• 425
    Shares

سویڈن کے مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے ابھی تک ٹریفک حادثے کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی مگر آرٹسٹ کے ایک ساتھی نے تصدیق کی ہے کہ 75 سالہ ولکس کی گاڑی کو ایک بے قابو ٹرک نے ٹکر ماری جس کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی۔ حادثے میں ملعون کارٹونسٹ اور اس کے دونوں محافظ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنانے والا سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس اپنے دو پولیس محافظوں سمیت ٹریفک حادثے کے نتیجے میں جل کر ہلاک ہوگیا۔

گستاخ کارٹونسٹ لارس نے 2007 میں ایک مقابلے کے دوران نبی الزمان کے گستاخانہ خاکے بنائے تھے جس کے بعد سے اسے مسلسل قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں

حادثے سے متعلق اب تک کیا معلوم ہوسکا ہے

یہ حادثہ اتوار کے روز دو پہر بعد جنوبی سویڈن کے مارکریڈ شہر کے پاس ای 4 شاہراہ پر پیش آیا جب وہ کار میں سفر کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر پہلے ایک ٹرک سڑک کو تقسیم کرنے والی ریلنگ سے ٹکرانے کے بعد اس کار سے ٹکراگیا، جس میں کارٹونسٹ ولکس اور اس ان کے دو محافظ پولیس اہلکارسفر کر رہے تھے۔

ایک مقامی اخبار نے کارٹونسٹ کی ایک ساتھی کے حوالے سے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے اس معاملے میں کسی حملے سے انکار کیا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس سڑک حادثے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرک ڈرائیور بھی زخمی ہوا جسے اسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے اور حکام اس حادثے کی اسی طرح سے تفتیش کر رہے ہیں

جیسے کسی بھی سڑک حادثے کی کی جاتی ہے۔

مقامی پولیس افسر کیرینا پیرسن کا کہنا تھا، ”یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ جس شخص کی ہم حفاظت کرنا چاہتے تھے وہ اس سانحے میں اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔”

لارس ولکس کون تھا؟

سویڈن کے 75 سالہ کارٹونسٹ کو سن 2007 میں پیغمبر اسلام پر متنازعہ خاکہ بنانے سے پہلے دنیا میں شاید ہی کوئی جانتا تھا۔ البتہ اس نے حکام کی اجازت کے بغیر ہی جنوبی سویڈن میں ایک محفوظ قدرتی علاقے میں لکڑی کا ایک مجسمہ تیار کیا تھا۔ اس کی وجہ سے اسے شہرت تو ملی تھی تاہم اس کے لیے ان کے خلاف ایک طویل قانونی جنگ بھی شروع ہوگئی۔

دنیا کے لوگوں نے اس کا نام اسی وقت سنا جب ملعون نے پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکہ بنائےا۔ اس کی وجہ سے اس کی زندگی بھی تبدیل ہو کر رہ گئی اور اسے مستقل سکیورٹی حصار میں رہنا ہوتا تھا۔ اسلام میں پیغمبر اسلام کی تصاویر یا ان کے خاکے بنانے کو حرام قرار دیا جاتا ہے۔

شدت پسند تنظیم القاعدہ نے ان کو ہلاک کرنے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ سن 2010 میں دو افراد نے جنوبی سویڈن میں ان کے گھر میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی تھی۔ گزشتہ برس ہی امریکی ریاست پینسلوینیا میں ایک خاتون نے عدالت میں ان کو ہلاک کرنے کی ایک سازش میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔