پھانسی صدام حسین کے بھائی کے پوتے کی منتظر، لبنان نے عراق کے حوالے کر دیا

427

لبنان نے جمعہ کے روز سابق عراقی صدر صدام حسین کے بھائی کے پوتے عبداللہ یاسر السبعاوی کو عراقی حکومت کے حوالے کر دیا۔ سیکورٹی حکام نے عبد اللہ یاسر کو گزشتہ جون میں 2014 میں تکریت میں عراقی فوج کے خلاف سپیچر کے قتل عام میں ملوث ہونے کے اعترافات کے پس منظر میں گرفتار کیا تھا۔

عراقی انٹرپول نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے ک غیر معمولی کوشش اور انٹیلی جنس سے باخبر رہنے کے بعد سپیچر قتل عام میں ملوث مشتبہ شخص کو لبنان سے برآمد کرلیا گیا ہے، یہ شخص دہشتگردی کی دفعہ 4 کے تحت مطلوب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بازیابی عراقی وزارت خارجہ، لبنان میں عراقی سفارت خانے اور عراقی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے لبنانی انٹرپول کے ساتھ قریبی تعاون سے ممکن ہوئی ہے۔

بڑی سازش
عبداللہ کے چچا سعد سبعاوی ابراہیم الحسن نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے رابطے میں صرف اتنا کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں اس کیس کی تفصیلات ظاہر کریں گے۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرے بھتیجے عبداللہ یاسر سبعاوی کو لبنان کی حکومت نے ایک بڑی سازش کے تحت عراقی حکام کے حوالے کردیا ہے۔ اس سے متعلق مزید انکشاف میں جلد کروں گا ۔

فیصلہ سیاسی ہے عدالتی نہیں
ایک اعلیٰ سطح کے عدالتی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تصدیق کی کہ حوالگی کا فیصلہ خالصتا سیاسی ہے نہ کہ عدالتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لبنانی قانون سیاسی نوعیت کے جرم کے کسی بھی ملزم کی حوالگی پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اس ضمن میں دہشت گرد تنظیم "داعش” سے نمٹنے کا الزام حقائق اور شواہد پر مبنی نہیں ہے۔

یاد رہے السبعاوی نے چار سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ لبنان میں پناہ لی تھی۔ وہ صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد یمن میں برسوں تک آباد رہے تھے۔

تاہم 13 جون کو لبنان کے پہاڑی ضلع کے شہر جبیل میں واقع ان کے اپارٹمنٹ پر عراقی حکام کی درخواست پر سیکورٹی اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور انہیں داعش کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

حوالگی کیلئے لبنانی صدر کے دستخط
اس مسئلے سے واقف ایک ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تصدیق کی کہ "جمہوریہ کے صدر میشل عون نے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل ایک جمہوری فرمان پر دستخط کیے جس کے بعد سبعاوی کو عراقی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس سے قبل لبنانی صدر ایسا کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔

انہوں نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ اس مسئلہ کے پیچھے کوئی "مالی ڈیل” ہو گی اور اس ڈیل سے صدر جمہوریہ کے اردگرد موجود کچھ افراد جن کے عراقی حکام کے ساتھ تعلقات ہیں کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق عراقی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ نے چند روز قبل ایک عدالتی کانفرنس میں شرکت کے لیے بیروت کا دورہ کیا اور صدر جمہوریہ سے وابستہ متعدد افراد سے ملاقات کی تھی۔۔ ایسا لگتا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد حوالگی کے عمل کو ترتیب دینا ہی تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے دو روز قبل لبنانی سکیورٹی حکام کو ایک خط بھیجا تھا جس میں السبعاوی کو عراقی حکومت کے حوالے نہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور باور کرایا تھا کہ سبعاوی کو لبنان میں سیاسی پناہ کا درجہ حاصل ہے۔

یو این ایچ سی آر کا جواب دینے سے انکار
لبنان میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی سرکاری ترجمان دلال حرب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس کیس کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ یو این ایچ سی آر کسی بھی پناہ گزین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہے اور متعلقہ شخص کی حفاظت کے لیے رازداری کا اصول اپنائے ہوئے ہے۔

باخبر ذریعہ نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کی جانب سے سبعاوی کو حوالے کرنے کے بعد سابق عراقی صدر کے بھائی کے پوتے کو پھانسی کے پھندے کا سامنا ہے ۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف بھی یہی الزام لگایا گیا تھا ۔

سپیچر قتل عام
واضح رہے کہ 12 جون 2014 کو صلاح الدین گورنری کے شہر تکریت کے کیمپ سپیچر میں داعش کی جانب سے عراقی فورسز کے ارکان کو پکڑنے کے بعد قتل عام کیا گیا جسے سپیچر قتل عام کہتے ہیں۔ اس قتل عام میں 1700 عراقی فوجی مارے گئے تھے۔ فوجیوں کو تکریت کے صدارتی محلوں میں لے جایا گیا اور وہاں فائرنگ سکواڈ کے ذریعہ قتل کیا گیا۔ بعض فوجیوں کو زندہ دفن کر دیا تھا۔

السبعاوی نے ایک پچھلی آڈیو ریکارڈنگ میں کہا تھ کہ ان کا بھتیجا صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے ایک دن بعد عراق سے نکل گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ عراق میں داخل نہیں ہوا اور سپیچر قتل عام میں ان پر لگائے گئے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں جن کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں۔