چار علاقوں پر روسی قبضے کے بعد یوکرین نے نیٹو کی رکنیت کے لیے بڑھایا قدم

131

کیف:30۔ستمبر۔(ایجنسیز) یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین کے چار علاقوں کو ضم کرنے کے بعد کیف نیٹو کی رکنیت کے لئے درخواست پیش کرنے جا رہا ہے۔ یہ بات یوکرین کے صدر نے جمعہ کے روز یہ بیان دیا۔

یوکرین کے صدارتی دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں زیلنسکی نے کہا ’’ہم نے پہلے ہی اتحاد کے معیارات کے ساتھ اپنی مطابقت ثابت کر دی ہے۔ ہم تیزی سے نیٹو کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم یوکرین کی درخواست پر دستخط کر کے فیصلہ کن قدم اٹھا رہے ہیں۔‘‘اس کے ساتھ ہی زیلنسکی نے انتباہی لہجے میں کہا کہ جب تک روس میں ولادیمیر پوتن برسراقتدار ہیں، وہ ماسکو کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ تاہم نئے صدر (روس) سے مذاکرات ضرور کریں گے۔

قبل ازیں، روس نے یوکرین کے چار علاقوں کو اپنی سرزمین میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ یوکرین سے علیحدہ کیے جانے والے علاقوں میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد کیا گیا۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ روزہ ریفرنڈم میں حمایت حاصل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ان علاقوں میں جو لوہانسک، دونیتسک، زاپوریزہیا اور خیرسن شامل ہیں۔ یاد رہے اس سے قبل دوہزار چودہ میں ریفرنڈم کے بعد روس نے کریمیا کو بھی اپنے علاقوں میں شامل کیا تھا۔دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین کے چار علاقوں کے روس سے الحاق کے ریفرنڈم کے نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں علاقے یوکرین کا حصہ تھے اور رہیں گے۔ امریکہ نے بھی اس حوالے سے یوکرین کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل یوکرین میں شرمناک ریفرنڈم پر روس کی مذمت کرے۔