نئی دہلی: وزیر مالیات نرملا سیتارمن اور وزیر برائے پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے اشارہ دیا ہے کہ تیل کی قیمتوں کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق وزیر مالیات نرملا سیتارمن اور وزیر برائے پٹرولیم دھرمیندر پردھان نے اشارہ دیا ہے کہ تیل کی قیمتوں کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اس بڑھتی مہنگائی کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کو لگاتار تنقید کا نشانہ بھی بنا رہی ہیں، لیکن اس کا کوئی اثر پڑتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ اس درمیان یہ مطالبہ بھی مرکزی حکومت سے کیا جا رہا ہے کہ پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جائے تاکہ اس کی قیمتوں میں کمی واقع ہو۔ اب اشارے مل رہے ہیں کہ اس مشورے پر حکومت غور و خوض کر رہی ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ اگر جی ایس ٹی کی اعلیٰ شرح بھی پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں پر رکھی جائے گی تو موجودہ قیمتیں گھٹ کر نصف رہ سکتی ہیں۔ اس وقت پٹرول اور ڈیزل پر مرکزی حکومت پروڈکشن فیس اور ریاستی ویٹ وصول کرتے ہیں۔ ان دونوں کی شرحیں اتنی زیادہ ہیں کہ 35 روپے کا پٹرول مختلف ریاستوں میں 90 سے 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اگر پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے تحت شامل کیا جاتا ہے تو ملک بھر میں ایندھن کی یکساں قیمت ہوگی۔ اتنا ہی نہیں، اگر جی ایس ٹی کونسل نے کم سلیب کا متبادل منتخب کیا تو قیمتوں میں بہت زیادہ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہندوستان میں چار پرائمری جی ایس ٹی شرحیں ہیں 5 فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد اور 28 فیصد۔ اس وقت پٹرولیم مصنوعات پر مرکزی و ریاستی حکومتیں پروڈکشن فیس اور ویٹ کے نام پر 100 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول رہی ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں