یوں تو غیر ضروری سوچیں اور خرافات انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتیں لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ماننے میں کوئی نقصان بھی نہیں لگتا اور کچھ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ چاہے بڑی سے بڑی ناراضگی ہوجائے لیکن وہ اس کے پیچھے چھپا سچ جان کر رہیں گے۔۔۔

چپل پر چپل چڑھنا
یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ اپنی چپل اتارتے ہیں اور وہ مسلسل اپنی اولاد پر اپنے احکامات کا ایک بوجھ ڈال دیتے ہیں۔۔۔چپل پر چپل چڑھنے کی مثالیں یہ دی جاتی ہیں کہ شاید کوئی سفر ہوگا، یا ملک سے باہر جانے کے لئے کوئی بزنس سے جڑا سبق۔۔اکثر جگہ اس طرح کے عمل کو منحوس بھی کہا جاتا ہے کہ چپل کو چپل پر چھوڑیں گے تو ضرور کوئی مصیبت آنے والی ہے۔۔۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ ن سارے توہمات کی کوئی حقیقت نہیں۔۔۔

رات میں جھاڑو لگانا
کسی کتاب میں رات کو جھاڑو مارنے کو برا نہیں مانا گیا۔۔۔لیکن گھر کے بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ اگر مغرب کے وقت یا اس کے بعد جھاڑو پھیری جائے تو قسمت منہ پھیر لیتی ہے۔۔۔رات کو جھاڑو لگانے کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اس کے بعد زندگی میں کوئی نا کوئی حادثہ ہوجاتا ہے۔۔۔لیکن بہت ساری خواتین نے اسے مفروضہ ہی مانا-

ایک ساتھ بولنا
ایک دور تھا کہ منڈیر پر کوا بولتا تھا تو گھر والے کچھ پکاتے تھے کہ یہ تو مہمان کی آمد کی خبر ہے۔۔۔لیکن پھر وقت تو بدل گیا سوچ وہیں رک سی گئی۔۔۔اب اگر ایک ہی وقت میں اچانک کسی ایک ہی بات کا جواب دینے لگ جائیں تو بھی مہمانوں کا گھر پر آنا کنفرم ہوجاتا ہے ۔۔۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔