اسلام آباد، 11 اپریل (یو این آئی) پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل اور نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے پیش رفت دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 تاریخ کو آپ کو غیر ملکی مراسلہ موصول ہوتا ہے اور 8 تاریخ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے، اگر کوئی اسمبلی میں بیٹھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا یہ آپ اس سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی بھی بیرونی طاقت کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان میں حکومتیں بنانے اور حکومتیں توڑنے میں کردار ادا کرے، عمران خان دنیا اور امریکہ کو ’ایبسلوٹلی نوٹ‘ کہہ چکے ہیں۔

اپوزیشن کے حوالے سے مراد سعید نے کہا کہ پاکستانی قوم نے انہیں مسترد کردیا ہے، یہ پہلے بھی کرپٹ تھے اب بھی کرپٹ ہیں، پہلے بھی بین الاقوامی سازشوں کا حصہ تھے اور اب بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سیمستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بعدازاں ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں مراد سعید نے کہا کہ جن کی حرصِ زر، ہوس اقتدار نے میری قوم کو“بھکاری”بنایا ان کو ملک کا سربراہ نہیں مانوں گا۔اس سلسلے میں فرخ حبیب نے بھی ٹوئٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے‘۔

پارٹی کے فیصلے کے بعد فواد چوہدری نے بھی مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزادی کے لیے لڑیں گے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکاء نے عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کروائی۔اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جارحانہ سیاست پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ استعفوں سے متعلق عمران خان جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جو بھی وزیر اعظم حکومت سے باہر نکلتا ہے تو اُس پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں الحمد اللہ عمران خان پر کوئی کرپشن کے الزامات نہیں ہیں۔

اجلاس میں موجود کچھ اراکین نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں جمہوری لڑائی کی تجویز بھی پیش کی۔اس موقع پر فواد چوہدری، حماد اظہر، شیخ رشید، علی اعوان مستعفی ہونے کے حق میں تھے جبکہ شاہ محمود قریشی، فیصل جاوید، فخر امام سمیت اکثریتی ارکان مستعفی نہ کی تجویز پیش کی تھی۔تاہم پارٹی کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی اراکین نے اسمبلی کی رکینیت سیاستعفیٰ دینے شروع کردیے ہیں۔