Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم کومغربی بنگال اردو اکاڈمی کے ایوارڈ کا اعلان

”ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر“ ، ”اہم شخصیات کی مبارک بادیوں کا سلسلہ جاری ہے“

علی گڑھ / ۵۱ ستمبر۔(پریس ریلیز) مغربی بنگا ل اردواکیڈمی نے ریاست و بیرون ریاست کے مشاہیرادب کو ان کی علمی ایوارڈ کے اعتراف میں ایوارڈسے نوازنے کافیصلہ کیاہے۔ جن شخصیتوں کوایوارڈ دینے کافیصلہ کیا گیا ہے ان میں ممتاز نقاد، دانشور، محقق، افسانہ نگاراوراسکالر پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم،علی گڑھ (سبکدوش) سابق چیئرمن اورسابق صدر شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کو اردو زبان وادب کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کلکتہ نے اپنا پروقار” مغربی بنگال اردو اکاڈمی ایوارڈ سال ۸۱۰۲، دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایوارڈ توصیفی سنداور ایوارڈسے نوازا جائے گا۔مغربی بنگال اردو اکاڈمی بہت جلد تقریب کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔
پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم کی ادبی خدمات کا دائرہ افسانہ نگار،مترجم،مدیر، تحقیق،تنقید اور ترجمےپرمحیط ہے۔فکشن کی تنقید ان کا خاص میدان ہے۔مختلف اصناف پر مشتمل ان کی15/کتابیں اور سیکڑوںمضامین منظر عام پر آکر ناقدین سے سند اور شائقین ادب سے داد و تحسین وصول کرچکے ہیں۔ موصوف پریم چند شناس کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی بیش بہا ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیںاردو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، نواب محمد علی والی جاہ ایوارڈچینی، سر سید ایوارڈ میرٹھ، ڈاکٹر انجم جمالی ایورڈ میرٹھ، صغر یٰ مہندی قومی یکجہتی ایوارڈ یوپی اردو اکیڈمی لکھنو، نشان ِسپاس ایوارڈ(وفاقی ردو یونیورسٹی کراچی، پاکستان)، سر سید ایوارڈ سائنس یونیورسٹی کراچی، اردو ادب ایوارڈ (ہندی اردو ساہتیہ،لکھنو)،سمیت دیگر انعامات و اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم ایک مثالی معلم بھی ہیں، جن کے ہزاروں لائق و فائق طلبا ملک و بیرون ملک میں ممتاز مناصب پر فائز ہیں۔
صغیر افراہیم اترپردیش کے ضلع اُناﺅ میں 12 جولائی 1953ءمیں پیدا ہوئے۔ مولانا حسرت موہانی جن کا شمار اعلیٰ پایہ کے شعرا ءاور جنگِ آزادی کے سورماو?ں میں ہوتا ہےکا پیدائشی مقام بھی یہی سر زمین ہے۔ صغیر افراہیم کی ابتدائی تعلیم اپنے وطن اُناﺅ میں ہوئی۔ کھیل کود سے زیادہ اُنھیں پڑھنے یا پھر کچھ لکھنے کا شوق تھا۔ قصے کہانیوں کو بڑے انہماک سے سنتے تھے۔ وہ 1975ءمیں علی گڑھ آگئے۔ انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے (آنرز)،اور 1980ءمیں ایم اے (اردو) امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور گولڈ میڈل کے علاوہ شبلی ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔ انھوں نے ”اردو افسانہ ترقی پسند تحریک سے قبل” کے عنوان سے پی ایچ ڈی کی سند پروفیسر نعیم احمد کی نگرانی میں 1885ءمیں مکمل کی۔
صغیر افراہیم جن فرد سے زیادہ ایک انجمن کا شائبہ ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک فرض شناس معلم، محقق، نقاد، صحافی اور اعلیٰ پائے کے منتظم ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ایک اچھے اور قابل اعتماد اور ایثار پیشہ دوست بھی ہیں جو ہمیشہ حق دوستی ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ جس طرح نوبہ نو ذمہ داریوں میں ہر آن گھرے رہتے ہیں ان کا خیال کرکے یقین ہی نہیں آتا کہ انھوں نے اتنی کتابیں، مضامین اور تبصرے وغیرہ کب اور کیسے لکھے ہوں گے۔ یقینا وہ ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں جن کے نزدیک لکھنا، پڑھنا، درس و تدریس اور تنقید و تحقیق ہی کو سب سے مقبول عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ اسی یقین اور اعتماد کے طفیل ان کے قلم و ذہن سے اتنا علمی ادبی سرمایہ وجود میں آیا ہے اور توقع ہے کہ اس میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم کو اردو زبان وادب کی گراں قدر خدمات کے زمرہ میں اس ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا۔مغربی بنگال اردو اکاڈمی کلکتہ کی جانب سے انھیں باوقار ایوارڈ کا اعلان کیے جانے پر اردو دنیا کی اہم شخصیات کی مبارک بادیوں کا سلسلہ جاری ہے۔