پھر دو مسلم لڑکیاں ہوئیں مرتد ٗہندو لڑکوں سے شادی کرلی : ویڈیو دیکھیں

5,903

بریلی (اتر پردیش): ملک بھر میں متعدد واقعات میں مسلم لڑکیاں مرتد ہورہی ہیں اور مذہب اسلام کوچھوڑ کر ہندو دھرم اختیار کرکے اسی سماج کے لڑکوں سے شادی بھی رچارہی ہیں ۔جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ بریلی میں دو مسلمان لڑکیوں نے اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو لڑکوں سے شادی کرلی۔

انہوں نے اپنے بوائے فرینڈس سے شادی کے لئے اسلام چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ انہیں ہندو مذہب میں مکمل یقین ہے۔ مدیناتھ میں واقع ایک آشرم میں پنڈت کے کے شنکدھر نے ہندو رسومات کے مطابق ان کی دو ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی انجام دی۔

بتایا گیا ہے کہ اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد اِرم زیدی، سواتی بن گئی جبکہ شہناز نے اپنا نیا نام سمن رکھ لیا ہے۔

سبھاش نگر تھانہ علاقہ کے مدیناتھ میں مسلم لڑکیوں نے ہندو رسم و رواج کے مطابق سندور اور منگل سوتر پہنا کر 7 چکر لگائے۔ سمن کو بھوجی پورہ کی رہنے والی شہناز کے اجے نامی نوجوان سے محبت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس نے ہندو مذہب اختیار کر لیا اور اجے سے شادی کی۔ اسی دوران بہار کی ارم زیدی نے بھی ہندو مذہب اختیار کر لیا اور اپنا نام سواتی رکھ لیا۔ ارم زیدی نے آدیش کمار سے شادی کی۔پنڈت کے کے شنکھدھر نے دونوں لڑکیوں کی شادی مدیناتھ کے اگست منی آشرم میں کرائی۔ پہلے دونوں لڑکیوں کو ہندو رسومات کے ذریعہ شدھ کیا گیا۔ اس کے بعد مذہب تبدیل کرکے اب کا نام بدل دیا گیا۔

اس کے بعد دونوں کی شادی قانون کے مطابق ہندو لڑکوں سے کر دی گئی۔ بہیدی کی ارم زیدی کہتی ہیں کہ وہ بھی ہندو مذہب میں یقین رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہندو مذہب اختیار کیا اور ایک ہندو لڑکے سے شادی کی۔

سمن دیوی نے خاندان کے افراد پر الزام لگایا:

بریلی کے بھوجی پورہ تھانہ علاقے کے تحت سالاگ پور گاؤں کے اجے بابو کا گزشتہ کئی سالوں سے اسی گاؤں کی شہناز سے محبت چل رہی تھی۔ پریمی جوڑا گھر سے بھاگ گیا تھا اور 30 نومبر کو ہندو رسم و رواج کے مطابق شہناز نے اپنے عاشق اجے بابو کے ساتھ سات چکر لگائے۔ شہناز سمن دیوی بن گئیں۔ سمن دیوی کا الزام ہے کہ ان کے گھر والے ان کی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔

اسے خطرہ ہے کہ اس کے اور اس کے شوہر کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ یہی نہیں، شہناز عرف سمن دیوی نے بتایا کہ جب اس کے گھر والوں کو اس کی محبت کی کہانی کا علم ہوا تو انہوں نے اسے مارا پیٹا اور مارنے کی کوشش کی۔

اس نے اپنی مرضی سے اسلام چھوڑ کر ہندو رسم و رواج سے شادی کی۔عاشق اجے بابو نے بتایا کہ وہ اسی گاؤں میں رہتا ہے۔ اس کا تعلق والمیکی سماج سے ہے، اس کی وجہ سے اس کی گرل فرینڈ کے گھر والے احتجاج کرتے تھے۔ اسے اب جان کا خطرہ ہے، اسی لیے ہم نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھلیش چورسیا سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔