پی ایف آئی پر زائداز 120 کروڑ کی منی لانڈرنگ کا الزام

378

ئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے ہفتہ کو ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس کے 3 ارکان کے خلاف مبینہ دہشت گردی سرگرمیوں سے متعلق کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔

توقع ہے کہ 21 نومبر کو خصوصی جج شیلندر ملک کے اجلاس پر اس کیس کی سماعت ہوگی۔ پی ایف آئی کے علاوہ چارج شیٹ میں پرویز احمد، محمد الیاس اور عبدالمقیت کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ڈیوٹی جج دیویندرکمار جنگلا نے کہا تازہ شکایت (ای ڈی کی چارج شیٹ کے برابر) درج کی گئی ہے۔ اسے چیک کیا جائے اور رجسٹر کیا جائے۔

21 نومبر 2022 کو متعلقہ عدالت کے سامنے غور کیلئے پیش کیا جائے۔ ای ڈی کے خصوصی وکیل استغاثہ ایم کے مٹا کے ذریعہ داخل کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ملزم احمد، پی ایف آئی کی دہلی یونٹ کا صدر تھا جبکہ محمد الیاس اس کے جنرل سکریٹری اور عبدالمقیت آفس سکریٹری تھے۔

ملزمین کو 22 ستمبر کو 120 کروڑ روپے کی مبینہ لانڈرنگ کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مرکز نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پی ایف آئی کے مبینہ روابط کے سبب ستمبر کے اواخر میں اس تنظیم پر پابندی لگادی تھی۔ ای ڈی نے این آئی اے کے ذریعہ درج کرائی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کیا ہے جو مبینہ طور پر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے سلسلہ میں درج کی گئی ہے جو کہ انسداد غیر قانونی سرگرمیاں قانون (یواے پی اے) کے تحت قابل سزا ہے۔

اب تک کی گئی تفتیش یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ تنظیم سے وابستہ ملزمین اور دیگر ارکان نے چندہ، حوالہ، بینکنگ چیانلوں کے ذریعہ رقومات اکھٹا کی تھیں جو غیرقانونی سرگرمیوں اور درج فہرست جرائم کیلئے استعمال کی جارہی تھی۔ ای ڈی نے اپنی قطعی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے۔

ایڈوکیٹ محمد فیضان خان کے ذریعہ داخل کی گئی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ جعلی نقد عطیات اور بینک ٹرانسفرز بھی پائے گئے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پی ایف آئی کے عہدیداروں کی طرف سے برسوں کے دوران رچی گئی ایک سازش کے تحت ایک خفیہ چینل کے ذریعہ بیرون ملک سے ہندوستان نے بھی رقومات منتقل کی گئیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 22 ستمبر کو اس معاملہ میں ای سی آئی آر کے اندراج کے بعد تینوں ملزمین کے مکانات کی تلاشی لی گئی اور 5 موبائیل فون ضبط کئے گئے۔ چارج شیٹ میں تفتیش کے دوران قلمبند کئے گئے ملزمین اور گواہوں کے بیانات بھی شامل ہیں۔