Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

پربھنی میں فیس بک پر قرآنی آیت کی غلط تشریح اور غلط بیانی سے اسلام کو بدنام کرنے کی سازش

IMG_20190630_195052.JPG

avn esh

پربھنی:23مئی (سید یوسف): پربھنی شہر میں فیس بک پر قرآن مجید کی غلط تشریح اور غلط بیان بازی کرتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے پر پربھنی کے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں خاطی ملعون ملزم انویش G کےخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پربھنی شہر کے نوجوان سماجی شخصیت اکبر جاگیردار ابن عبدالحمید جاگیردار ساکن عنایت نگر، پربھنی نے پربھنی کے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی ہے کہ وہ اپنے رہائش گاہ پر دوپہر ایک بجے کے قریب اپنے موبائل فون پر فیس بک دیکھ رہے تھے کے ان کی نظر فیس بک پر اچانک ایک پوسٹ پر پڑی جو پوسٹ انویش Anvesh G کے اکاو نٹ سے ڈالی گئی تھی۔ پوسٹ میں قرآن مجید کی غلط تشریح اور غلط بیان بازی کرتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ملعون انویش Anvesh G نے فیس بک پر اپنے پوسٹ میں قرآن مجید کے ایک سورہ کا غلط حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ

قرآن شریف میں ماہ رمضان کے ختم ہونے کے بعد غیر مسلموں کو مارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جس پر انہوں نے مذکورہ پوسٹ اپنے دوست سید معین سید منظور میاں، ساکن درگاہ روڈ، پربھنی کو بتایا۔ مذکورہ پوسٹ یہ دو مذاہب کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور ان کے درمیان دشمنی کو فروغ کرنے کی غرض سے ڈالی گئی ہے – جس پر انہوں نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے ملزم کے خلاف پربھنی کے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں 22مئی 2020 کے روز شام 21:59 بجے مقدمہ درج کیا ہے۔

عیاں رہے کہ ملعون انویش G کا تعلق پربھنی کے ناتھ نگر، علاقہ سے بتایا جا رہا ہے جہاں وہ آج کل رہائش پذیر ہے جبکہ وہ وجے واڑہ، آندھرا پردیش سے تعلق رکھتا ہے – جو یہاں کے ایک اسکول میں ٹیچر کے فرائض انجام دیا کرتا تھا تاہم اپنی نوکری سے دستبردار ہو چکا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ ملعون و گستاخ رسول انویش G کے فیس بک پوسٹ پر آپ صل اللہ علیہ والہ صلعم کے متعلق کچھ پوسٹ بھی ڈالی ہوئی ہیں جسے فوری طور پر حدف کرنے کا مطالبہ عوام میں زور پکڑ رہا ہے۔

شہر پربھنی و ضلع میں ملعون انویش جی کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ عوام میں کیا جا رہا ہے جو عیدالفطر کے موقع پر دو مذاہب کے درمیان تفرقہ ڈالنے میں لگا ہوا ہےاس کی اس حرکت پر ملزم کو کیفرکردار تک پہنچا یا جائے اس طرح کا مطالبہ عوام میں ہو۔