روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ماضی میں پیغمبرِ اسلام سے متعلق ایک بیان دیا تھا، جسے انڈیا میں یہ موضوع زیر بحث آنے کے بعد بغیر سیاق و سباق استعمال کیا جا رہا ہے۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پوتن نے 23 دسمبر 2021 کو ایک سالانہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’پیغمبرِ اسلام کی توہین، اظہار رائے کی آزادی نہیں اور اسلام کے پیروکاروں کے مقدس احساسات کی خلاف ورزی ہے۔‘

ایک ایسے وقت میں جب دائیں بازو کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ’اسلام مخالف بیانات‘ دینے پر تنقید کی جا رہی ہے، انڈیا میں بعض سوشل میڈیا صارفین اور اپوزیشن کی جماعت کانگریس نے پوتن کے اس بیان کو دوبارہ شیئر کیا اور وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ بیان حالیہ ہے۔

ایک گمراہ کن ٹویٹ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں کانگریس کے رہنما اور ایک امارتی شاہی خاندان کے فرد نے شیئر کی۔ اسے اب تک سات ہزار سے زیادہ مرتبہ ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔ اس پوسٹ کو متعدد ایسے اکاؤنٹس نے بھی شیئر کیا جو غیر تصدیق شدہ یا ان ویریفائیڈ ہیں۔

بی جے پی کے دو سینیئر اہلکاروں کی جانب سے پیغمبر اسلام سے متعلق دیے جانے والے متنازع بیانات پر ملک کی مسلم اقلیتی برداری نے غم و غصہ ظاہر کیا ہے مگر پوتن کے اس بیان کا انڈیا کے حالیہ تنازع سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ سنہ 2021 میں دیا گیا تھا۔

اس کے باوجود انڈیا اور مشرق وسطیٰ کے کئی صارفین کا دعویٰ ہے کہ پوتن نے یہ بیان اسی جھگڑے پر دیا ہے۔

پوتن نے یہ بیان سنہ 2021 میں ایک سالانہ پریس کانفرنس کے موقع پر دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پیغمبر اسلام سے متعلق متنازع بیانات سخت گیر اسلام کے ماننے والوں کو انتقامی کارروائیوں پر اکساتے ہیں۔ انھوں نے اس حوالے سے پیرس میں چارلی ایبڈو حملے کی مثال دی تھی۔

مگر اب سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک گمراہ کن پوسٹ میں پوتن کو سعودی حکمران سلمان بن عبد العزيز آل سعود کو ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے اور اس پوسٹ میں پوتن کا یہی بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر لکھا گیا ہے۔

جب بی بی سی نے اس تصویر کی جانچ کے لیے ریورس امیج سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تصویر سنہ 2019 کی ہے، جب روسی صدر سعودی عرب کا دورہ کر رہے تھے۔ اس ملاقات کا بھی پوتن کے بیان سے کوئی تعلق نہ تھا۔

انڈیا میں اسلاموفوبیا سے جڑا تنازع آخر ہے کیا؟
سابق بی جے پی ترجمان نوپور شرما نے قریب دو ہفتے قبل ٹی وی پر تکرار کے دوران پیغمبر اسلام سے متعلق متنازع بیان دیا تھا، جس نے انڈیا میں مسلمانوں کو ناراض کیا اور ایک درجن سے زیادہ مسلم ممالک نے اس کی مذمت کی جن میں متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، عراق، مالدیپ، اردن، لیبیا اور بحرین شامل ہیں۔ کویت، ایران اور قطر نے انڈین سفیروں کو بلا کر احتجاج کیا جبکہ سعودی عرب نے سخت الفاظ میں اس پر تنقید کی۔

انڈین سفارتکاروں نے کہا ہے کہ یہ بیانات حکومت کے مؤقف کی تائید نہیں کرتے۔

اتوار کو بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی نے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ نوین کمار جندال، جو دلی میں پارٹی کے میڈیا یونٹ کے سربراہ ہیں، کو بھی اس متنازع اور توہین بیان بیان کا سکرین شاٹ ٹوئٹر پر شیئر کرنے پر پارٹی سے نکالا گیا۔پارٹی سے نکالے جانے کے بعد نوپور شرما نے اپنے بیانات واپس لینے کا اعلان کیا مگر کہا کہ انھوں نے یہ ’ہندو دیوتا شیو کی مسلسل توہین‘ کے ردعمل میں کہا تھا۔

پرشانت شرما ورلڈ سروس ڈس انفارمیشن ٹیم