مزید دستبرداری کیلئے آج ملٹری بات چیت ۔ علاقہ میں کشیدگی ختم کرنے پر توجہ مرکوز

نئی دہلی : پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں سے فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی واپسی کا عمل مکمل کرلینے کے بعد ہندوستان اور چین ہفتہ 20 فروری کو اعلیٰ سطح کی ملٹری بات چیت کا تازہ راونڈ منعقد کریں گے تاکہ افواج کی دستبرداری کو مشرقی لداخ کے علاقوں ہاٹ اسپرنگس، گوگرا اور دیپسانگ تک توسیع دی جاسکے۔ سرکاری ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا دسواں راونڈ ہفتہ کو صبح 10 بجے حقیقی خط قبضہ کی چینی سمت مولدو سرحدی مقام پر شروع ہوگا۔ یہ پینگانگ جھیل کے علاقوں سے فوجی دستوں کی دستبرداری کے اختتام کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان سینئر سطح پر یہ پہلی بات چیت رہے گی۔ ذرائع نے کہا کہ فوجی دستوں، ہتھیاروں اور دیگر ملٹری سازوسامان کے ساتھ ساتھ بنکروں، خیموں اور عارضی ڈھانچوں کو ختم کرنے کا عمل بھی جمعرات کو پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں پر مکمل کرلیا گیا ہے اور دونوں طرف سے اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ بتایا گیا کہ دونوں فریق پینگانگ جھیل کے علاقوں سے فوجی دستوں کی دستبرداری کا جامع انداز میں جائزہ لیں گے۔ جمعہ کو چین نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر یہ تسلیم کیا کہ گذشتہ سال جون میں مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں ہندوستانی آرمی کے ساتھ پیش آئی شدید جھڑپ میں اس کے چار سپاہی بھی مارے گئے تھے۔ دوبدو لڑائی میں ہندوستان نے 20 سپاہی کھوئے تھے۔ ذرائع نے اشارہ دیا کہ ہفتہ کی بات چیت کے دوران ہندوستان بقیہ علاقوں سے بھی فوجی دستوں کی تیز تر واپسی پر اصرار کرے گا تاکہ خطہ میں کشیدگی کو ختم کیا جاسکے۔ دونوں ملٹریز کے درمیان لگ بھگ 9 ماہ میں نہایت کشیدہ تعطل دینے میں آیا ہے۔ 11 فبروری کو وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں سے ہندوستان اور چین نے اپنے فوجی دستوں کو ہٹانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ دونوں فریقوں نے مرحلہ وار، مربوط اور قابل تصدیق انداز میں فوجی دستوں کی اگلے محاذوں پر تعیناتی کو ختم
کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت راجناتھ نے بتایا تھا کہ چین پینگانگ جھیل کے شمالی کنارہ کے فنگر 8 علاقوں کے شمال سے اپنے فوجی دستوں کو واپس طلب کرلے گا جبکہ ہندوستانی فوجی بھی اس خطہ میں فنگر 3 کے قریب دھان سنگھ تھاپا پوسٹ میں اپنے مستقل اڈہ کو واپس پہنچ جائیں گے۔
اسی طرح اس کا عمل جھیل کے جنوبی کنارہ پر بھی ہوگا۔ ذرائع نے کہا کہ دونوں طرف کے فوجی دستے ان پوزیشنس کو واپس پہنچ چکے ہیں جن پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے۔ فوجی دستوں کی واپسی کا عمل 10 فروری کو شروع ہوا تھا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں