پٹھان: فلموں پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کرنے وزرا کو مودی کی ہدایت

43

ممبئی: وزیراعظم نریندر مودی نے وزراء سے کہا ہے کہ وہ فلموں پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کریں جس کے بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کے رد عمل سامنے آرہے ہیں۔واضح رہے کہ پٹھان تنازعہ کو میڈیا میں بڑے پیمانے پر کور کیا گیا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں نے بھی بے شرم رنگ کے تنازعہ کو ہوا دی تھی جہاں سیاست دانوں اور بہت سے مذہبی قائدین (پاکھنڈیوں) نے اس سلسلہ میں الزام لگایا کہ دیپیکا پڈوکون کی پہنی ہوئی بھگوا رنگ کی بکنی سے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں، زعفرانی (بھگوا) رنگ کا تعلق ہندوتوا اور ہندو مذہب سے جوڑا جاتا ہے۔

بے شرم رنگ گانا منظر عام پر آتے ہی فلم کے بائیکاٹ کی کال دے دی گئی۔بتایا گیا ہے کہ گجرات میں ملٹی پلیکس مالکان نے حکومت سے مداخلت کی درخواست کی ہے کیونکہ انہیں فلم کی نمائش نہ کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے وزراء سے کہا ہے کہ وہ فلموں پر غیر ضروری تبصروں سے گریز کریں۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ملک بھر میں عام انتخابات میں صرف 400 دن رہ گئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ مودی نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ فلموں پر کچھ سیاستدانوں کے بیانات کی وجہ سے وزراء کی اصل محنت پر پانی پھر جاتا ہے اور فلموں پر کئے گئے تبصرے نیوز چینلوں کی سرخیوں پر حاوی ہوجاتے ہیں اور وزرا کے کام سے لوگوں کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے دیپیکا پڈوکون کی نارنجی رنگ کی بکنی پر کئی تبصرے کئے تھے۔

مہاراشٹر کے بی جے پی لیڈر رام کدم نے کہا تھا کہ فلم بنانے والے خاموش ہیں کیونکہ وہ تنازعہ سے سستی پبلسٹی چاہتے ہیں۔اسی دوران فلموں کے شائقین نے وزیراعظم کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کنندگان سوشل میڈیا پر طرح طرح کے ردعمل دے رہے ہیں۔ایک اور ٹویٹر یوزر نے کہا کہ پٹھان مووی ہیش ٹیگ کے ساتھ یہ ٹویٹ کیا۔سویٹی نام کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ کیا گیا جس میں پٹھان دیکھے گا ہندوستان ہیش ٹیگ استعمال کیا گیا ہے۔شیکھر نیگی نامی ٹویٹر یوزر نے وزیراعظم کے بیان کو دہراتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا کو ہی ٹیگ کردیا جنہوں نے فلم پٹھان کا بے شرم رنگ گانا ریلیز ہوتے ہی کئی بیانات دیتے ہوئے بالی ووڈ کو بالواسطہ دھمکیاں دینی شروع کردی تھیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے دیپیکا پڈوکون کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ کی سپورٹر کہہ دیا تھا حالانکہ پارلیمنٹ میں مودی حکومت اس بات کا اعتراف کرچکی ہے کہ ٹکڑے ٹکڑے گینگ نام کا کوئی گروپ ملک میں موجود نہیں ہے۔

قبل ازیں اس ماہ کے اوائل میں سنیل شیٹی نے یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی اور کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے درخواست کریں کہ وہ بائیکاٹ بالی ووڈ مہم کو روکیں جو سوشل میڈیا پر چلائی جارہی ہے۔اب جبکہ وزیر اعظم نے پٹھان کا نام تو نہیں لیا مگر حیرانگی اس بات پر ہے کہ ہندو انتہا پسند گروپس کے لیڈرس اس سلسلہ میں کیا کہیں گے؟