تھانے (آفتاب شیخ) ایک صحافی جو آپ کی پیٹھ تھپتھپاتا ہے تو وقت آنے پر آپ کا کان بھی پکڑنے کا ھق رکھتا ہے اسکی ان باتوں کو سنجیدگی یا ذاتی طور پر نہیں لینی چاہےت ایسا میرا ماننا ہے اس طرح کا بیان سامنا میں سنجے راوت کی جانب سے انیل دیشمکھ پر لکھے گئے ایک مضمون کے جواب میں دیتے ہوئے کابینی وزیر برائے ہاوسنگ ڈاکٹر جتیندر

اوہاڈ نے پیش کیا انھوں نے مزید کہا ایک صحافی سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے سکھانے کو ملتا اور بہت کچھ تجربات حاصل ہوتے ہیں اس کی ایک بات بات پر ہم سنجیدہ ہوتے رہے اور الگ نظریہ سے دیکھنے لگے تو پھر مشکل تو پیدا ہوگی۔

جتیندر اوہاڈ نے اس موقع پر کہا کہ آج برسوں سے میں دیکھتا آرہا ہوں کہ کئی لیککھ، رائٹر، صحافی جو شرد پوار پر طنزر و مزاح کے مضامین بھی لکھتے ہیں اور انکے ساتھ چائے بھی پیتے دیکھے گئے ۔

صحافیوں کا لیکھ ہمیں سیکھ دیتا ہے ہمیں اسے ذاتی دشمنی کے طو رپر نہیں دیکھنا چاہے بلکہ اس کے لکھنے کا مقصد و نظریہ کیا ہے اس پر غور کرنا چاہے۔ مہاراشٹر سرکار کے متعلق انھوں نے کہا کہ ہمارے کماندڑ و جنرل اودھو ٹھاکرے ہیں جو کہ سی ایم ہیں مہاراشٹر سرکار کا ہر فیصلہ شرد پوار، سی ایم، اور کانگریس کے بڑے نیتا و کابینہ کا لیا گیا فیصلہ ہوتا ہے اس لئے یہ سرکار مستحکم طریقہ سے چل رہی ہے۔
تصویر : فائل فوٹو