلامی جہاد کے پانچ ارکین بھی شامل ہیں۔اسرائیلی جیلوں کی سروس کے ایک اہلکار نے فرار کو سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کی ایک بڑی ناکامی کہا ہے جبکہ فلسطینی عسکریت پسند گروہوں نے اسے ’بہادرانہ‘ قرار دیا ہے۔گلبوا جیل میں، جو شمالی اسرائیل کی ایک اعلیٰ سیکیورٹی کی جیل ہے اور جسے محفوظ ہونے کی وجہ سے ’سیف‘ بھی کہا جاتا ہے، حکام کو قیدیوں کے فرار کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب مقامی کسانوں نے انھیں بتایا کہ قریبی زرعی کھیتوں میں کچھ مشکوک افراد بھاگتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔جب جیل کے عملے نے مقامی وقت کے مطابق 04:00 بجے قیدیوں کو گنا تو انھیں پتہ چلا کہ چھ قیدی کم ہیں۔

خیال ہے کہ فلسطینی قیدیوں نے اپنے غسل خانے کے فرش میں سوراخ کر کے وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ بنایا تھا۔ سرنگ کا دوسرا سرا بظاہر جیل کے باہر سڑکے کے پاس نکلتا ہے۔تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حکام غسل خانے کے سنک کے نیچے ایک چھوٹے سوراخ کا معائنہ کر رہے ہیں جبکہ دوسرا سوراخ جیل کی دیواروں کے ساتھ والی کچی سڑک کے وسط میں ہے۔یروشلم پوسٹ کے مطابق قیدیوں نے کھودنے کے لیے زنگ آلود چمچ استعمال کیا تھا جسے انھوں نے ایک پوسٹر کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔دریں اثنا شِن بیٹ سیکیورٹی سروس نے کہا کہ اسے یقین ہے کہ قیدیوں کا رابطہ جیل سے باہر افراد سے تھا جن سے وہ سمگل شدہ موبائل فون کے ذریعے بات کرتے تھے اور انھیں کسی کار میں ہی یہاں سے لے جایا گیا ہے۔

چھ مفرور قیدیوں میں غربِ اردن کے شہر جنین میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ الاقصیٰ مارٹیئرز بریگیڈ کے سابق کمانڈر زکریا زبیدی اور اسلامی جہاد کے پانچ دیگر ارکین بھی شامل ہیں۔ٹائمز آف اسرائیل نے کہا کہ چھ میں سے پانچ قیدی اسرائیلی عوام پر خطرناک حملوں کے سلسلے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، جبکہ زبیدی پر اقدامِ قتل سمیت مختلف جرائم کے دو درجن مقدمات ہیں۔اسرائیلی بارڈر پولیس اور فوج کے دستوں نے مبینہ طور پر مقبوضہ غربِ اردن تک پہنچنے والے افراد کو روکنے کے لیے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، جو کہ گلبوا جیل سے 14 کلومیٹر مشرق میں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے پبلک سیکورٹی کے وزیر عمر بار لیف سے بات کی اور زور دیا کہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے اور مفرور افراد کو تلاش کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز کو بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلامی جہاد نے جیل سے فرار کو ایک ’بہادرانہ‘ اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ’اسرائیلی دفاعی نظام کو دھچکا لگے گا‘، جبکہ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ یہ ایک ’عظیم فتح‘ ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ’دشمن کی جیلوں کے اندر ہمارے بہادر سپاہیوں کے عزم اور ارادے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔