مفتی صاحب وہ شخص ہیںہی نہیں،جس کو پولیس تلاش کر رہی ہے ۔دفاع کا دعوی
24؍ مارچ ( پریس ریلیز ) پونہ شہر سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین مفتی سید محسن عباس صاحب کو 22؍ مارچ کی شب میں ان کے مکان واقع سید نگر ہڑپسر پونہ سے گجرات اے ٹی ایس نے گرفتار کرلیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ 2006 میں احمد آباد دہشت گردانہ سازشی کیس میں ملوث تھے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑوسی ملک پاکستان جاکر ٹریننگ حاصل کی تھی جس کےذریعہ 2002 میں گجرات میں ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کا بدلہ لینا چاہ رہے تھے۔آج  انہیں احمد آباد کےچیف میٹرو پو لٹین مجسٹریٹ نمبر11  کے رو بروپیش کیاگیا ، ، اے ٹی ایس نے ملزم کو پولیس کسٹڈی میں دینے کی درخواست کی جسے رد کر دیا گیا اور ملزم کو 6؍اپریل تک عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے،اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ میںقانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔

مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مفتی سید محسن عباس صاحب جوکہ سید نگر ہڑپسر پونہ میں رہتے ہیں اور ایک مسجد میں امام مت کے فرائض انجام دے رہیں گذشتہ 22؍ مارچ کی رات میں گجرات اے ٹی ایس نے ان کے گھر پہونچ کر انہیں گرفتار کر لیا ہے اور ان پر احمد آباد دہشت گردانہ سازشی کیس میں ملوث گردانتے ہوئے ملک کے خلاف سازش ،مہلک ہتھیار رکھنے ،دہشت گردانہ کاروائی انجام دینے ،آرمس ایکٹ ،یواے پی اے جیسی سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ در ج کیا ہے ،ساتھ یہ بھی الزام لگایا ہے کہ 2002 میں گجرات میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادکے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے ظلم و زیادتی کا بدلہ لینے کے لئے پاکستا ن جاکر ٹرینگ حاصل کی ہے۔

گجرات اے ٹی ایس کے ذریعہ آج مفتی سید محسن عباس صاحب کو احمد آباد چیف میٹرو پو لٹین مجسٹریٹ نمبر 11 کے سامنے پیش کیا گیا اور پولیس تحویل میں دینے کی درخواست کی گئی ،انہوںنے پولیس حراست میں بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے اور پولیس کو پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت دی ہے ،ملزم نے اےٹی ایس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کو گجرات پولیس 2006  کےسازشی کیس کے الزام میںتلاش کر رہی ہے ،وہ میں ہوں ہی نہیں ،پولیس کو غلط فہمی ہوئی ہے ،دفاع نے بھی پولیس کی اس کاروائی پر اعتراض جتایا اور کہا کہ اس کیس میں سازش کے تحت ملز م کو عمدا پھنسایا جا رہا ہے۔

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے کہا کہ مفتی سید محسن صاحب کی گجرات پولیس کے ذریعہ گرفتاری کی اطلاع جمعیۃ علماء ضلع پونہ کےذمہ دارو ں بالخصوص مفتی شاہد صاحب ضلع صدر پونہ ،مولانا ابرار اور ان کی ٹیم نے دی( اور ان کے گھر پہونچ اہل خانہ کو تسلی دی )صورت حال سے واقف کرایا ،ملز م کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء مہا راشٹر سے ان کی پیروی کے لئے درخواست کی چنانچہ جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل سیل کے سیکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے کیس کی نوعیت پر غور و خوض کرکے احمد آباد کے سینئر کریمنل لائر ایڈوکیٹ دلشاد پٹھان کا تقرر کیا ہے جو اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں ،ہمیں امید ہے انشاء جلدہی ملزم کو انصاف ملے گا۔