چاند گہن 2022 : ہندوستان میں کہاں دکھے گا چاند گہن : جانئے وقت اور احتیاط

1,607

سال 2022 کا آخری چاند گہن۔ ہندوستان میں نظر آنے والا آخری چاند گہن 19 نومبر 2021 کو ہواتھا، جو 580 برسوں میں سب سے طویل جزوی چاند گہن تھا۔

سورج گرہن کے بعد اب سال کا آخری چاند گرہن ہونے جا رہا ہے۔ سال کا آخری چاند گرہن 08 نومبر کو ہوگا اور یہ گرہن بھارت میں دیکھا جاسکے گا۔ چونکہ یہ چاند گرہن ہندوستان میں نظر آئے گا اس لیے اس کا سوتک بھی درست ہوگا۔ اس لیے نجومی لوگوں کو اس گرہن سے محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

آئیے جانتے ہیں کہ ہندوستان میں سال کا آخری چاند گرہن کس وقت نظر آئے گا اور اس کا وقت کیا ہوگا۔

جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آتی ہے، تو چاند گرہن ہوتا ہے۔ سال کا آخری چاند گرہن میش میں ہونے جا رہا ہے۔ ہندوستانی وقت کے مطابق سال کا آخری چاند گرہن 08 نومبر کو شام 5 بجکر 20 منٹ پر شروع ہوگا اور شام 06 بج کر 20 منٹ پر رہے گا۔ اس کا دورانیہ چاند گرہن سے 9 گھنٹے پہلے کا ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کو چاند گرہن سے 9 گھنٹے پہلے اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

سال کا پہلا چاند گرہن 16 مئی کو بودھ پورنیما کے دن ہوا۔ اب سال کا دوسرا اور آخری چاند گرہن 8 نومبر کو ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چاند گرہن بھارت کے مشرقی علاقوں میں نظر آئے گا۔ یہ چاند گرہن ملک کی راجدھانی دہلی سمیت گوہاٹی، رانچی، پٹنہ، سلی گوڑی اور کولکتہ میں بھی نظر آئے گا۔ ان شہروں میں رہنے والے لوگوں کو چاند گرہن کے دوران خاص احتیاط کرنی ہوگی۔

اس کے علاوہ 08 نومبر کو ہونے والا چاند گرہن شمالی/مشرقی یورپ، ایشیا، آسٹریلیا، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ کے بیشتر حصوں، بحرالکاہل، بحر اوقیانوس، بحر ہند، آرکٹک اور انٹارکٹیکا کے علاقوں سے بھی نظر آئے گا۔

اسلامی تعلیمات اور احتیاط

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا۔ پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا۔ پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر رکوع کیا تو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا۔ پھر فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا:

إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اﷲِ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَادْعُوا اﷲَ وَکَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاﷲِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اﷲِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاﷲِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلبَکَيْتُمْ کَثِيرًا.

بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جن کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب بھی تم یہ (گرہن) دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، تکبیر کہو، نماز پڑھو اور صدقہ دو۔ پھر فرمایا اے امت محمد! خدا کی قسم، اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں جب کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد! اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے۔

بخاري، الصحيح، 1: 354، رقم: 997، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
مسلم، الصحيح، 2: 618، رقم: 901، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے سورج گرہن اور چاند گرہن کے اوقات میں نوافل، دعاؤں اور صدقات کے واقعات تو ملتے ہیں، مگر سوال میں مذکورہ امور کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی ممانعت بیان نہیں فرمائی نہ ہی سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت حاملہ خواتین کے لیے کوئی خصوصی احکام بیان فرمائے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔