پٹھان پر طوفان – از : شکیل رشید

1,243

فلم ’ پٹھان ‘ پر ’ طوفان ‘ اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ بظاہر تو یہ طوفان فلم کی ہیروین دیپیکا پدوکون کی ’ بھگوا بکنی ‘ پر ہے ، اور دو طرح کے اعتراض کیے جا رہے ہیں ، ایک تو یہ کہ ’ بھگوا بکنی ‘ کا پہننا ہندوؤں کے دھارمک جذبات کی توہین ہے ، دوسرا یہ کہ ’ بھگوا ‘ کو ’ بے شرم رنگ ‘ کہہ کر ہندوؤں کی مزید توہین کی گئی ہے ، اس لیے مطالبہ ہے کہ ’ پٹھان ‘ فلم کی نمائش نہیں ہونے دی جائے گی ، اس پر پابندی لگائی جائے ، لیکن بباطن یہ طوفان فلم کے ہیرو شاہ رُخ خان کے خلاف ہے ۔ اور شاہ رُخ کے خلاف طوفان کا مطلب اس ملک کے دو طبقات پر نشانہ ہے ، ایک اقلیت پر ، اور دوسرا اس ملک کے لبرل اور سیکولر ڈھانچے میں یقین رکھنے والوں پر ، جنہیں اس ملک کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ ، اور مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا ’ ٹکڑے ٹکڑے گینگ ‘ کہتے ہیں ۔ نروتم مشرا تو اس حد تک چلے گیے ہیں کہ انہوں نے دیپیکا پدوکون کو بھی ’ ٹکڑے ٹکڑے گینگ ‘ میں شامل کر دیا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی فلم ’ پٹھان ‘ کا گانا ’ بے شرم رنگ ‘ ، اور ’ بھگوا بِکنی ‘ ہندو دھرم کی توہین ہے ؟ کیا بھگوا رنگ ہندو دھرم کا رنگ ہے ؟ کیا یہ احتجاج جائز ہے یا اس کے پسِ پشت سیاسی مفاد ہے ؟ اِن سوالوں پر بات کی جائے گی لیکن پہلے یہ جان لیں کہ یہ ہنگامہ اٹھا کیسے ۔ شاہ رُخ خان کوئی تین سال کے بعد اپنی فلم ’ پٹھان ‘ لے کر آ رہے ہیں ، اس فلم کی میکنگ پر بہت محنت کی گئی ہے ، اس میں کئی سو کروڑ روپیے لگائےگیے ہیں ، اور اسے شاہ رُخ اپنی ’ کم بیک ‘ فلم مان رہے ہیں ۔ عامر خان کی فلم ’ لال سنگھ چڈھا ‘ کی بائیکاٹ مہم کے بعد سے ہی ’ بھگوا بریگیڈ ‘ یہ شور مچانے لگا تھا کہ اب شاہ رخ خان اور ان کی فلم ’ پٹھان ‘ کی باری ہے ، لیکن چونکہ فلم کے خلاف شور مچانے کے لیے ’ بھگوا بریگیڈ ‘ اور ’ بائیکاٹ گینگ ‘ کے پاس کچھ تھا نہیں ، اس لیے صرف ’ سوشل میڈیا ‘ پر ( یاد رہے کہ بی جے پی کا ساشل میڈیا سیل ، جس کے کرتا دھرتا امیت مالویہ ہیں ، بہت مضبوط ہے ) فلم کے خلاف منفی تبصرے کیے جا رہے تھے ، لیکن چند روز قبل جب فلم کا گانا ’ بے شرم رنگ ‘ جاری ہوا تو ان عناصر کو دیپیکا پدوکون کی ’ بھگوا بِکنی ‘ نظر آ گئی ، اور یہ اُسے لے اڑے ۔ پھر کیا تھا سنگھ پریوار یعنی آر ایس ایس کی چھتر چھایا میں پروان چڑھنے والی چھوٹی بڑی تنظیمیں گلا پھاڑنے لگیں ، کئی سادھو سنت میدان میں کود پڑے ۔ ایودھیا کے مہنت راجو داس کو اس قدر طیش آیا کہ انہوں نے ، قانون اور امن و امان کی پرواہ کیے بغیر ، اپنے بھکتوں کو یہ ہدایت دے دی کہ ’’ شاہ رُخ خان کی فلم پٹھان جس تھیٹر میں لگے اُسے آگ لگا دو ۔‘‘ راجو داس کا سارا غصہ بالی ووڈ یعنی ممبئی کی فلم انڈسٹری اور شاہ رُخ خان پر اتر رہا ہے ، وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ’’ شاہ رُخ خان لگاتار سناتن دھرم کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔‘‘

مہنت کا دعویٰ ہے کہ فلمی دنیا اپنی فلموں کے ذریعے مسلسل ہندو دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑا رہی ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے کوئی مثال نہیں دے سکے ہیں ۔ مہنت راجو داس تنہا نہیں ہیں ، مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ، جو مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوانے کے لیے جانے جاتے ہیں ، دھمکی دے دی ہے کہ اگر فلم کا یہ گانا درست نہ کیا گیا تو مدھیہ پردیش میں اس فلم کی نمائش روکی بھی جا سکتی ہے ۔ مشرا جی کا یہ بیان تو انتہائی افسوس ناک تھا کہ ، دیپیکا پدوکون کا تعلق ’ ٹکڑے ٹکڑے گینگ ‘ سے ہے کیونکہ دیپیکا نے جے این یو کے مظاہرین کی حمایت کی تھی ۔ اس تنازعہ میں مہاراشٹر کے بی جے پی کے ایک ترجمان و رکن اسمبلی رام کدم بھی کود پڑے ہیں ، انہوں نے یہ بیان دیا ہے کہ ’’ اس فلم کی دیش کے سادھو ، سنت اور مہاتما اور سوشل میڈیا پر کئی ہندو تنظیمیں اور کروڑوں لوگ مخالفت کر رہے ہیں ، فی الحال مہاراشٹر میں ہندوتو سوچ والی حکومت ہے اس لیے فلم کے ہدایت کار اور فلم ساز کا یہ فرض ہے کہ وہ سامنے آئیں اور سادھو سنت جو اعتراض کر رہے ہیں اس کی وضاحت کریں ، ہندوتو کی توہین کرنے والا کوئی سیریل یا فلم مہاراشٹر کی زمین پر نہیں چل پائے گی ۔ ‘‘ اس ٹوئیٹ کے بعد یہ قیاس آرائی شروع ہو گئی ہے کہ کیا مدھیہ پردیش کی راہ پر مہاراشٹر بھی چل پڑا ہے ؟ اور اگر مدھیہ پردیش میں فلم کی نمائش ( ۲۵، جنوری ۲۰۲۳ءکو)روکی جاتی ہے تو کیا مہاراشٹر میں بھی فلم نہیں چلنے دی جائے گی ؟یہ لکھنے جانے تک ملک کے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے دستِ راست امیت شاہ کا کوئی بیان اس تنازعہ پر نہیں آیا ہے ، یوپی کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ابھی زبان نہیں کھولی ہے ، لیکن الہ آباد میں فلم کے پوسٹر جلائے گیے ہیں ، اور بھاجپائیوں نے سخت احتجاج کیا ہے ، زیادہ تر سادھو سنت یو پی ہی کے ہیں ، لہٰذا یوگی اس تنازعہ میں آج نہ سہی کل کودیں ہی گے ۔

ایک بڑی ’ ہندوتوادی ‘ تنظیم وشوا ہندو پریشد ( وی ایچ پی ) میدان میں آ گئی ہے ، وہ اس طرح کے ہر تنازعہ پر میدان میں اترنا اپنا حق سمجھتی ہے ۔ وی ایچ پی کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے شاہ رُخ خان کو ’ گھمنڈی ‘ کہتے ہوئے یہ دھمکی دے ڈالی ہے کہ اگر شاہ رُخ خان نے معافی نہیں مانگی تو اس فلم کی نمائش نہیں ہونے دی جائے گی ۔ یہ ’ بھگوا بریگیڈ ‘ فلم کے خلاف اندور اور بھوپال میں احتجاجی مظاہرہ بھی کر چکا ہے ۔ شاہ رخ خان کا پتلا بھی نذر آتش کیا گیا ہے ۔ ’ ہندو سینا ‘ نام کی ایک ’ ہندوتو ‘ کی سوچ والی تنظیم نے سنسر بورڈ پر سوال اٹھایا ہے ، اور سنسر بورڈ کے سربراہ پرسون جوشی کو ایک مکتوب دے کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس فلم پر پابندی لگائی جائے ۔ کئی سادھو سنت اور مہنت اور سادھویاں بھی ، جیسے کہ سادھوی پراچی ، فلم کے خلاف میدان میں کود پڑے ہیں ۔ لیکن کیا شاہ رُخ خان خاموش بیٹھے ہیں ؟ اس سوال کا جواب سامنے آ چکا ہے ۔ کولکتہ میں شاہ رُخ خان ایک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے افتتاح میں گیے تھے جہاں انہوں نے ’ جبر ‘ کے خلاف آواز بلند کی ، اور وہیں ، اسی اسٹیج سے ، پہلی بار سپر اسٹار امیتابھ بچن نے بھی ’ آزادیٔ اور سِول لبرٹیز ‘ کو کچلنے کے عمل پر احتجاج جتایا اب تو متعدد فلمی ہستیاں ژاہ رُخ خان کی حمایت میں سامنے آ چکی ہیں ۔

شاہ رُخ خان کا بیان دلچسپ ہے ، انہوں نے کہا ،’’ اپنی کرسی کی پیٹی باندھ لیجیے ، موسم بگڑنے والا ہے ۔ اور کچھ دنوں سے ہم لوگ یہاں نہیں آئے ہیں ، آپ لوگوں سے مخاطب نہیں ہو پائے ہیں ، آپ لوگوں سے مِل نہیں پائے ہیں ، لیکن اب دنیا جو ہے نارمل ہو گئی ہے ، ہم سب خوش ہیں ، میں سب سے زیادہ خوش ہوں ۔ اور یہ بات بتانے میں مجھے بالکل بھی اَپتّی ( جھجھک ) نہیں ہے دنیا کچھ بھی کر لے ، میں ، آپ لوگ اور جتنے بھی پوزیٹیو لوگ ( مثبت سوچ رکھنے والے ) ہیں سب زندہ ہیں ۔‘‘ شاہ رُخ خان کا ‘ سب زندہ ہیں ‘ کہنے پر لوگوں کا ردعمل بہت مثبت نظر آیا ، اس جملے پر خوب تالیاں بجیں ۔ لیکن وہ جو مَن بنا چکے ہیں کہ فلم ’ پٹھان ‘ کے خلاف ہنگامہ کیا جائے گا ، انہیں شاہ رُخ خان کے اس جملے میں ’ گھمنڈ ‘ اور ’ چیلنج ‘ نظر آیا ۔ ممکن ہے کہ یہ شاہ رُخ خان کا چیلنج ہی ہو کہ ’ میں جھکنے والا نہیں ہوں ۔‘ اور سچ یہی ہے کہ شاہ رُخ خان کو جھکانے کی کئی مرتبہ کوشش کی گئی ہے جس میں لوگوں کو ناکامی ملی ہے ۔ شاہ رُخ خان کے بیٹے آرین خان کا معاملہ سب ہی جانتے ہیں ، اسے منشیات کا استعمال کرنے ، اور منشیات فروشوں کا ساتھی ہونے کا الزام لگا کر پھنسایا گیا تھا ، یہ سچ اب سامنے آگیا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ یہ آرین خان کو پھنسانے کی منصوبہ بندی ’ بھگوائیوں ‘ کی طرف سے شاہ رُخ خان کو اپنے قدموں پر یا اگر یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ ، مودی کے قدموں پر جھکانے کی کوشش کا ایک حصہ تھی ۔ عامر خان کے ساتھ یہی ہوا تھا ۔ کیا قصور تھا عامر خان کا ؟ یہ سچ بولنا کہ اس کی بیوی کرن راؤ ( اب دونوں میں علیحدگی ہو گئی ہے ) کو یہاں رہنے سے ڈر لگنے لگا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ یہ ساری گندگی جو ’ بھگوا ‘ رنگ کے نام پر کی جا رہی ہے اس کا مقصد ’ فلمی خانوں ‘ کو فلمی دنیا سا چلتا کرنا ہے ۔ ملک کا اکثریتی طبقہ ، انہیں مسلمان ہونے کے باوجود ، قبول کرتا ، پسند کرتا اور ان سے محبت کرتا ہے ، اسی لیے فلمی دنیا کے ’ خانوں ‘ ، کی بائیکاٹ مہم سے ، اور اپنے جھوٹ کے پرچار اور اپنے تعصب کی تلوار سے ، یہ ’ بھگوائی ‘ اُن سے محبت کرنے والوں کی نظر میں ، انہیں ، قابلِ نفرت بنانا چاہتے ہیں ۔ عامر خان نے یہی تو کہا تھا کہ گھر سے باہر قدم نکالتے ہوئے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ صحیح و سالم گھر واپسی ہو سکے گی یا نہیں ، تو یہ کہنے میں کیا غلط تھا ؟ کیا عامر خان کو اپنے بال بچوں کی زندگیوں کی فکر نہیں کرنی چاہیے تھی ؟ ماب لنچنگ اور نفرت کی انتہا کے دور میں عامر خان نے بس یہی بات کہی تھی ، اور اس کے لیے انہیں ملک کا غدار قرار دے دیا گیا ، ان کی فلم کا بائیکاٹ کر دیا گیا ۔عامر خان نےجب نرمدا بچاؤ اندولن کی رہنما میدھا پاٹکر کی حمایت کرکے مودی کی نکتہ چینی کی تھی ، تب بھی ان کی فلم ’’ فنا ‘‘ کا بائیکاٹ کیا گیا تھا ۔ فلمی دنیا کے خانوں کے بائیکاٹ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خود کو بی جے پی کے افکار اور نظریات سے متفق نہیں پاتے ۔ شاہ رُخ خان کے والد نے تو آزادی کی جنگ لڑی تھی ۔ ’ بائیکاٹ گینگ ‘ کو یہ ؎زعم ہے ، کہ وہ اپنی مہم سے خانوں کو کنگال بنا دیں گے ، انہیں غدار تھہرا دیں گے ، پھر فلمی دنیا پر سے ، خان اداکاروں کی ہی نہیں ، سارے مسلم فنکاروں کی گرفت ختم ہو جائےگی ۔ لہٰذا عامر اور سیف علی خان ( سیرئیل ’ تانڈو ‘ اور فلم ’ آدی پُرش ‘ پر ہنگامہ ہو چکا ہے ) کے بعد ان کے نشانے پر شاہ رخ خان ہیں ۔ فلم ’ پٹھان ‘ کے ’ بے شرم رنگ ‘ گانے کی ریلیز سے پہلے ، ’ کَچھ سادھو سماج ‘ کے صدر سادھو دیوناتھ نے یہ کہتے ہوئے کہ ، شاہ رخ خان کے ایک فین سلیم علی نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے اس لیے فلم ’ پٹھان‘ پر پابندی لگائی جائے ، پہلے ہی ٹریلر دکھا دیا تھا ۔ سلمان خان کے خلاف بھی ایک مہم شروع کی گئی تھی ، ان کے خلاف ایک ویڈیو پوسٹ کرکے انہیں اورنگ زیب اور بابر سے تشبیہ دی گئی تھی ۔ یہ جو مہم ہیں نفرت پھیلانے کے لیے ہیں ۔ نہ فلم ’ پٹھان ‘ ہندو مخالف فلم ہے ، نہ ہی دیپیکا پدوکون کی ’ بھگوا بِکنی ‘ سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوں گے ، نہ ہی بھگوا رنگ کسی مذہب کا رنگ ہے ۔ بی جے پی کے چہیتے اکشے کمار کی ہیروئینیں جیسے کہ کترینہ کیف ’ سوریہ ونشی ‘ میں ، اور اکشے خود ’ بھول بھلیاں ‘ میں بھگوا کپڑا پہن چکے اور پہن کر ناچ چکے ہیں ۔ بی جے پی کی چہیتی ہیروین کنگنا رناؤت کو ’ تنّو ویڈ منّو ‘ میں بھگوا پہن کر شراب پیتے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں ، بی جے پی کے رکن پارلیمنت نیروہا کے کئی فحش گانوں میں بھگوا دھاری اداکارائیں مٹک چکی ہیں ، روی کشن اور منوج تیواری بھی بھگوا ہیروینوں کے ساتھ مٹک چکے ہیں ، کبھی کسی ہندو کو شکایت نہیں ہوئی ، ان سادھو ، سنتوں اور مہنتوں اور سیاست دانوں کو بھی شکایت نہیں ہوئی جو آج بار بار دیپیکا پدوکون کی ’ بھگوا بِکنی ‘ دیکھ کر طیش میں آ رہے ہیں ۔ یہ سارا معاملہ سیاسی دوکانداری کا ہے ، اور بی جے پی کی دوکانداری دھرم کے نام پرہی چلتی بلکہ چل رہی ہے ۔