محمدتقی9325610858

جوں ہی لاک ڈاون ختم کاسرکاری اعلامیہ جاری ہوا ہماری ر یاست اور ہمارے شہرِ امن اورشہر نگاراں کی دوکانوں اور کاروبارات پر ڈھائی ما ہ سے پڑے تالے کھٹاکھٹ کھُلنے لگے توشہریان بھی اپنے مکانوں سے جو کال کوٹھٹریوں میں تبدیل ہوچکے تھے باہر کھلی تازہ ہوا میں نکل آئے ۔ لا ک ڈاون کے منحوس دور میں شہر موت کے کنوﺅں میں تبدیل ہوچکے تھے ‘گھروں سے باہر نکلنا موت کودعوت دیناتھا ۔ شہر کے چپے چپے پر کورونا نے موت کے پہرے لگارکھے تھے ۔ کورونا‘کوویڈ19 کاخوف اوردہشت اتنی تھی کہ کوئی بھی اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کربلا ضروری باہر نکلنا نہیں چاہتاتھا ۔ اور اُس پرطُرفہ تماشایہ کہ ماحول کوخوفناک اور وحشت ناک بنانے میں حکومت اور ملک کے گودی میڈیا نے جلتی پرتیل ڈالنے کاکارِ بد کیا تھا۔

غم مجھے‘حسرت مجھے ‘ وحشت مجھے‘ سودامجھے
اک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

دوکانوں اوردماغوں پر پڑے تالوں کاکھُلنا تھا کہ دلوں پرچھائے مایوسی اور غم کے سیاہ بادل چھٹنے لگے ۔ نرم روپہلی دھوپ نکل آئی۔ذہن کی گُل قندیلیں پھر روشن ہونے لگیں ۔کوروناوباءسے گھبراکر انسان تو انسان پرندے بھی جواپنے آشیانوں میں سہمے بیٹھے تھے‘یکایک آشیانوں سے باہر نکل آئے اورآسمان کی کھلی فضاﺅں میں چہچہاتے ہوئے قلابازیاں بھرنے لگے ۔مورجنگلوں میں جھوم جھوم کر رقص کرنے لگے ۔ قُمریاں خوشی کے ترانے‘بُلبلیں گلابوں سے لپٹ کر محبت کے گیت گانے لگےں ۔آم کے درختوں پربیٹھی کوئلیں خوشی سے سرشار نغمے گنگنانے لگیں ۔ کوئل کی کوک میں‘ بُلبل کے نالوں میں‘قمریوں کے ترانوں میں رب العلمین کے فضل و کرم‘احسان وشکر اور رحمتوں کے ذکر سے فضائیں معطر ہونے لگیں ۔ غرض کہ کیا پرند ‘کیاآدم اوررکیا آدم زاد سبھی مستی اور خوشی میںڈوبے آزادانہ فضاءمیںسانس لینے لگے۔ روٹھی بہاریں پھرلوٹ آئیں۔ نسیم سحر لہرا کرچلنے لگی ۔اب دستِ صبا کے جسم کوچھونے کااحساس ہونے لگا ۔صبا کے چھوتے ہی جسم میں ا یک برق سی لہرانے لگی !جھرنوں سے نکل کر پتھر یلی راہگزاروںسے گزرنے والے شفاف پانی سے پیدا ہونے والی موسیقی فرحت بخش تازگی کااحساس ہردم دلارہی تھی ۔ چارسو بڑا دلنشیں اوردلکش منظر تھا جو آنکھوں کوٹھنڈک اور روح کوقرار بخش رہاتھا ۔یوںلگا جیسے کائنات کی ہرشئے پرخوشی و مسرت کی چادر تن گئی ہو ۔

پھر نظر میں پھول مہکے ‘ دل میں پھر شمیں جلیں

پھرتصور نے لیا اس بزم میں جانے کانام

جب بندوں کی نافرمانیاں اورخطائیں بڑھ جاتی ہیں ۔گناہوں کاگھڑا بھر جاتا ہے تواللہ تعالیٰ روئے زمین پروبائی مرض کی شکل میںعذاب نازل کرتے ہیں ۔ کوروناوباءبھی ایک عذاب ہی ہے جو بندوں پرموت بن کراتراہے۔ہمارے ملک میں مارچ 2020ءسے اس وباءکی شروعات ہوئی۔یہ پہلی لہرتھی دوسری لہر مارچ 2021ءمیں آئی ۔اس طرح اس ظالم مرض کو ایک سال تین ماہ ہوچکے ہیں۔ اس سارے عرصے میں انسانیت بڑے آلام ‘مشکلات اورمصائب سے گزری ہے ۔ اس دوران ہم کیاکھویااورکیاپایا ؟ کاجائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلے گا کہ انسان ہر طرح سے خسارے میں ہے ۔ہم نے کیا کھویاہے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کاجواب ہرکوئی جانناچاہتا ہے ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے قیمتی جانیں گنوائی ہیں ۔سواسال ہورہاہے اب بھی درس گاہوں پرتالے پڑے ہیں ۔ کتابوں کو جالے لِپٹ گئے ہیں ۔ہمارے بچوں کے ہاتھوںسے کتابیں چھوٹ گئی ہیں۔ کتابوں کی جگہ موبائل نے لے لی ہے۔ہم اقتصادی بحران میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ذہنی امراض کاشکار ہوئے ہیں ۔

اگر ہم کیاپایا ہے کی بات کرتے ہیں توغربت ‘ مفلسی‘ بے روزگاری ‘ بے کاری ‘بھکمری‘جہالت ‘ ضعیف الاعتقادی ‘نفسیاتی امراض کوپایا ہے ۔ کورونا کے جِن کوبھگانے کےلئے ہمارے وزیراعظم مودی جی سے ہم نے موم بتی جلانااور تھالی بجانا سیکھا ہے ۔ موم بتیاں جلتی رہیں ‘تھالیاں بجتی رہیں مگر جن کو نہ جاناتھا نہ گیا! یہ سب تماشاکورنا کی پہلی لہر میں ہوا اسکے باوجود دوسری لہر آئی اور پہلی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ۔ ماہرین طب کی پیش گوئیوں کے حوالے سے کورونا کی تیسری لہر کے بادل ہمارے سروں پر منڈلارہے ہیں ۔ ہمارے وزیراعظم اوران کی کابینہ ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔اس سارے قصے میں مودی جی اوران کی حکومت سسکتی انسانیت کے زخموں پرپھایارکھنے میں فلاپ رہی ہے ۔ایسے ناکارہ وزیراعظم اورنا اہل مرکزی حکومت کواقتدارسے چمٹے رہنے کاکوئی حق نہیں ہے ۔قومی اورعالمی سطح پر مودی جی اوران کی حکومت کی سات سالہ کارکردگی کاجائزہ لینے والے اداروں کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مودی جی کی مقبولیت کاگراف کافی گرا ہے ۔اسکا مطلب صاف ہے کہ 2024ءمیں زعفرانی حکومت کاچل چلاﺅ یقینی ہے۔

جس عہد میں لُٹ جائے فقیروںں کی کمائی

اس عہد کے سُلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ڈھائی ماہ قبل جب بے رحم ‘ستمگرکوروناکارقص موت اپنے شباب پرتھا تو ہرآنکھ پُرنم اورہر دل سوزمیں ڈوباہواتھا ۔جیسے ہی لاک ڈاون کاکفر ٹوٹا‘ پھرایک بار آنکھوں میں خوشی کے آنسوﺅں کاسیلاب اُمڈپڑا ۔ لوگ اپنے پیاروں کوکھوچکے تھے ۔ہرخاندان کا کوئی نہ کوئی فرد کورونا کے خونی پنجوں سے لہولہان دم توڑ چکا تھا ۔قبرستان اورشمشان گھاٹ بڑاہیبت ناک منظرپیش کررہے تھے ۔ گورکن قبریں کھودتے کھودتے اور پجاری چتاﺅں کوآگ دیتے دیتے تھک چکے تھے ۔ایک ساتھ کئی چتائیں جل رہی تھیں ۔قبرستانوں میں ایک ہی وقت کئی مُردے دفن ہورہے تھے ۔ لوگ اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کودفنانے اورچتاﺅں کی آخری رسومات ادا کرنے سے گریز کررہے تھے ۔ رضاکارتنظیموں کے کارکن مردوں کودفنانے اورچتاﺅں کونذرآتش کرنے کا کارخیر انجام دے رہے تھے ۔ یہ عجیب وغریب مناظر آنکھوں میں جم گئے اور ذہنوں سے چپک کررہے گئے تھے ۔آج ان مناظر کے ذہن کے اسکرین سے غائب ہوجانے پرہردل خوشی ومسرت سے سرشار دھڑک رہاہے ۔ ہر دھڑکن میں خدائے بزرگ وبرتر کی حمدوثناءکی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ہرچشم ترسے شادمانی کے آنسو بے اختیار رواں ہیں ۔ مانو یہ آنسو خودایک دعابن گئے ہوں۔اے! میرے مولیٰ دلِ برباد کی بس یہ صدا ہے۔

میری غفلتوں کی حد نہیں‘ تیری رحمتوں کی حد نہیں
نہ میری خطا کا شمار ہے ‘ نہ تیری عطا کا شمار ہے