ہندوستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے۔اور یہاں تمام طبقات و مذاہب کے تہذیبی نشانات چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں

ممبئی 16 جنوری ( یو این آئی) مہاراشٹرا میں بی جے پی جیسی فاشسٹ طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کے مقصد کے پیش نظر، شیوسینا، کانگریس اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے مابین اتحاد ، اور ایک ‘ کم ازکم مشترکہ پروگرام ‘ کے تحت تشکیل دی گئی ریاستی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی جانب سے اگر اورنگ آباد شہر کا نام تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ ایک انتہائی افسوسناک قدم ہوگا،

اورایسی کسی بھی کوشش کو، مسلم معاشرے کے ثقافتی ورثہ کو ختم کرنے کی ایک حقیر اور قابل مذمت کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار کانگریس کے سینئر قائد اور سابق ریاستی وزیر وسابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے آج چپلون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔

حسین دلوائی نے کہا کہ چونکہ مرکزی بی جے پی حکومت ہر مخاذ پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے اوراصل مسائل سےعوام کی توجہ ہٹانے کے لیے وہ متعصبانہ،گمراہ کن اور جھوٹے پروپیگنڈے کے حربوں کا استعمال کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت اور مجموعی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار و انکی دیگر ذیلی تنظیمیں، کسانوں کے احتجاج کے سبب پوری طرح منہ کے بل گر چکی ہیں، اور اس کسان تحریک میں پھوٹ ڈٖالنے اور اسے ناکام بنانے کی ان کی ساری کوششیں رائیگاں گئی ہیں۔ جس سے مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف معاشرے میں بڑے پیمانے پر ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

اسی لیے اب اقلیتی طبقے نشانہ بنایا جارہا ہے جس کا مقصد ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس سے عوام کی توجہ ان سارے سوالوں سے ہٹ جائے۔حسین دلوائی نے کہا کہ میں نے سب سے پہلے کانگریس، این سی پی اور شیوسینا کے مابین اتحاد کے لیے مطالبہ اور کوشش کی تھی جس کے نتیجہ میں ہی مہاوکاس اگھاڑی حکومت قائم ہوئی۔اور یہ عظیم الشان اتحاد ایک کم سے کم مشترکہ پروگرام کے تحت بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب تک یہ ٹھیک چل رہا ہے، تاہم جنھیں( بی جے پی ) عوام نے ٹھکرادیا وہ اب اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ اٹھا کر اس اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مہاراشٹرا میں مسلمانوں کو، اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کے سوال کے مدنظراس بات کوبھی ذہن میں

رکھنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مہاراشٹرا میں ادھو ٹھاکرے کی سربراہی میں تشکیل پائے جانے والے اتحاد کو نقصان نہ پہنچے اور کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شیوسینا کے رہنماؤں اور شیوسینکوں سے بھی اپیل کی کہ وہ فاشسٹوں کی سازش کا نوٹ لیں اور ان سے ہوشیار رہیں۔حسین دلوائی نے مزید کہا کہ ہندوستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے۔اور یہاں تمام طبقات، مذاہب اور ذات پات کے تہذیبی نشانات ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کا تعلق ہر برادری ، مذہب اور ذات سے ہے۔ لیکن بی جے پی کے اقتدار کے دوران ، مسلمانوں ، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف ایک ثقافتی پالیسی نافذ کی جارہی ہے اور انکی ثقافتی علامتوں اس ملک کے ثقافتی تنوع کو ختم کیا جارہا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے مسلم معاشرے پر ثقافتی بیگانیت مسلط کی جارہی ہے۔ جو قابل مذمت ہے۔حسین دلوائی نے واضح کیا کہ، اورنگ زیب کے سلسلے میں ،

برطانوی دور کے بعد کے ہندو نواز مورخین نے اورنگزیب کی یکطرفہ ہندو مخالف کی شبیہہ تشکیل دے دی۔ یہ سچ ہے کہ اس نے کچھ مندروں کو مسمار کیا ۔ لیکن اس نے کئی مندروں کی بھی مدد کی ہے۔ایلورا میں مجسمے دیکھنے کے بعد ہندو، جین اور بودھ مندروں کی مدد اور حفاظت بھی کی گئی ہے۔اورنگ آباد نام کو تبدیل کیے جانے کے ضمن میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے انھوں نے مطالبہ کیا کہ ادھو ٹھاکرے پونا کا نام سمبھاجی نگر رکھ دیں۔سابق وزیر اعلیٰ بیرسٹر انٹولے نے قلابہ ضلع کا نام تبدیل کرکے رائےگڑھ کر کے مراٹھی ریاست کے نظریہ کو زندہ کیا تھا اب پونا کا نام سمبھاجی نگر رکھ دیا جائے ۔۔ مسلم کمیونٹی یہ بھی محسوس کرتی ہے کہ راجہ

سمبھاجی مہاراج کی مناسب یادگار ہونی چاہئے۔انھوں نے کہا کہ اورنگ آباد شہر کی بنیاد ملک عنبر نے رکھی تھی، اسی مناسبت سے اس کے نام کی ایک تجویز بھی سامنے آئی ہے جس پر فیصلہ مسلم برادری کی رائے لینے کے بعد ہی لیا جانا چاہئے۔