اعظم شہاب

ممبئی کے مرین ڈارئیو کا شمار شہر کے پاش ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ وہاں کے بے شمار فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سے ایک ہوٹل ’سی گرین‘ کے پانچویں منزلے پر واقع ایک کمرے میں فروری کے تیسرے عشرے میں ایک ممبرپارلیمنٹ خودکشی کرلیتا ہے۔ اس کے کمرے سے 16 صفحات کا ایک خودکشی نوٹ برآمد ہوتا ہے جس میں محرکین خودکشی کے نام درج ہوتے ہیں۔ ممبئی پولیس اس نوٹ کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرتی ہے اور تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم کی تشکیل بھی کر دیتی ہے۔ لیکن اسی دوران ارنب گوسوامی، فرضی ٹی آر پی، مکیش امبانی کے گھر کے قریب دھماکہ خیز اشیاء کے ملنے جیسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جس میں راست طور مرکزی حکومت کی دخل اندازی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ریاستی حکومت فتراک در فتراک میں گرفتار ہوتی چلی جاتی ہے اور ممبر پارلیمنٹ کی خودکشی کی تفتیش کا معاملہ پردے کے پیچھے چلا جاتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مہاراشٹر میں سیاسی وانتظامی اتھل پتھل پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ممبر پارلیمنٹ کی خودکشی کے معاملے سے ریاستی حکومت کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ کیونکہ خودکشی نوٹ میں جس شخص کا نام دیگر 9 محرکین میں پہلے نمبر پر تھا وہ نہ صرف وزیراعظم، وزیرداخلہ کا نہایت قریبی ہوتا ہے بلکہ مرکز کے زیرانتظام ایک نہیں بلکہ دو علاقوں کا منتظم اعلیٰ یعنی کہ ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے۔ جی ہاں! آپ بالکل ٹھیک سمجھے۔ میں بات پرفل کھوڈا پٹیل کی کر رہا ہوں، جو آج کل لکش دیپ پر اپنا پورا ’لکش کیندرت‘ کیے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ مرکز کے زیرانتظام کسی علاقے کا منتظم اعلیٰ ہونے کا مطلب وہاں کا وزیراعلیٰ ہونے جیسا ہے۔ مرکز میں بی جے پی حکومت کے قیام سے قبل یونین ٹریٹریز کا ایڈمنسٹریٹر کوئی آئی اے ایس یا اسی رینک کا افسر ہوا کرتا تھا، مگر ’دیش میں پہلی بار‘خبط والی حکومت نے اس نظم کو تبدیل کرتے ہوئے ایک سیاسی شخص کو ایڈمنسٹریٹر بنا دیا۔


گجرات کی زمام کار جب پردھان سیوک جی کے ہاتھوں میں تھی اور ان کے دستِ راست امت شاہ صاحب کو گجرات سے حد باہر یعنی کہ تڑی پار کردیا گیا تھا تو انہیں پرفل پٹیل کے ناتواں کندھوں پر گجرات کے وزارتِ داخلہ کا بوجھ آگیا تھا۔ ان کے والد چونکہ آرایس ایس کے سیوک تھے جس کی وجہ سے پرفل پٹیل کی سرشت میں بچپن میں ہی وہ تمام اوصاف پیدا ہوگئے جو دیگر مذاہب خاص طور سے مسلمانوں کے تئیں سنگھ کا طرہی امتیاز ہے۔ انہوں نے 2007 میں پہلی بار ہمت نگر سے بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا اور کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی اس وقت کے وزیراعلیٰ سے رابطہ اس قدر گہرا ہوا کہ امت شاہ کے بعد انہیں وزیرداخلہ بنا دیا۔ لیکن 2014 میں وہ الیکشن ہار کر پسِ پردہ چلے گئے، مگر پردھان سیوک سے ان کی وابستگی برقرار رہی، جس کے انعام کے طور پردو سال بعد یعنی کہ 2016 میں صدرجمہوریہ نے انہیں دادرانگر حویلی کا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا۔
چونکہ ان کی تقرری روایت کو بالائے طاق رکھ کر انعام کے طور پر ہوئی تھی اور انہیں دادرانگر حویلی کا زمامِ کارمکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینا تھا، اس لیے انہوں نے وہاں پر تعینات ایک ایماندار آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کو پریشان کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں گوپی ناتھن نے 2019 نہ صرف اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا بلکہ آئی اے ایس کی ملازمت بھی چھوڑ دی۔ اب پورے دادرانگر حویلی پر پرفل پٹیل کی حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ایک سال بعد یعنی کہ 2020 میں لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر دنیشور شرما کا انتقال ہوگیا جس کے بعد پرفل پٹیل کی ایک اور لاٹری نکل پڑی کیونکہ انہیں لکش دیپ کا بھی ایڈمنسٹریٹر بنادیا گیا۔ یہاں کا ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد تو پرفل پٹیل کی پوری توجہ ان جزیروں کی ریاست لکش دیپ پر مرکوز ہوگئی اور انہوں نے وہ وہ حرکتیں شروع کردیں جس کی آج پورا ملک ان پر تھوتھو کر رہا ہے۔

یہاں کا ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد انہوں نے یہاں پر ہندوتوا کے نظریات کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ جیسا کہ سبھی کو معلوم ہے کہ لکش دیپ کی 96 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے اور یہاں کی آبادی والے دس جزیروں میں سے صرف ایک جزیرے بنگارام کے علاوہ بقیہ 9 جزیروں پر شراب پر پابندی عائد تھی۔ انہوں نے ان تمام 9 جزیروں پر بھی شراب پرعائد پابندی کو ختم کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہاں پر بیف پر روک لگادی جو یہاں کے لوگوں کی اہم غذا تھی۔ جبکہ بی جے پی کی اقتدار والی کئی ریاستوں میں بیف پر کوئی پابندی نہیں ہے اور مودی حکومت کے کئی وزیر تک علانیہ بیف کھانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں، مگر انہوں نے اپنے ہندوتوا نظریات کے تحت یہاں بیف پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی اور کارہائے نمایاں یہاں انجام دیئے جس میں غنڈہ ایکٹ، زمین پر حکومتی قبضے پر اعتراض کا حق چھین لینا، عارضی سرکاری ملازمین کی برطرفی اور آنگن واڑی بند کرنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ انہوں نے لکش دیپ کا تعلق کیرالا کے کوچی بندرگاہ سے توڑ کر کرناٹک کے بنگلورو سے جوڑ دیا۔ جیسا کہ جغرافیائی اعتبار سے لکش دیپ کیرالا سے قریب ہے اور ہاں کیرالا کی تہذیب وثقافت ہی حاوی ہے، مگر چونکہ کیرالا میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے اس لیے انہوں نے کرناٹک کو لکش دیپ سے جوڑنے کی کوشش کی۔ پرفل پٹیل کے ان اقدامات کی وجہ سے نہ صرف لکش دیپ میں ان کی زبردست مخالفت شروع ہوگئی۔ اسے کچلنے کے لیے انہوں نے وہاں غنڈہ ایکٹ لگا دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ نہ صرف کیرالا کے وزیراعلیٰ نے بلکہ کانگریس سمیت دیگر کئی اہم پارٹیوں کے لیڈران نے بھی صدرجمہوریہ کو خط لکھ کر پرفل پٹیل کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ صورت حال کیونکر پیدا ہوئی؟ تو اس کا جواب گجرات کی تاجرانہ ذہنیت اور ہندوتوا کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔ پرفل پٹیل نے لکش دیپ کو سیاحتی اعتبار سے فروغ دینے اور اپنے گجرات کے سرمایہ داروں کو وہاں پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے شراب سے پابندی ہٹائی اور اس کے ہندوکرن کے کے لیے بیف پر پابندی عائد کی۔ لیکن یہ کرتے ہوئے پرفل پٹیل اگر گجرات میں شراب بندی اور بی جے پی کے اقتدار والی کئی ریاستوں میں بیف کے فری ہونے پر ہی غور کرلیتے تو شاید یہ نوبت نہیں آتی۔ اس لیے پرفل پٹیل پرسنسکرت کی یہ کہاوت حرف بہ حرف صادق آتی ہے ’وناش کالے وپریت بدھی’جب کال یعنی کہ وقت پورا ہوجاتا ہے تو عقل ماؤف ہوجاتی ہے۔ لکش دیپ میں پرفل پٹیل کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ اب ٹوئیٹر پر’لکش دیپ بچاؤ، پرفل ہٹاؤ‘ کا ہیش ٹیگ بھی چل پڑا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ دادرا نگر حویلی کے ممبر پارلیمنٹ موہن ڈیلکر کی موت کے معاملے میں پرفل پٹیل اسی طرح ماخوذ ہیں جس طرح سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر میں امت شاہ۔ اس لیے دیکھتے ہیں پردھان سیوک جی کب تک اس معاملے پر خاموش رہتے ہیں اور پرفل پٹیل کب تک خود کو قانون کی گرفت سے بچا پاتے ہیں۔