بین الاقوامی ٹیم جس نے چین کے شراکت داروں کے ساتھ کرونا وائرس کے ممکنہ ذرائع کے بارے میں انتہائی منتظر مطالعہ کیا ، نے منگل کو ایک ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا آغاز ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس تحقیق کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ، جبکہ چین نے تعاون کرنے کی بات کی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے پیٹر بین ایمبریک ، جنہوں نے ٹیم کی قیادت کی ، وبائی مرض کے ذمہ دار وائرس کے ممکنہ ذریعہ کے بارے میں پہلے مرحلے کی مطالعاتی رپورٹ پیش کی۔ اس وبا کا آغاز چین میںپچھلے سال ہوا تھا ، اس سے اب تک تقریبا 28 لاکھ افراد کی موت ہو چکی ہے اور معیشت ایک خراب مرحلے سے گذر رہی ہے۔

ایسوسی ایٹ پریس کو سوموار کو ملی رپورٹ اور منگل وار کو باضابطہ طور پر شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چمگادڑ سے دوسرے جانوروں کے ذریعہ انسانوں میں وائرس پھیلنے کا زیادہ امکان ہے ، جبکہ لیبارٹری سے وائرس کے رسنے کا خدشہ بہت ہی کم ہے۔ اسی دوران ، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ اب تک مفروضے پر روک نہیں لگی ہے ، لیکن اس پر تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد ، امریکہ اور ایک درجن کے قریب ممالک نے اس تحقیق کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے چین کی طرف براہ راست نشاندہی کرنے کے بجائے ، اس نے اطلاع دینے میں تاخیر اور نمونے اور اعداد و شمار تک رسائی نہ ہونے پر توجہ مبذول کروائی۔ ان تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے چین نے کہا کہ یہ اس مسئلے کو سیاست کرنے کی کوشش ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں اہم اعداد و شمار ، معلومات کا فقدان ہے ، ان تک رسائی نہیں ہے ، شفافیت کا فقدان ہے۔ ساکی نے کہا کہ اس تحقیق سے اتنا اثر نہیں ہوسکا جتنا وبا کا اثر دنیا پر پڑا ہے۔ ٹیم کے متعدد ممبروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں شریک ایمبریک نے کہا کہ ٹیم کو ابتدائی اعداد و شمار تک مکمل پہنچ حاصل نہیں تھی اور اس کی سفارش کی گئی ہے کہ مستقبل میں اس کا مطالعہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پہلا آغاز ہے ۔ہم نے ابھی اس پیچیدہ مطالعے کی سطح کو کھرچہ ہے ، اور اس کے مطالعے کرنے کی ضرورت ہے۔ جاپان کے چیف کابینہ کے سیکرٹری کتسونوابو کتو نے صحافیوں کو بتایا کہ آئندہ وقت میں وبا کی روک تھام کے لئے یہ ضروری ہے کہ ماہرین کی سربراہی میں آزادانہ تحقیقات کرانا ضروری ہے جو نگرانی سے پاک ہیں۔