سوئٹزرلینڈ سے ولادی میر پوتن کی مبینہ بیوی کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر 63 ہزار سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک خبر کے مطابق 38 سالہ علینا کابایوا کے بارے میں وسیع پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ روسی صدر پوتن کے چار بچوں کی ماں ہیں جنہیں انہوں نے کبھی سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا۔

دو ہفتے قبل روس، بیلاروس اور یوکرین میں شہریوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک درخواست میں سوئس حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کابایوا کو سوئٹزرلینڈ سے نکال کر روس واپس بھیج دیں۔پٹیشن میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ آپ ایوا براؤن کو اس کے آمر کے ساتھ دوبارہ ملا دیں۔ موجودہ جنگ کے باوجود سوئٹزرلینڈ پوتن انتظامیہ کی شریک مجرم کی میزبانی کر رہا ہے۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ 38 سالہ اولمپک جمناسٹ علینا کابایوا کو رواں ماہ کے اوائل میں سوئٹزرلینڈ کے ایک چھوٹے نجی مکان بھیج دیا گیا تھا۔مغرب نے اب تک کابایوا پر پابندیاں عائد نہیں کی ہیں جو کریملن کے ایک بڑے فرمانبردار ٹی وی اور اخبار کے نیشنل میڈیا گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرپرسن بھی ہیں جن کی سالانہ تنخواہ تقریبا آٹھ ملین پاونڈز ہے۔اس جوڑی کی کئی مواقع پر ایک ساتھ تصویر بنائی گئی ہے اور جیل میں قید پوتن کے سیاسی مخالف الیکسی نوالنی کی جانب سے قائم کی گئی اینٹی کرپشن فاؤنڈیشن کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد روسی اشرافیہ نے کابایوا کے اہل خانہ کو جائیداد، رقم اور دیگر اثاثوں کے تحائف دیئے ہیں۔

سابق جمناسٹ کو عوامی مقامات پر شاذ و نادر ہی دیکھا جاتا ہے لیکن وہ گذشتہ سال دسمبر میں ماسکو میں روس کے یوکرین پر حملے سے چند ہفتے قبل ‘ڈیوائن گریس’ ردھمک جمناسٹک ٹورنامنٹ میں رقص کرتے ہوئے ویڈیو پر دیکھی گئیں تھیں۔خدشہ ہے کہ پوتن کے احتیاط سے پوشیدہ اثاثوں کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ علینا اور ان کا خاندان فروری میں سوئس فیڈرل کونسل کی جانب سے اعلان کردہ سخت پابندیوں سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔change.org جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں پر پوسٹ کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ہم، روس، بیلاروس اور یوکرین کے شہری جو اس وقت بے پناہ مصائب سے دوچار ہیں، سوئس حکام سے اپیل کرنے کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔‘درخواست میں مزید کہا گیا ہے: ‘وہ گمراہ ڈکٹیٹر اور جنگی مجرم کی پسندیدہ بیوی ہیں جو گذشتہ ہفتوں سے یوکرین پر دھوکہ دہی سے حملہ کر رہے ہیں۔‘

درخواست گزاروں نے سوال اٹھایا کہ ‘روس پر عائد پابندیوں کو دیکھتے ہوئے’ سوئس حکام ایک ایسے وقت میں ان کی اور ان کے اہل خانہ کی میزبانی کیوں کر رہا ہے جب پوتن ‘لاکھوں لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں۔‘درخواست میں سوئس عوام سے کہا گیا ہے: ‘جدید تاریخ میں پہلی بار آپ کے ملک نے اپنی غیر جانبداری کی خلاف ورزی کی ہے جو اس نے بیسویں صدی میں نازی جرمنی کے مقابلے میں بھی نہیں کی اور پوتن اور ان کے اردگرد کی پابندیوں میں شامل ہو گیا۔

ابھی تک آزادانہ طور پر اس بات کا کوئی تصدیق شدہ ثبوت نہیں ملا ہے کہ پوتن کے حامی سابق رکن پارلیمنٹ علینا سوئٹزرلینڈ میں چھپی ہوئی ہیں جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے روسی صدر کے بچوں کو جنم دیا ہے۔

علینا نے کافی عرصے سے بہت کم عوامی سطح پر کوئی بات کی ہے لیکن انہوں نے ایک بیان دیا تھا جس میں روسی ٹیم کو یوکرین میں جنگ کی وجہ سے بیجنگ پیرالمپکس میں حصہ لینے سے روکنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔’انہوں نے پرواہ نہیں کی اور یوگوسلاویہ، عراق، لیبیا اور شام میں لاکھوں شہریوں کی تباہی میں حصہ لینے والے کسی بھی ملک کو مقابلے سے نہیں منع کیا۔’روس کھیلوں کی ایک عظیم طاقت تھا، ہے اور رہے گا- اور آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘افواہوں نے پہلی بار انہیں 2008 میں پوتن سے رومانوی طور پر جوڑا تھا جب وہ کریملن کی حامی رکن پارلیمنٹ تھیں۔

پوتن – جنہوں نے 2013 میں ایروفلوٹ فضائی کمپنی کی سابق میزبان اور ان کی اہلیہ لیوڈمیلا کو طلاق دینے کا اعلان کیا تھا – اس سے قبل کہہ چکے ہیں: ‘میری ایک نجی زندگی ہے جس میں میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘علینا ریکارڈ پر ہیں جب انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی جو ‘مجھے بہت پیار کرتا ہے۔ کبھی کبھی آپ کو اتنی خوشی ہوتی ہے کہ آپ کو خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔‘2001 میں علینا پر ڈوپنگ ٹیسٹ مثبت آنے پر عارضی طور پر جمناسٹک میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ ایک سال قبل انہوں نے 2000 کے گرمائی اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔بتایا گیا ہے کہ ان کے پاس لیموزین کا ایک بیڑا ہے اور ماسکو میں کیفے اور ریستوران کا دورہ کرتے ہوئے مشین گنوں سے مسلح سکیورٹی گارڈز نے گھیر رکھا تھا۔بہت سے روسی انہیں پوتن کی اپنی دو بیٹیوں کی ماں 63 سالہ سابق خاتون اول لیوڈمیلا سے شادی ٹوٹنے کی وجہ گردانا ہے۔