حکومت کو عوام کی پریشانیوں کا احساس نہیں ، قیمتیں کم کرنے سے حکومت کا انکار

نئی دہلی : پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں آج مسلسل نویں دن بھی اضافہ کیا گیا ۔ نیا سال 2021ء میں ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 21 مرتبہ اضافہ ہوا ہے ۔ دونوں پٹرولیم اشیاء کیلئے زائد از 6روپئے کا اضافہ کیا گیا ۔ یہ دونوں پٹرولیم اشیاء اونچی قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہے ۔ ان اضافوں کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان ہیں ۔ وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے پہلے ہی پٹرول قیمتوں میں کمی کو خارج الامکان قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ہرگز مداخلت نہیں کرے گی ۔ قیمتوں میں اضافہ کا جائزہ لینے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تو وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت اس معاملہ میں مداخلت نہیں کرے گی ۔ قبل ازیں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے مسئلہ کو حکومت کے خلاف سیاسی مسئلہ بنایا جاتا تھا ، ان اشیاء میں جب بھی اضافہ ہوتا اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے خلاف احتجاج کرتی ، خود بی جے پی نے جب وہ اپوزیشن میں تھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا ۔ منموہن سنگھ حکومت میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 56 روپئے کرنے پر بی جے پی نے سڑکوں پر احتجاج کر کے قیمتوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ عالمی مارکٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود منموہن سنگھ حکومت نے ہندوستان میں پٹرول کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا تھا بلکہ سارا بوجھ سرکاری خزانہ پر ڈالا گیا ۔ سال 2010ء میں منموہن سنگھ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی پابندیوں سے آزاد کردیا تھا اس کے بعد 2014ء میںنریندر مودی حکومت نے بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی پابندیوں سے آزاد کردیا تھا ۔ تیل کمپنیوں کو ادا کی جانے والی حکومت کی سبسیڈی بھی بند کردی گئی تھی اس کے بعد پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کا انحصار بین الاقوامی مارکٹ پر رہ گیا ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں