ممبئی 7/ مارچ .مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار محمد شاہد خان ولد محمد قادر خان کو جنرل بیرک سے انڈا سیل میں منتقل کیئے جانے کی درخواست آج دفاعی وکیل ایڈوکیٹ عبدالوہاب خا ن نے خصوصی عدالت سے کی۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے مقرر کیئے گئے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان نے خصوصی این آئی اے عدالت کے جج دنیش کوٹھلیکر کر بتایا کہ ملزم نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیئے لاء کالج میں ایڈمیشن لیا ہے اور جنرل بیرک میں ہونے کی وجہ سے اس کی پڑھائی میں خلل پڑ رہا ہے لہذا ملزم کو جنرل بیرک سے انڈا سیل میں منتقل کیا جائے۔

ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان کی درخواست پر خصوصی این آئی اے جج نے کہا کہ جیل حکام نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ہ قیدیوں کو ایک جیل سے دوسری جیل اور ایک بیرک سے دوسرے بیرک منتقل کرنے کے لیئے ان کی اجازت لینا ضروری ہے لہذا ٓج وہ ملزم کی درخواست پر حکم جاری کرنے سے قاصر ہیں۔ایڈوکیٹ عبدالواہاب خان نے خصوصی جج کو بتایا کہ جیل حکام کاحکم نامہ غیر قانونی ہے کیونکہ زیر سماعت قیدی عدالت کی تحویل میں ہوتے ہیں اور انہیں ایک جیل سے دوسری جیل اور ایک بیرک سے دوسرے بیرک منتقل کرنے کا اختتار صرف عدالت کو ہے، جیل حکام کو زیر سماعت قیدیوں کی منتقلی کا کوئی اختیار نہیں ہے البتہ ان قیدیوں کو جنہیں سزا مل چکی ہے انہیں منتقل کرنے کا اختیار جیل حکام کو ہے۔

ایڈوکیٹ عبدالوہاب خا ن نے عدالت کو مزید بتایا کہ بامبے ہائی کورٹ کے سبکدوش جسٹس بلال نازکی نے اپنے ایک تاریخی حکم نامہ میں تفصیل سے تحریر کیا ہیکہ زیر سماعت قیدیوں کے جیل اور بیرک منتقل کا اختیار صرف عدالت کو ہے، بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کی تصدیق سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی کی تھی۔ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان جیلر سواتھی ساٹھے کے7/11ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملہ، اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ اور مالیگاؤں 2006بم دھماکہ کا سامنا کررہے مسلم قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی تشدد کیئے جانے اور انہیں پھر عدالت کی اجازت کے بغیر ریاست کی مختلف جیلوں میں منتقل کیئے جانے والے واقع کا ذکر کررہے تھے۔ جیلر سواتھی ساٹھے کے ذریعہ ملزمین کی جیل منتقلی کو جمعیۃ علما ء کے توسط سے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس بلال نازکی نے تاریخی فیصلہ صادر کیا تھا جس کے بعد سے جیل حکام کے ذریعہ ملزمین کی غیر قانونی جیل منتقلی پر قدغن لگا تھا۔

ایڈوکیٹ عبدالوہاب خا ن نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ملزم کو جنرل بیرک سے انڈا سیل (ہائی سیکوریٹی سیل جس میں چند ملزمین ہی رہتے ہیں) میں منتقل کرے تاکہ وہ پرسکون طریقے سے پڑھائی کرسکے۔خصوصی جج نے دفاعی وکیل ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان کو بتایا کہ وہ جیل حکام سے جواب طلب کررہے ہیں اور جواب موصول ہونے کے بعد ملزم کی عرضداشت پر فیصلہ صادر کیا جائے گا۔واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزم شاہد خان اور دیگر تین ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعہ 120(B) اور 13,16,18,18(B), 20,38,39 یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور ان پر یہ الزام عائد کیا تھا کہہ وہ آئی ایس آئی ایس اے کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ملزمین کی عدالتی تحویل کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے اے ٹی ایس سے مقدمہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا، فی الحال اس مقدمہ کی نگرانی این آئی اے کر رہی ہے۔