پربھنی :یکم جون۔ (ورق تازہ نیوز)اردو ادب کی معروف ادبی شخصیت ترقی پسندافسانہ نگار وادیب ابراہیم اختر نہیں رہے۔ ابراہیم اختر کو مرحوم لکھتے ہوتے کلیجہ منھ کو آ رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ایسا قلم کار جس نے افسانوی ادب کی خوب آبیاری کی۔انکی تصنیفات میں * پیاسے دل ناولٹ… 1962ء* ہندو فلسفہ ایک مطالعہ 1984ئ۔* سادہ ورق (افسانوی مجموعہ) 1987ئ * آتش سنگ افسانوی مجموعہ 1991ئ* جادہء حرف (مجموعہ مضامین)۔* خاک ہو جائیں گے ہم…. ناول 2011ئ* خوشبو تیرے دیار کی…. افسانوی مجموعہ 2011ئ * سرِ دار ناول 2018ئ۔

حساس طبیعت کے مالک ابراہیم اختر صاحب کو مہاراشٹراسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادیمی کے ریاست کے سب سے بڑے ایوارڈ ولی اورنگ آبادی سے بھی نوازہ گیاتھا۔اردو ادبی دنیا ان کے جانے سے جو خلائ پیدا ہو اسے کسی صورت میں پر نہیں کیا جاسکے گا۔

80سالہ ابراہیم اختر کی نماز جنازہ بروز بدھ 2جون 2021ءکوقادرآباد پلاٹ کے قبرستان میں صبح آٹھ بجے ادا کی جائے گی ۔اورتدفین بھی وہیں عمل میں آئے گی ۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ اوردوبیٹیاں ہیں۔واضح رہے کہ وہ ادارہ ”ورق تازہ“ کے بانیوں میں شامل تھے۔ادارہ ورق تازہ ناندیڑ و پربھنی مرحوم کے پسماندگان کے غم میں برابر شریک ہے ۔اللہ رب العزت سے دعاگو ہے کہ وہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اورلواحقین کو صبرو تحمل دے۔ آمین۔