پربھنی:11جنوری(ورق تازہ نیوز)فیڈریشن آف آل مائناریٹی ایجوکیشنل آرگنائزیشن (فیم ) کے زیراہتمام 10جنوری بروز اتوار کوشب سات بجے کوئنس انگلش اسکول ناندکھیڑہ روڈ پربھنی میں گزشتہ آٹھ مہینوں میں کوروناوباءاور لاک ڈاون کے دوران پربھنی ضلع میں انتقال کرجانے والے افراد کی یاد میں جلسہ تعزیت کاانعقادعمل میں آیا ۔

محترمہ فوزیہ تحسین خان (رکن پارلیمان راجیہ سبھا) نے اپنے خطبہ میں 44 مرحومین کی مغفرت کیلئے دعا کی ۔

ان مرحومین میں چند اہم شخصیات عبدالرشید انجینئر‘ صدر پربھنی ایجوکیشن سوسائٹی اور ایسوسی ایشن آف اردو ایجوکیشن سوسائٹی پربھنی ‘ ایڈوکیٹ محمدجاوید قادر (سابق میونسپل کارپوریٹر پربھنی) ‘ جان محمدجانو (سابق کونسلر اور میونسپل کارپوریٹر) ‘قاضی محمد جلال الدین (سابق میونسپل کارپوریٹر) ‘ محمد نصیر الدین سابق صدر مدرس ڈاکٹر ذاکرحسین اسکول پربھنی سیلو ‘ اور حاجی خرم علی خاں عرف ابرارعلی خاں وغیرہ کی شخصیت ‘ملی وتعلیمی خدمات پرروشنی ڈالی ۔

روزنامہ ”’ورق تازہ“ ناندیڑ وپربھنی کے مدیراعلیٰ محمدتقی نے اپنے تعزیتی کلیمات میں مرحوم رشید انجینئر سے اُن کے ذاتی مراسم کے حوالے سے مرحوم کی خدمات اورکارناموں پراظہار خیال کیا۔ اپنے تجربات اور اپنی یادوں کو شیئر کیا۔انھوں نے کہا کہ جب پربھنی ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرانتظام 1986 میں ڈاکٹرذاکرحسین ڈی ایڈکالج کاقیام عمل میں آیاتو لکچرر کی حیثیت سے پہلاتقرر اُن کا ہی ہواتھا ۔ اس وقت رشید انجینئر سوسائٹی کے سیکریٹری تھے۔

وہ متحرک اور فعال سیکریٹری کی حیثیت سے جانے جاتے تھے ۔ انھوں نے پربھنی ضلع میں اردو پرائمری‘ ہائی اسکول ‘جونیئر کالج ‘اردو ڈی ایڈ کالج کاجال بچھادیاتھا ۔اس لئے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہیتہ اکیڈیمی ممبئی نے اردو زبان اوراردو تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انھیں ریاستی سطح کے ایوارڈ سے نوازنے کااعلان کیاتھا ۔

چنانچہ معززشہریان پربھنی کی جانب سے رشید انجینئر کے اعزاز میں ایک اعلیٰ سطحی تہنیتی جلسہ کے انعقاد کافیصلہ کیاگیا ۔جلسہ کی تیاریاں جاری تھیں لیکن اردو اکیڈیمی کی جانب سے رشید صاحب کو کوئی تحریری اطلاع نہیں دی گئی تھی ۔ رشید صاحب چاہتے تھے کہ جلسہ سے قبل انھیں اکیڈیمی کا مکتوب ملناچاہئے ۔چنانچہ مکتوب لانے کیلئے مجھے ممبئی روانہ کیاگیا ۔

میں نے اکیڈیمی کے اس وقت کے نائب صدر ڈاکٹر ظ۔ انصاری سے بالمشافہ ملاقات کی ۔انھوں نے فوری رشید صاحب کے نام کامکتوب تیار کیا اور مجھے دیا ۔ اس کے بعد جلسہ بڑے شاندار پیمانے پر منعقد ہوا جس میں اورنگ آباد ‘حیدر آباد ‘ بمبئی ‘ناندیڑ وغیرہ شہروں کے مہمانانِ خصوصی نے شرکت کی ۔

اس موقع پر روزنامہ”اورنگ آباد ٹائمز“ نے اپنے دوصفحات پرعمدہ ”گوشئہ رشید انجینئر“ شائع کیا ۔ محمدتقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد جنوری 1988ءمیں پربھنی میں رشید انجینئر صاحب کی صدارت میں تاریخی قائد ملّت نواب بہادر یار جنگ تقاریب منعقد ہوئیں جو دو روز تک جاری رہیں۔

اسی میں مہمانان خصوصی کے طور پر بہادریارجنگ اکیڈیمی کراچی(پاکستان ) کے معتمد عمومی وحیدالدین خاں بوزئی نے شرکت کی تھی ۔ حیدر آباد سے تعمیر ملت کے سلیمان سکندر ‘ عبدالرحیم قریشی ‘ محمد نذیرالدین خاں کونسلر( بہادر یار جنگ پراتھاریٹی) وغیرہ کے علاوہ گجرات ‘بمبئی ‘اورنگ آباد ‘ بیڑ‘لاتور ‘ناندیڑ سے بڑی تعداد میں شرکاءنے شرکت کی تھی۔ لیکن اسی دوران کچھ مخالفین نے ان تقاریب کو لےکر رشید انجینئرصاحب اور اُن کے ساتھیوں پر الزام لگایاتھا کہ یہ لوگ پاکستان کے ہمنوا اور سابق ریاست حیدر آباد کے رضاکاروں کے ہمدرد و مداح ہیں۔ شہر کے حالات بگڑنے کاخدشہ ہے۔اسلئے ان سرگرمیوں کی انکوائری کرکے اُن کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔محکمہ پولس میں شکایات بھی کی گئیں تھیں۔لیکن رشید انجینئر قطی خوفزدہ نہیں تھے اور انھوں نے پورے عزم و حوصلے کے ساتھ تقاریب منعقد کیں ۔

البتہ تقاریب کے اختتام کے بعدایک روز انھوں نے مجھے اپنے گھر بلوایااور مجھ سے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ سی آئی ڈی ‘نے حکومت کواپنی رپورٹ پیش کردی ہے امکان ہے کہ میں گرفتار ہوجاﺅں گا۔ اگر میں گرفتار ہوا تو آپ کو ساری ذمہ داریاں سنبھالنا ہے ۔میں نے کہاکہ میں ضرور سنبھالوں گا۔

پھر انھوں نے کہا کہ اگر آپ گرفتار ہوئے تو پھر آپ کی جگہ کون کام کرے گا؟میں خاموش ہوگیا۔مجھے ذمہ داری سنبھالنے کےلئے اسلئے کہاتھا کہ تقاریب کے حسابات ‘مہمانوں سے خط و کتابت اور اخبارات کےلئے خبریں اور رپورٹیں تیار کرنے کی ذمہ دااری میری تھی ۔ چنانچہ میں رشید صاحب کے ساتھ حیدر آباد ‘اورنگ آباد کے مسلسل دورے کرتارہاتھا ۔خدا کاکرنا ایسا ہوا کہ میں نے رشید صاحب کی ہدایت پر اپنے ادارے کے چند ساتھیوں کے ساتھ اس وقت پربھنی کے کانگریس ایم ایل اے عبدالرحمن خان سے ملاقات کی اورانھیں معاملے کی سنگینی اور نزاکت سے واقف کروایا ۔انھوں نے ہم سب کوساتھ لے کر ایس پی سے نمائندگی کی انھوں نے ایس پی کوبتایا کہ بہادر یار جنگ تقاریب مذہبی ‘سماجی اور ادبی تقاریب ہیں اسلئے شہر میں حالات کے بگڑنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے ۔خواہ مخواہ کچھ افراد ایسی افواہیں پھیلارہے ہیں ۔ اس کے بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا

۔محمدتقی نے بتایا کہ رشید انجینئر صاحب جب کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرلیتے تو پھر اسے پوراکرکے ہی چھوڑتے تھے ۔ان کی ڈکشنری میں ناممکن لفظ تھا ہی نہیں ۔وہ کئی محاذوں پرایک ساتھ کام کرتے تھے ۔ تعلیمی‘مذہبی ‘سیاسی ‘سماجی اور ادبی شعبہ جات میں بے شمار خدمات انجام دیں۔ہمدر د ملت‘غریبوں اور بے سہاروں کے مدد گار تھے ۔مدیراعلیٰ ورق تازہ نے میرتقی میر کے اس شعر کے حوالے سے ان کی شخصیت کی تصویر کشی کی۔

مت سہل ہمیں جانوں پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

محمدتقی نے کہاکہ رشیدانجینئر جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ رب العزت نے رشید انجینئر کی صورت میں پربھنی کوایک انمول تحفہ عطاءکیاتھا۔اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں اور پھرکبھی واپس آنے والے بھی نہیں ہیں ۔ انھوں نے علامہ اقبال کے اس شعر پر اپنی تقریر ختم کی ۔

آئے عشاق گئے وعدئہ فردا لے کر

اب انھیں ڈھونڈچراغِ رُخِ زیبا لے کر

اس جلسہ میں ملک بزمی نے قاضی صغیر معروف گلوکار کے تعلق سے مختصراً تعزیتی کلیمات کہے ۔ ذاکرحسین ہائی اسکول اورکالج کے سابق وائس پرنسپل محمدغوث نے رشید انجینئر کی تعلیمی سماجی اور ادبی خدمات پرسیر حاصل مضمون پڑھا۔ اس موقع پر عرفان الرحمن خاں ‘غلام محمد میٹھو نے اپنی تقاریر میں مرحومین کوخراج عقیدت پیش کیا۔خضراحمدخاں شرر نے تعزیتی نظم پڑھی ۔

آخر میں تحسین احمدخاں نے اپنی پُرمغز تقریر میں مرحومین کی خوبیاں بیان کیں۔انکے لئے دعائے مغفرت کی ۔ خالد سیف الدین نے بڑی عمدگی کے ساتھ جلسہ کی کاروائی چلائی ۔ بڑی تعداد میں اہلیان پربھنی نے جلسہ میں شرکت کی۔

BiP Urdu News Groups