پٹھان کے گانے ‘بیشرم رنگ’ پر سنسر بورڈ نے قینچی چلائی، فلم میں زعفرانی بکنی سمیت کئی کٹ

697

انڈیا کے فلم سرٹیفیکیشن بورڈ ( سی بی ایف سی ) نے شاہ رخ خان کی آنے والی فلم ’پٹھان‘ کے متنازع گانے ’بے شرم رنگ‘ کے بعض مناظر کاٹنے اور اس میں کچھ تبدیلی کی ہدایت کی ہے۔ یہ فلم 25 جنوری کو ریلیز ہونے والی ہے لیکن اسے ابھی سنیما گھروں میں دکھانے کا سرٹیفیکٹ نہیں دیا گیا ہے۔

فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کے سربراہ پرسون جوشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پٹھان فلم سرٹیفیکیشن کے لیے حال ہی میں بورڈ کے سامنے آئی تھی ۔اس کا بورڈ کے رہنما اصولوں کے تحت گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ جائزہ کمیٹی نے گانے سمیت فلم میں بعض تبدیلیوں کا مشورہ دیا ہے۔ پٹھان کے فلمساز کو بتایا گیا ہے کہ وہ فلم میں کس طرح کی تبدیلیاں کریں اور سنیما گھروں میں ریلیز ہونے سے پہلے فلم کا تبدیل شدہ ورژن بورڈ میں پیش کریں۔‘

جوشی نے مزید کہا ہےکہ ’فلم سرٹیفیکیشن بورڈ ہمیشہ تخلیقی اظہار اور اور ناظرین کی حساسیت کے درمیان ایک صحیح توازن کا حامی ہے اور اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ سبھی متعلقہ لوگوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہم کوئی حل ڈھونڈ سکتے ہیں ۔ میں اس امر کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری ثقافت اور عقیدہ شاندار، ملا جلا ہے ۔ ہمیں اس کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے کہ اصل اور حقیقی پہلو چھوٹے چھوٹے معاملات کی نظر نہ ہو جائیں اور اصل سے توجہ ہٹ نہ جائے۔ اور جیسا کہ میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں کہ اس کے تحفظ کے لیے تحقلیق کار اور ناظرین کے درمیان اعتبار قائم کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ تخلیق کار کو اس کے لیے ہمیشہ کام کرنا چاہیے۔‘

’بے شرم رنگ‘12 دسمبر کو جاری گیا گیا تھا۔ یہ گانا فلم کے ہیرو شاہ رخ خان اور ہیروئن دیپیکا پاڈوکون پر فلمایا گیا ہے۔ اس میں دیپیکا گانے کے الگ الگ مناظر میں مختلف رنگوں کی بکنی پہنے ہوئے نظر آتی ہیں۔ اس میں 20 سیکنڈ کے ایک منظر میں وہ گیروئے یا زعفرانی رنگ کی بکنی پہنے ہوئے ہیں۔

’بے شرم‘ گانا ریلیز ہوتے ہی تنازعے میں گھر گیا تھا۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے اس گانے میں دیپیکا کے گیروئے لباس پر اعتراض کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس فلم میں کچھ قابل اعتراض مناظر اور کپڑے شامل کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا ’اس گانے میں پہنا گیا کپڑا پہلی نظر میں ہی قابل ااعتراض لگتا ہے۔ یہ صاف نظر آتا ہے کہ پٹھان فلم کا گانا گندی ذہنیت کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔اگر ان مناظر کو تبدیل نہیں کیا گیا تو مدھیہ پردیش میں اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔‘

ان کے اس بیان کے بعد دائیں بازر کی ہندو تنظیموں اور ان کے حامیوں نے ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے تھے۔ انھوں نے فلم پٹھان کو ’ہندو مخالف‘ قرار دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ اسے سنیما گھروں میں دکھانے نہیں دیں گے۔ ایودھیا کے ایک ہندو سادھو نے تو فلم کے ہیرو شاہ رخ خان کو جان سے مارنے تک کی دھمکی دی ہے۔

فلم ’پٹھان‘ کی ہندی ، تیلگو اور تمل زبانوں میں ریلیز کی تاریخ 25 جنوری کو مقرر کی گئی ہے لیکن سنیما گھروں میں نمائش کے لیے ابھی اسے فلم بورڈ کا سرٹیفیکٹ نہیں مل سکا ہے۔

اس فلم کے مناظر میں تین ہفتے کے اندر مجوزہ تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ اس کے بعد اسے بورڈ میں دوبارہ بھیجا جائے گا اور اس کی منطوری ملنے کے بعد ہی یہ فلم نمائش کے لیے سنیما گروں میں جا سکے گی ۔

اعلان شدہ تاریخ پر اسے سنمیا گھروں میں ریلیز کرنا فلم ساز کمپنی یش راج فلمز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔