نئی دہلی۔ حکومت نے لوک سبھا میں پیر کے روز جانکاری دی کہ سب سے زیادہ مالیت کی کرنسی نوٹ کی مقدار میں کمی کے باوجود پچھلے دوسالوں سے 2000روپئے کے کرنسی نوٹوں کی اشاعت عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

اپنے ایک تحریری جواب میں مرکزی مملکتی وزیر فینانس انوراگ ٹھاکر نے کہاکہ 30مارچ2018سے 3362ملین کرنسی نوٹس2000کی شکل میں مارکٹ میں گشت کررہی ہیں جو کرنسی کی لاگت اور ٹریڈ میں بالترتیب 3.27اور37.26فیصد ہے۔

فبروری 26سال2021تک 2499ملین 2000کے نوٹ گشت کررہے تھے جو بالترتیب قیمتی اور قدر کے زواے سے بینک نوٹس کی شکل میں 2.01اور17.78فیصد ہیں۔

انہوں نے کہاکہ”عوام کے لین دین کی طلب کو سہولت فراہم کرنے کے لئے مطلوبہ مالیت کے مرکب کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت نے مخصوص مالیت کے نوٹوں کی اشاعت آر بی ائی کے ساتھ مشاورات کے ساتھ کیاہے۔

سال2019-20اور 2020-21کے لئے 2000کے بینک نوٹس کی اشاعت کے لئے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیاگیاہے“۔

مذکورہ ریزو بینک آف انڈیا نے 2019میں اپنے بیان میں کہاتھا کہ معاشی سال2016-17(اپریل2016سے مارچ2017تک)۔ تاہم 2017-18میں صرف111.57ملین نوٹوں کی اشاعت عمل میں آئی جو بعد میں 2018-19میں مزید کم کرکے 46.690ملین نوٹوں کی کمی لائی گئی۔

اپریل2019کے بعد سے 2000کوئی بھی نئے کرنسی نوٹس کی اشاعت عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ اس اقدام کو اعلی قدر والی کرنسی نوٹ کی ذخیرہ اندوزی کو روکنا اورپھر کالے دھن پر لگام کسنے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

کالے دھن پر کارضرب کے نام پر 500اور 1000کے کرنسی نوٹوں کی حکومت کی جانب سے دستبرداری کے فوری بعد2016نومبر میں حکومت نے 2000کے کرنسی نوٹ کو مارکٹ میں متعارف کروایاتھا۔

وہیں 500کے نئے نوٹس کی اشاعت وہیں 1000کے نوٹوں کی مارکٹ سے برخواستگی اور اس کے بجائے 2000کے نئے نوٹوں کو متعارف کروایاگیاتھا۔مارکٹ میں 2000روپئے کے علاوہ 10‘20‘ 50اور100کے نئے اور پرانے نوٹوں کی گردش بھی جاری ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں