پتنجلی کو حلال سرٹیفکٹ دینے پر جمعیۃ علماء کی وضاحت

41

نئی دہلی :جمعیۃ علماء ہند حلال ٹرسٹ کے سکریٹری مولانا نیاز حمد فاروقی نے پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کو حلال سرٹیفکٹ دینے سے متعلق اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’حلال ٹرسٹ جمعیۃ علماء ہند‘ دنیا بھر میں حلال سرٹیفیکیشن کے ممتاز اداروں میں سے ایک ہے۔ پچھلے چند دنوں سے ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا میں ایسی خبریں گردش کررہی ہیں کہ جمعیۃ علما ہند حلال ٹرسٹ نے گائے کے پیشاب یاکسی ایک ایسے پروڈکٹ کی تصدیق کی ہے جس میں گائے کا پیشاب ملایا جاتا ہے۔

اس خبر میں ایک کمپنی یعنی پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کا نام لیا جارہا ہے۔ ہم یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کے پلانٹ کو حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے قبل حلال آڈٹ کے تمام طریقہ کارکا اطلاق کیا گیا ہے اور مناسب تحقیقات بروئے کار لائی گئی ہیں۔ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کم از کم دو مسلم حلال آڈیٹرز جن میں فوڈ ٹکنالوجسٹ بھی شامل ہیں ،نے پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کے مختلف پلانٹس کا معائنہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم ان کے عملے کو بھی حلال امور کی تعمیل سے متعلق تربیت دیتے ہیں۔یہ سارے پلانٹس اسلامی اصولوں کے پابند ہیں جس سے ذرہ انحراف نہیں ہوتا۔ ہم یہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ مصدقہ مینوفیکچرنگ سائٹ پر کسی بھی صورت میں گائے کے پیشاب کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے، نہ ہی گائے کا پیشاب پلانٹس کے کسی بھی حصے میں ذخیرہ کیا گیا ہے۔

براہ کرم اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی بھی بڑی کمپنی کے پاس متعدد پروڈکشن سائٹس ہوتی ہیں۔ پتنجلی آیوروید لیٹیڈ بھی کسی علیحدہ پلانٹ میں گائے کے پیشاب پر مبنی مصنوعات تیار کرتا ہے،جن کا ہم نے کبھی دورہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی تصدیق کی۔ تاہم شفافیت کے مقصدسے، انھوں نے ان تمام مصنوعات کی تفصیلات ہمیں دی ہیں جو حرام اشیا / گائے کے پیشاب پر مبنی ہیں اور ہمارے پاس ان کی فہرست بھی موجود ہے(لیکن کبھی ان کی تصدیق نہیں کی)۔

سرٹیفیکٹ میں حلال سرٹیفیکیشن کا دائرہ کار، مصنوعات کی تفصیلات اور مینو فیکچرنگ ایڈریس وغیرہ کا واضح طور پر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ لہذا تصدیق کردہ مصنوعات کے بارے میں کوئی الجھن نہیں ہے کیونکہ غیر حلال مصنوعات کسی علیحدہ احاطے میں تیار کیے جاتے ہیں۔مزید وضاحت کے لیے ہم یہ مثال پیش کرتے ہیں کہ کوئی بھی مشہور برانڈ یا ایم این سیز حلال اور حرام دونوں مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ حلال صارفین تک حلال پروڈکٹ پہنچانے کے لیے ان کو حلال سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے دنیا بھر میں تسلیم شدہ حلال سرٹیفیکیشن باڈیز کام کرتے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ کمپنی اپنی کسی دوسری سائٹ پر کچھ غیر حلال مصنوعات بھی تیار کرتی ہے ہم کمپنی کو حلال صارفین میں حلال مصنوعات کو فروغ دینے سے روک سکتے۔مثال کے طور پر بھارت میں ایک معروف کمپنی غیر حلال اشیاء (تمباکو کی مصنوعات) اور کھانے پینے کی اشیا (آٹا / گندم کا آٹا) دونوں تیار کرتی ہے۔

کیا ہم صرف اس وجہ سے آٹا / گندم کی تصدیق یا کھپت کو روک سکتے ہیں کیونکہ یہی کمپنی کسی دوسرے پلانٹ پر تمبا تیار کرتی ہے؟ بالکل نہیں۔ اسی طرح ہم نے پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کی کچھ مصنوعات کو سند دی ہے جو صرف حلال مصنوعات کے لیے مخصوص پلانٹ پر تیار کیے جاتے ہیں،جہاں کم از کم ایک مسلمان ملازم ہوتا ہے جو متعلقہ یونٹوں کے ذریعہ حلال طریقہ اپنانے کی نگرانی کرتا ہے۔اگر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ ہم نے کسی ہندو کی ملکیت والی کمپنی کو سند دی ہے تو یہ واضح کردیں کہ ہم ذات اور مذہب سے قطع نظر ایسی کسی بھی کمپنی کی تصدیق کرتے ہیں جو حلال پروڈکٹ تیار کرے۔

جب تک ان کی مصنوعات حلال سے متعلق گائیڈ لائن کے مطابق تیار ہوتے ہیں ہمیں کسی کو بھی حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مزید یہ کہ جب ہم کسی غیر مسلم کی ملکیت والی کسی کمپنی (XYZ) کا دورہ کرتے ہیں تو ان کی تصدیق کے علاوہ ہم ایک قرآن مجید کی آیت “حلالا طیبا”اور اس کی اہمیت کا پیغام پہنچاتے ہیں اور ساتھ ہی شریعت میں حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہماری طرف سے تصدیق شدہ ہر کمپنی کو حلال دستاویزات کے پروسیس پر عمل کرنا ہوتا ہے جس میں قانونی طور سے ہمارے ضوابط سے متعلق پابندی کرنے والا دستاویز (حلف نامہ) بھی شامل ہے جس میں سرٹیفیکیشن کی مدت کے دوران مصنوعات کی تیاری شرعی امور کے تحت کیے جانے کا عہد ہوتا ہے۔

ہماراآڈٹ کا طریقہ نہایت مضبوط اور مستحکم ہے ، انڈونیشیا،مالیزیا، امارات ترکی، سعودی عرب، مصر قطر اور درجنوں ممالک کی حکومتوں کے ہم معتمد ھیں، ان کی آڈٹ ٹیم بھارت آتی ہے اور ان کے ساتھ مل کر ہم ہندوستانی کمپنیوں کا آڈٹ کرتے ،اس میں پتنجلی بھی شامل ہے۔ ان میں بین الاقوامی حکام کی طرف سے منظوری کے دور میں بھی مسلسل نگرانی ہو تی ہے۔ایک لابی ہے جو حلال اور حلال کی پیداوار کے خلاف ہے، لہذا پتنجلی کی تصدیق کرکے ہم یہ پیغام بھی بھیج رہے ہیں کہ حلال مصنوعات ہر کسی کے لئے ہیں نہ کہ کسی خاص برادری کے لیے۔ مزید برآں ہم سیکڑوں ایم این سی اور دیگر کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ حلال مصنوعات تیار کریں اور اس کی مارکیٹنگ کریں۔