برطانیہ کے شاہی خاندان میں ہونے والی تمام تقریبات خواہ وہ شادی بیاہ کی ہوں یا غم کی، عوام میں بے حد مقبول رہتی ہیں۔ حال میں ہی پرنس فلپ کی وفات کے بعد ہونے والی آخری رسومات کو دنیا بھر کی عوام نے ٹیلیویژن پر دیکھا۔ لیکن کیا ملکہ کے دنیا سے جانے پر بھی شہزادہ فلپ کی طرح ہی رسومات ادا کی جائیں گی یا ملکہ ہونے کی وجہ سے انھیں مزید اہمیت دی جائے گی- اس آرٹیکل میں ہم آپ کو شاہی خاندان میں طے شدہ ان رسومات کے بارے میں بتائیں گے جو ملکہ برطانیہ کے دنیا سے جانے کے بعد ادا کی جائیں گی۔

1- شاہی محل سیاہ ہوجائے گا
ویسے تو ملکہ کی موت کی خبر دینے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جائے گا لیکن اس افسوسناک خبر کے اظہار کا ایک روایتی طریقہ یہ ہوگا کہ کالے جوتے پہنے ہوئے محل کا ایک نگہبان بکھنگم پیلس کے دروازے پر کالے رنگ کا نوٹس لگا دے گا۔ سوگ کا اظہار صرف محل تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ شاہی خاندان کی ویب سائٹ بھی سیاہ کردی جائے گی اور برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی کے رپورٹر اور اینکر بھی سیاہ لباس پہنیں گے

2- کوئی ہنسنے والا مواد نشر نہیں کیا جائے گا
بی بی سی کو سوگ کی وجہ سے اپنی نشریات سے تمام مزاحیہ مواد کو ختم کرنا ہوگا اور دوبارہ سے نشریات کی ترتیب دینی ہوگی۔ بی بی سی کے علاوہ برطانوی ریڈیو کو بھی اپنی نشریات سے مزاح کے ساتھ ساتھ موسیقی کی ترتیب بدلنی ہوگی

3- پورا ملک ماتم کرے گا
ایک عہد ساز لیڈر کی موت پر ملک گیر ماتم ہونا انوکھی بات نہیں۔ ملکہ برطانیہ نے برطانیہ پر سب سے زیادہ عرصے تک راج کیا ہے اور یقیناً برطانوی عوام کے لئے ان کے بغیر ملک کا تصور کرنا کافی دکھ کا باعث ہوگا۔ اسی وجہ سے ملکہ کے دنیا سے جانے پر 12 روزہ سوگ ہوگا اور انتقال کے نویں روز جب ملکہ کی تدفین کی جائے گی تو اس دن ملک میں عام تعطیل ہوگی۔

4- کرنسی نوٹ پر ملکہ کے بجائے شہزادہ چارلس
برطانوی کرنسی نوٹ اور سکوں پر ملکہ کی تصویر کے بجائے ان کے صاحبزادے اور ولی عہد شہزادہ چارلس کی تصویر چھاپی جائے گی اور تمام نوٹ اور سکوں میں یہ تبدیلی صرف دس دن کے اندر انجام دے دی جائے گی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دولت مشترکہ میں شامل تمام ممالک کو ملکہ کی تصویر والی کرنسی وپس کرکے تبدیل کروانی ہوگی