پنجاب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے سنگھوسرحد پر احتجاج کررہے کسانوں کے لئے عارضی خیمے نصب کئے

0 1

نئی دہلی۔ہریانہ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے قومی اور دیگر سطح کے کھلاڑی جو سنگھو سرحد پر پہنچے‘ ایک ویران مال کو پچھلے ایک ماہ سے اوپر نئے زراعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے کسانوں کے لئے رہائش کی جگہ میں تبدیل کردیاہے۔

پنجاب کے جالندھر سے تعلق رکھنے والے قومی سطح کے فٹبال کھلاڑی ٹونی سندھو نے اے این ائی کو بتایاکہ”شروعات میں جب یہ عام ائے تھے کوئی تصفیہ نہیں ہوا تھا۔

بعد میں ہماری ضرورتوں کے مطابق ہریانہ او رپنجاب کے کھلاڑیوں کے تعاون سے لنگر لگایاگیا۔مذکورہ رہائش ایک بڑا مسئلہ تھا‘ سنگھو پر ہمیں ایک ویران مال ملا اور جس کو عارضی طور رپر رہنے کے قابل بنایاگیاہے۔

یہاں پر کافی گردو غبارتھا جس کو پہلے صاف کیاگیا“۔

سندھو اور کباڈی کھلاڑی مانیگا بگا جسکا تعلق پنجاب کے شاہ کوٹ سے ہے نے سنگھوسرحد پر احتجاجیوں کی مدد کے لئے رہائش کا انتظام کرنے کی پہل کی ہے۔

فی الحال 2000لوگ اس عارضی انتظام سے استفادہ اٹھارہے ہیں۔ اس پہل میں دیگر لوگوں سے ملنے والے تعاون کے متعلق بات کرتے ہوئے سندھو نے کہاکہ”کچھ این جی اوز نے خیموں کا انتظام کیاہے جس کی وجہہ سے وہاں پر 2000لوگ رہ رہے ہیں۔

اس کا انتظام 15دن قبل کیاگیاہے وہ احتجاج کے مقام سے قریب سے بڑا رہنے کا انتظام ہے“۔ سندھو نے پنجابی کمیونٹی کی جنب سے ہمیشہ مدد کے لئے آگے کی بات کو اجاگر کیا۔

مذکورہ کمیونٹی کی جانب سے اس کا جواز پیش کرنے کے لئے وبائی وقت کے دوران کمیونٹی سے کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔سندھو نے کہاکہ ”ہر کسی کا تعلق زمین سے جڑا ہے۔

یہ ہماری ذمہ داری ہے‘ کئی کھلاڑی مدد کے لئے آگے آرہے ہیں“۔

روپرکے انجو بالا جو یہاں پر اپنی غیر زراعی ماہ کے ساتھ احتجاج میں ائی ہے نے کہاکہ ”یہ بہت بہترین سہولت ہے اور انہوں نے یہاں پر ڈیروں کاشہر بنایاہے۔

میری والدہ کی عمر90سال کی ہے جس کے لئے یہ کافی شاندار ہے۔ کسان ہمیں کھانا فراہم کرنے والے ہیں اور ہم یہاں پر ان کے لئے ائے ہیں“۔

چندی گڑھ کے ساکن گر پریت کور اپنے شوہر اور 8ماہ کے بچے کے ساتھ یہاں پر ائی ہیں نے کہاکہ ”اس شدید سرما میں اس سے ہمیں بچاؤ مل رہا ہے او ریہ بہترین سہولت فراہم کی گئی ہے۔

ہمیں بچوں کے لئے دودھ بھی مل رہا ہے اور بڑے آرام سے سو بھی رہے ہیں“۔

اس سے قبل چہارشنبہ کے روز مرکزی حکومت او رکسان قائدین کے درمیان میں وگیان بھون دہلی میں مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے ساتھ ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی تھی کہاجارہا ہے کہ ایجنڈہ کے چار میں سے دو باتوں پر اتفاق رائے بنی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ 4جنوری کے روز اگلی میٹنگ ہوگی۔ مذکورہ حکومت نے کسان لیڈروں کو چہارشنبہ کے روز میٹنگ کے دوران یہ کہاکہ ان کے مطالبات کی یکسوئی کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔

کسانوں کے ساتھ حکومت کی یہ ساتویں مرحلے کی بات چیت تھی‘ جس میں مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے بات چیت بھی شامل ہے۔ دہلی کی مختلف سرحدوں پر کسان مرکزی حکومت کی جانب سے لائے گئے تین نئے زراعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں