• 425
    Shares

محمدتقی 9325610858۔ناندیڑ(مہاراشٹر)
یہ جولائی 1975ءکی بات ہے ۔میں اپنی بائی سائیکل پرسوارچار کلومیٹر کی مسافت طئیے کرکے شہرناندیڑ کی مشہور اورمعیاری درس گاہ پیپلز کالج پہونچاتھا توکالج کی عمارت نے مجھ پر کوئی جمالیاتی تاثر نہیں چھوڑاتھا ۔ عمارت کو خوش نماو خوبصورت نہیں کہاجاسکتاتھا ۔کالج سے تھوڑٰی دوری پرسائنس کالج کی عمارت تھی ۔ پیپلز کالج اور سائنس کالج کے درمیان لڑکیوں کاہاسٹل تھا جس پر ہمیشہ بہاریں منڈلاتی رہتی تھیں ۔انٹرول میں کالج کی طالبات ہاسٹل میںگپ شپ کرتیں اس طرح وہاں اپناوقت گزارتی تھیں ۔ہاسٹل کے سامنے ہر وقت لڑکوں کاجم گٹھا لگا رہتا تھا ۔ لڑکے ہاسٹل آنیوالی اور ہاسٹل سے جانیوالی لڑکیوں پر کبھی فقرے کستے یا پھر ان سے چھیڑخانی کرتے ‘لڑکیاں خاموشی سے بلکہ کبھی کبھی تو خوش دلی سے یہ سب برداشت کرلیتی تھیں ۔ بہر کیف کالج کاماحول بڑا گُل و گلزارتھا ۔ حسین پری چہروں کے پرے کے پرے ادھر ادھر گھومتے دیکھائی دیتے تھے ۔میں کالج میں بی اے (سال اول) میں داخلہ لینے پہونچا تھا ۔ میراداخلہ بہ آسانی ہوگیا تھا ۔
دوسرے ہی دن میںنے اپنے مضامین کی کلاسیس اٹینڈ کرناشروع کردی تھیں ۔میرے اختیاری مضامین میں اردو ادب شامل تھا ۔ میں ا ردو کی کلاسیس میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک سانولے رنگ کا قدرے لمبا شخص کلاس روم میں داخل ہوا ۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟ ساتھیوں نے بتایا کہ یہ اردو کے لکچرر پروفیسر صادق سر ہیں ۔ پروفیسر صادق کے لکچرر سے ہم سب طلباء کافی متاثر ہوئے تھے ۔ ان کاانداز بیان بڑا دلکش تھا ۔ میں پابندی سے ان کی کلاس اٹینڈ کرتا رہا ۔اس وقت پروفیسر صادق اردو اورہندی کے معروف جدید شاعر اورمصور کی حیثیت سے مشہور ہوچکے تھے ۔ ان کی تخلیقات ملک کے مشہور رسائل میں چھپتی تھیں۔ بلکہ مہاراشٹر کے اسکولوں ووکالجوں میں پڑھائی جانیوالی اردودرسی کتب میں بھی ان کی نظمیں اورغزلیں شامل تھیں ۔استاد محترم کی نظمیں ‘ غزلیں اور نثری مضامین رسائل میں دیکھ کر مجھ میں رسائل واخبارات میں اپنا نام پکّی روشنائی میں چھپوانے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی تھیں ۔میں شعر کہنے کی طرف راغب ہونے لگا ۔ ایک دن میں نے اپنی پہلی غزل لکھ کر صادق سر کودیکھائی ۔ انھو ں نے اسے پڑھا اور ضروری اصلاح کردی ۔ پھر اسی غزل کو نظام آباد سے جمیل نظام آبادی کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفتہ وار اخبار”گونج “ میں شائع کروادی ۔بعد میں”گونج“ ماہنامہ کی شکل میں نکلنے لگاتھا ۔ ”گونج “ میں اپنی غزل دیکھ کرمیری خوشی کی انتہا نہیں رہی ۔ میں نے پہلی بار کسی اخبار میں پکّی روشنائی میں چھپا اپنا نام دیکھا تھا ۔ اخبار دوستوں کودیکھانے لگا ۔ اس وقت میرے ہم مکتب جمیل احمد‘ عبدالندیم متے صاحب ‘ وقار احمد (مرحوم ) ‘ بسم اللہ خاں(مرحوم) وغیرہ تھے ۔ اور دوستوں میں سید بلیغ الدین ثاقب‘ محمد خیرالدین بابو میاں(مرحوم ) ‘ جاوید انصاری (جالنہ ) تھے۔ دن گزرتے گئے اور صادق سر سے میری قُربت بڑھتی گئی ۔ فرصت کے اوقات میں میں ا ُن سے مختلف سوالات کرتا اوروہ مجھے بڑی شفقت کے ساتھ جوابات دیتے ۔ کسی اہم مسئلے کو سمجھاتے ۔

ایک دن میں نے اپنی دوسری غزل اصلاح کی غرض سے صادق سر کے سامنے رکھ دی ۔ انھوں نے غزل کو غورسے دیکھا اور مجھ سے نرم لہجے میں مخاطب ہوئے

‘”شاعری بڑامشکل فن ہے‘یہ بہت محنت ‘ریاض ‘مطالعہ اورذہانت چاہتاہے ۔ تمہارامزاج شعرکہنے کےلئے موزوں نہیں ہے ۔ اچھا شعر کہنے سے واہ واہ تو مل جائے گی لیکن تمہیں کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا ۔بہتریہی ہے کہ شعرکہنے کے بجائے نثر لکھو۔ مراٹھی۔ہندی ‘اورانگریزی مضامین کے ترجمے کرو ۔ ترجمے کادور ہے اس میں تمہیں کافی مالی فائدہ ہوگا ۔ شہرت اورعزت بھی ملے گی ۔“

میرے ذہن پریہ باتیں ہتوڑا بن کر برسیں‘ میں نے شاعری سے ہمیشہ کےلئے توبہ کرلی ۔ صادق سر کی رہنمائی میں افسانے اور معلوماتی مضامین لکھنے شروع کردئےے۔ افسانے ‘مضامین اورتراجم اخبارا ت میں شائع ہونے لگے ۔ میرے حوصلے بلند ہونے لگے ۔ فن نثرنگاری اورفن ترجمہ نگاری کے باعث ہی آج میں اردو دنیا میں ایک محترم ادیب و صحافی کی حیثیت سے جانا جاتا ہوں ۔ اللہ کے کرم سے یہ فن میری روٹی روزی کاذریعہ بنے۔

ناندیڑ قیام کے دوران صادق سر کی جن افراد سے گہری دوستی تھی ان میں ڈاکٹر عزیز الدین (پروفیسر گورنمنٹ آیورویدک کالج ناندیڑ) ایک اہم نام ہے ۔ مرحوم ڈاکٹر عزیز الدین شعرو ادب کا شُستہ مذاق رکھتے تھے ۔ اس لئے صادق سر کی ان سے گاڑھی چھنتی تھی ۔ ان کے علاوہ ڈاکٹردتا بھگت ‘ پروفیسر ڈاکٹرانواراحمدخاں ‘ پرفیسر نرہر کروندکر ‘ پروفیسر عبدالجبار بھی دوستوں میں شامل تھے۔ اورنگ آباد کے دوستوں میں بشرنواز‘ قاضی سلیم‘ ڈاکٹرارتکاز افضل ‘ پروفیسر ڈاکٹر انتخاب حمید خاں اور پروفیسر تلاوت علی شامل رہے ہیں۔

سن 1978ءمیں جب یو پی ایس سی نے صادق سر کا تقرر مرکزی حکومت کے محکمہ ترقی اردو بیورو میں کیا تو وہ دہلی منتقل ہوگئے ۔ ناندیڑ نے انھیں بڑی عزت دی ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو پروفیسرس ‘اسکالرس‘ ادیب اور شاعر ان کا بڑا حترام کرتے تھے ‘ او رآج بھی کرتے ہیں ۔یہ صادق سر کو خداکاعطا کردہ انمول تحفہ ہے ۔ یہ رب العزت کی مرضی ہے وہ جس کو نوازناچاہتا ہے اسے نوازتا ہے ۔ اس کی ترقی وکامرانی کےلئے کچھ ایسے حالات و راہیں پیدا کرتا رہتا ہے کہ وہ شخص غیرارادی طو ر پر ان روشن راستوں پرچل پڑتاہے ۔ صادق سر نے دہلی میں اپنی محنتوں‘ قابلیتوں‘صلاحیتوں اور جہد مسلسل سے اپنا نیا جہاں آباد کیا ہے۔ اس جہاں میں انھیں بڑی محبتیں ‘ چاہتیں ‘ اوردعائیں ملی ہیں۔آج وہ برصغیر ہند میں ایک منفرد لب ولہجہ کے قدآور شاعر ‘مصور نقاد ‘محقق کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔کئی ایوارڈ یافتہ فنکار ہیں ۔ ان کے دو شعری مجموعے دستخط اور سلسلہ ان کے ناندیڑ قیام کے دوران منظرعام پرآئے تھے ۔اور ادبی حلقوں مین کافی پسند کئے گئے تھے ۔

اردو کے تخلیق کار اورنقاد شمس الرحمن فاروقی کے بعد صادق صاحب اردو ادب کے سب سے بڑے تخلیق کار اور نقاد تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ہندوستانی ادبیات کے علاوہ کئی زبانوں کا گہرا مطالعہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی تخلیقات اوردیگر تحریروں میں معنویت ‘ عصری حسیت ‘ گہرائی وگیرائی کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ہندی زبان میں بھی پچاس ‘ ساٹھ برسوں سے نظمیں اورآلو چنائیں لکھ رہے ہیں۔ ہندی دنیا انھیں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ ان کی کئی تخلیقات نصابی درسی کتب میں شامل ہیں ۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں زبردست تخلیقی کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں ۔کئی ڈاکیومینٹری فلمیں اور ٹی وی سیرئیل بنائے جو ملک بھر میں بے حدمقبول ہوئے ہیں ۔ ان کی ہدایت ونگرانی میں تیار ہونے والا ٹی وی سیرئیل ”انداز شاعرانہ“ ملک اور بیرون ملک میں بہت مقبول ہوا ہے۔ یہ سیرئیل ڈی ۔ڈی ۔اردو سے کئی (Episode) میں ٹیلی کاسٹ ہوتا رہا ہے ۔ دراصل سیرئیل ارد وکے قدیم اساتذہ شعراءجیسے ولی دکنی‘ میر تقی میر‘ مرزاغالب ‘ داغ دہلوی وغیرہ کی شاعری شخصیت او رزندگی پرتیار کیاگیا ہے۔ شعراءکے کلام تو موسیقی کے ساتھ پیش کرنے سے ناظرین سیرئیل کے سحر میں کھوجاتے ہیں۔

صادق سر نے فن مصوری کے شعبہ میں بھی گرانقدر اور ناقابل فراموش کام کیا ہے ۔ ملک گیر سطح پراتنی شہرت و عزت بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔وہ ایک عاشق رسول ہیں۔ تصوف سے خصوصی دلچسپی اور لگاﺅ کے طفیل انھوں نے صوفیائے کرام پرعمدہ کام کیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ وہ ایک خدا ترس ‘ شریف النفس‘ منکسر المزاج اور ملنسارشخصیت کے حامل ہیں۔ کوئی شخص جب ان سے ایک بار ملتا ہے تو پھر وہ ہمیشہ کےلئے ان کاگرویدہ ہوجاتا ہے ۔ دوست بنانے میں انھیں کمال حاصل ہے ۔ ان کے بے شمار شاگرد دہلی اور مراٹھواڑہ میں پائے جاتے ہیں ۔ میں نے اپنے طالب علمی کے دورمیں سینکڑوں اساتذہ دیکھے ہیں ۔ان سے درس حاصل کیا ہے لیکن صادق سر جیسا مشفق استاد نہیں دیکھا ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ صادق سر کے طفیل ہوں۔ زندگی کی دشوارکن راہوں پرچلنے کاگُر میں نے اُن سے سیکھا ۔ ان کے روبرو زانوے ادب تہہ کیا۔ جس طرح والدین کے احسانات کاکوئی بدل نہیں ہوسکتا اسی طرح استاد کی کرم فرمائیوں اور احسانات کاصلہ بھی کبھی ادا نہیں کیاجاسکتا ہے۔ صادق سر کی شفقت اور محبت کا سایہ اب بھی ہر وقت میر ے ساتھ رہتا ہے‘ لمحہ بھرکے لئے بھی مجھ سے جدا نہیں ہوتا ۔ پروردرگار عالم انھیں سلامت رکھے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہاہے۔

جادہ جادہ چھوڑ جاﺅ اپنی یادوںں کے نقوش
آنے والے قافلوں کے رہنما بن جاو گے

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔