پربھنی داعش معاملہ: نوجوان محمد رئیس الدین چھ سال بعد جیل سے رہا

14

ممبئی 1/ جولائی:(راست)گذشتہ چھ سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے محمد رئیس الدین کی آج شام تلوجہ جیل سے رہائی عمل میں آئی، جیل سے رہا ہونے کے بعد ملزم نے اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم و دیگر سے ممبئی میں ملاقات کی اور اسے قانونی امداد دیئے جانے کے لیئے شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر گلزار اعظمی نے رئیس الدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے حوصلے کی داد دیتے ہیں کہ انہوں نے این آئی اے کی جانب سے شدید دباؤ اور لالچ کے بعد بھی اقبال جرم نہیں کیا بلکہ اپنے خلاف قائم جھوٹا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

گلزار اعظمی نے کہا جمعیۃ علماء بے گناہوں کا مقدمہ لڑتی ہے اور رئیس احمد کا مقدمہ بھی لڑا جائے گا،ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف این آئی اے نے سپریم کور ٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا ہے لہذا آج ہی ہم نے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کرنے کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فروخ رشید سے رجوع کیا ہے اور پیر تک کیویٹ داخل کردیا جائے گا۔گلزار اعظمی نے اس موقع پر بامبے ہائی کورٹ میں ملزم رئیس احمد کی ضمانت عرضداشت پر بحث کرنے والے ایڈوکیٹ مبین سولکر اور ان کے رفقاء ایڈوکیٹ طاہرہ قریشی، ایڈوکیٹ عبدالرحیم بخاری، ایڈوکیٹ عامر سپاری والا و دیگر کو مبارکباد پیش کی۔رئیس الدین نے بھی اس موقع پر کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے ان کی ضمانت عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ میں التواء کا شکار تھی لیکن انہیں امید تھی کہ جس طرح سے اقبال احمد کی ضمانت منظور ہوئی ہے اسی طرح اس کی بھی ضمانت پر رہائی عمل میں آئے گی اور الحمدللہ ایسا ہی ہوا۔

رئیس احمد نے مزید کہا کہ دوران قید انہیں طرح کی اذیتیں دی گئیں اور جرم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور انہوں نے ٹھان لی ہے کہ وہ مقدمہ لڑیں گے اور مقدمہ لڑنے کے لیئے انہیں حسب سابق جمعیۃ علما ء کا تعاون درکار ہوگا۔ واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471,، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b) 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ا یک حلف نامہ (بیعتنامہ) بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا تھا۔چار ملزمین میں سے دو ملزمین ناصر یافعی اور شاہد خان نے گذشتہ ماہ اقبال جرم کرلیا تھا جس کے بعد انہیں این آئی اے عدالت نے سات سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔